ماسکو(ہ س)۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں "خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیا … اور ساتھ ہی پورے خطے پر تباہ کن اثرات” سے خبردار کیا۔جمعے کے روز کریملن کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پوتین نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک رابطے کیے۔روسی ایوان صدارت کا کہنا تھا کہ پوتین نے زور دیا کہ روس ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے جن سے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پوتین نے نیتن یاہو کو نئی کشیدگی سے بچنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔ انھوں نے خطے پر تباہ کن اثرات کے خطرے سے خبردار کیا۔ روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی جوہری معاملے کا حل صرف سیاسی اور سفارتی طریقوں سے تلاش کیا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ادھر ایرانی ایوانِ صدارت کے مطابق، پزشکیان نے پوتین کو ایک بار پھر یقین دہانی کرائی کہ تہران کا جوہری ہتھیار تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ اس حوالے سے بین الاقوامی اداروں کو ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔اس سے قبل جمعے کے روز روسی وزارتِ خارجہ نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور انھیں "ناقابل قبول” اور "بے بنیاد” قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ایک خود مختار ریاست، جو اقوام متحدہ کی رکن ہے، اس کے شہریوں، پْرامن شہروں، جوہری تنصیبات اور توانائی کے مراکز پر بلا جواز حملے ہرگز قابل قبول نہیں۔روسی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس اس اچانک بڑھتے تناؤ پر فکرمند ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔ کریملن نے اسی ہفتے کے اوائل میں ایران کے "پْر امن جوہری پروگرام” کے حق کا دفاع بھی کیا تھا۔ماسکو نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایرانی جوہری مسئلے کا حل صرف سفارتی طریقے سے ممکن ہے اور دونوں فریقین کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔












