ممبئی، یوں تو جمعیتہ علماءہند قانونی امداد کمیٹی نے ابتک 14 لوگوں کو پھانسی پر چڑھنے سے بچایا ہے لیکن اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو جمعیتہ علماءکی کوششوں سے مقدمہ سے بری ہونے والے 285 ملزمین کو پھانسی اور عمر قید کی سزا سے بچایا گیا ہے کیونکہ دہشت گردانہ معاملات میں ملزمین پر جن دفعات کا اطلا ق ہوتا ہے ان میں ان کی سزا پھانسی یا عمر قید ہوسکتی ہے ۔ ان 285 ملزمین کے مقدمات منظم طریقے سے اور قابل وکلاءکی نگرانی میں لڑے نہیں جاتے تو انہیںبھی سزا ہوسکتی تھی، مثال کے طور پر 26/11 ممبئی حملہ مقدمہ میں پاکستانیوں نے حملہ کیا تھا لیکن دو ہندوستانی مسلمان فہیم انصاری اور صباح الدین کو بھی ماخوز کیا گیا تھا لیکن ٹرائل کورٹ نے ہی جمعیتہ علما کے وکیل مرحوم شاہد اعظمی کی کامیاب جرح پر دونوں کو باعزت بری کیا جس کے بعد حکومت نے ان کے مقدمہ کو سپریم کورٹ تک لیکر گئی جہاں سے اسے ناکامی ملی ۔
ملک دشمنی اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کا سامنا کررہے ملزمین کی پیروی کے لئے جمعیتہ علماءہر سال اس مد میں ایک خطیر رقم صرف کرتی ہے یہ رقم جمعیتہ علماءکو اہل خیر حضرات سے حاصل ہوتی ہے، اہل خیر حضرات کے تعاون کی وجہ سے ہی جمعیتہ علماءاتنا بڑا کام کر پارہی ہے ۔ جمعیتہ علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے بزرگ سربراہ گلزار اعظمی کہتے ہیں کہ صد جمعیتہ علماءہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیتہ علماءتقریباً 600مسلم نوجوانو ں کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے جس میں پھانسی کی سزا پانے والے 75 ملزمین اور عمر قید کی سزا پانے والے 125 ملزمین شامل ہیں۔
انہوں نے قانونی امداد کمیٹی کی کارگذاری بتاتے ہوئے کہا کہ جمعیتہ علماءکی کوششوں سے ابتک 285 ملزمین کو دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کرایا گیا جبکہ 143ملزمین کی ضمانت پر رہائی کرائی گئی۔نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک جمعیتہ کے زیر نگرانی جاری مقدمات کی تعداد 95 ہے ۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ چند سالوں سے جیل سے قیدیوں کو رہا کرانے کے لئے کئی ادارے اور تنظیمیں سرگرم دکھائی دے رہی ہیں لیکن جو کام جمعیتہ علماءلے کر چل رہی ہے اس کا کوئی ثانی نہیں ہے ، ہم ایسے لوگوں کے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں جن پر دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں اور یہ الزامات اگر ثابت ہوجائیں توملزمین کو عمر قید سے لیکر پھانسی کی سزا تک ہوسکتی ہے ۔ قوم مسلم پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا جو جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے اس کا دفاع کرنے میں جمعیتہ علماءسرگرم عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی جیسے مقدمات کی پیروی کرنا کوئی آسان کا م نہیں ہے ، اکثر کامیابی ملنے میں سالوں لگ جاتے ہیں اور کامیابی کے پیچھے کی کوششیں اکثر چھپ جایا کرتی ہیں لیکن ہم یہ کام خالص اللہ کی رضا کےلئے اور بے گناہوں کو جیلوں کی سلاخوں سے آزاد کرانے کے لئے کرتے ہیں۔گذشتہ دنوں ہی جمعیتہ علماءکو اس وقت ایک بڑی کامیانی حاصل ہوئی جب جئے پور انڈین مجاہدین مقدمہ میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے چار مسلم نوجوانوں کوہائی کورٹ نے بری کردیا، ملزمین سیف الرحمن انصاری اور محمد سیف کو جمعیتہ علماءنے قانونی امداد فراہم کی تھی ۔اسی طرح شہباز احمد کو بھی قانونی امداد فراہم کی گئی تھی جسے نچلی عدالت نے مقدمہ سے بری کردیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل داخل کردی تھی، شہباز احمد کی جانب سے ہی سپریم کورٹ آف انڈیا میں کیویٹ بھی داخل کیا گیا ہے۔اسی طرح سپریم کورٹ آف انڈیا نے تبدیلی مذہب معاملے میں مولانا کلیم صدیقی کے ساتھ گرفتار ملزم عرفان خواجہ خان کی ضمانت منظور کی جس کے بعد اس کی جیل سے رہائی عمل میں آئی ، عرفان خان اس مقدمہ کا پہلا ملزم ہے جس کی ضمانت منظور ہوئی تھی ۔ عرفان خواجہ خان کی ضمانت کو بنیاد بناکر لکھنؤ ہائی کورٹ نے پہلے ڈاکٹر فراز کی ضمانت منظور کی پھر مولانا کلیم الدین صدیقی کی بھی ضمانت منظور ہوئی، ڈاکٹر فراز اور مولانا کلیم صدیقی کے مقدمات انہوں نے خود لڑے لیکن ان کی ضمانت منظور ہونے میں عرفان کے آرڈر نے اہم کردار ادا کیا، عرفان کی ضمانت نے دیگر ملزمین کی رہائی کے لئے راہیں ہموار کردی ہیں۔
اسی طرح ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے رکن ہونے کے سنگین الزامات سے دہلی کی خصوصی عدالت نے مولانا عبدالرحمن کٹکی اور ان کے پانچ ساتھیوں کو بری کردیا جبکہ لکھنو ہائی کورٹ نے یو پی القا عدہ مقدمہ میں گرفتار تین مسلمانوں محمد مستقیم ،محمد شکیل اور محمد معید کی ضمانتیں منظور کرلیں۔ ، دہلی انڈین مجاہدین مقدمہ میں ماخوذ عبدالواحد صدی بپا کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے مقدمہ سے ڈسچارج کردیا، عبدالوحد کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا،یہ وہ حالیہ تازہ کامیابیاں ہیں جس کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ایک جانب جہاں جمعیتہ علماءنے مسلم نوجوانوں کے مقدمات لڑنے کا بیڑا اٹھایا ہے وہیں دوسری جانب بھگوا دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائی کررہی ہے ، مالیگاؤں 2006اور 2008 بم دھماکہ معاملے میں بطور مداخلت کار نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک کوشش کی جس کی وجہ سے این آئی اے کی جانب سے کلین چٹ دیئے جانے کے باوجود سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، میجر رمیش اپادھیائے ، سمیر کلکرنی سمیت دیگر ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج نہیں ملا اور انہیں مقدمہ کا سامنا کرنے پر مجبور کیا گیا ، حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے کرنل پروہت کی مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت کومسترد کردیا ، بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بروقت مداخلت کی وجہ سے بھگوا ملزمین کو مقدمہ کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔اسی طرح رام نومی کے موقع پر پھوٹ پڑنے والے فرقہ ورانہ فسادات کے مقدمات کی بھی پیروی کی جارہی ہے ، گذشتہ دنوں ہی مہاراشٹر کے شہر بیڑ کے قصبہ کیج سے گرفتار کیئے گئے 34 مسلمانوں کی نچلی عدالت سے ضمانت منظور کرواکر انہیں جیل سے رہا کرایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سزا یافتہ ملزمین کی پیرول اور فرلو پر رہائی کی کوشش بھی کی جارہی جس کی وجہ سے عمر قید کی سزا پانے والے ایک درجن سے زائد ملزمین کو سپریم کورٹ سے پیرول پر رہائی نصیب ہوئی۔اسی طرح مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کو جیل میں ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے نیز تعلیم کے تئیں بیدار ملزمین کی پڑھائی کا خرچ کا بھی برداشت کیا جاتا ہے اسی طرح ہر سال ذہین اور نادار طلبہ میں تعلیمی وظائف دیئے جاتے ہیں، طبی امداد کے لئے بھی بجٹ مختص ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت اہم مقدمات عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون مقدمہ، لو جہاد قانون مقدمہ، غیر قانونی بلڈوزر کارروائی مقدمہ اورمتعصب میڈیا ، مرکز نظام الدین مقدمہ، کثرت ازدواج مقدمہ، نکاح حلالہ مقدمہ و دیگر اہم مقدمات میں وہ بذات خود مدعی بنے ہیں اور یہ سب مقدمات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔مقدمات کی پیروی کرنے کے علاوہ جمعیتہ علماءنے مہاراشٹر کے شولاپور شہر میں6 ایکڑ قطعہ اراضی خریدی ہے جہاں دینی و عصری تعلیم کے لئے ایک تعلیمی کیمپس تعمیر کیئے جانے کا منصوبہ ہے، اس عمارت میں لڑکے اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ رہائشی سہولیات مہیا کرانے کا منصوبہ ہے ، انشاءاللہ کیمپس کی تعمیر بہت جلد شرو ع کی جا ئے گی جس کے لئے مخیر حضرات کا خصوصی تعاون درکار ہے۔












