آج زندگی کا کون سا شعبہ ہے ، جہاں قطار میں لگے بغیر کوئی کام ہو جاتا ہو۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ میرا کون سا کام بغیر قطار میں لگے ہوا ہے۔ ہاں ! یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں قطار میں لگنا کب سے شروع کیا۔ میں جب گائوں سے ایک کیلو میٹر دور مکتب جاتا تھا۔ ہمارے ساتھ گائوں کے اور دوست بھی ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ مکتب پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو مولوی صاحب قطار میں کھڑا کر دیتے۔ اور پھر باری باری سے ہم لوگوں کی خاطر تواضع تنبیہ الغافلین سے کر تے تاخیر کی و جہ یہ نہیں کہ ہماری مائیں ہم لوگوں کووقت پر ناشتہ بنا کر نہ دیتی تھیں ، بلکہ وجہ یہ ہو تی کہ راستے میں ملنے والے بیر اور امرود کے درختوں پر ڈھیلے اور پتھر پھینکتے تاکہ دو چار بیر اور امرود ہم لوگوں کے ہاتھ لگ جا ئیں۔ پیڑ میں پھل لگے ہوں اور اس پر پتھر نہ چلے یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ بشیر بدر نے شاید اسی پس منظرمیں یہ شعر کہا ہے۔
جہاں پیڑ پر چار دانے لگے
وہیں پتھر وں کے نشانے لگے
قطار میں لگنے کی دوسری وجہ یہ ہو تی کہ جس بچے کو سبق یاد نہ ہوتا۔ مولوی صاحب قطار میں کھڑا کر دیتے۔ ان خوش نصیب بچوں میں میرا بھی نام ہوتا۔ اور میں بھی قطار میں لگ جاتا۔
جب کچھ بڑا ہوا تو مکتب سے نکل کر اسکول اور پھر کالج میں آیا۔ وہاںکچھ دوستوں نے کہا ، لائن ماروگے ؟میں نے کہا۔ یہ کیا ہوتا ہے۔ دوستوں نے سمجھا یا تو میں نے حامی بھر لی۔ مگر کچھ دوست جو بہت اسمارٹ بنتے تھے۔ ان لوگوں نے کہا اس کو کون لائیک (Like)کرے گی۔ دیکھتے نہیں، اونٹ کی طرح گردن ناک ہیمالہ پہاڑ گال دھنسے ہوئے یہ کوئی صورت ہے ؟ مجھے ان لوگوں نے خود سیا لگ کر دیا۔ میں بھی تہیہ کر لیا کہ میں اپنے ان عیبوں کو جلد دور کر لوں گا۔ ایک بزرگ جو مفت میں مشورہ دیتے تھے۔ وہ جس کو بھی مشورہ دیتے وہ اس میں کامیاب ہو ہی جاتا۔ میں نے بزرگ سے کہا ، محترم مجھے ایک مشورہ دیجئے۔ انہوں نے کہا ، پہلے مسئلہ بتائو تب تو مشورہ دوں گا۔ میں نے کہا میرا قد بہت لمبا ہے ناک لمبی ہے گال دھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سب عیب ایک ساتھ دور ہو جائیں ایسا نسخہ بتائیے۔ انہوں نے کافی غور کر نے کے بعد کہا ایک نسخہ ہے ، جو ایک ہی تیر سے تین نشانے لگ جائیں گے۔ میں نے خوشی سے اچھلتے ہوئے پوچھا ، جلدی بتائیے ، وہ نسخہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا تم عشق کرنا شروع کر دو ، اور چھپ چھپا کر نہیں ، بلکہ دن کے اجالے میں تاکہ تمہارا عشق پوشیدہ نہیں رہے۔ تمہارا عشق جتنا عیاں ہوگا تم اتنے ہی جلد کامیابی کی طرف آئو گے۔ اگر چھپ کر کروگے تو کامیابی ملے گی مگر وقت کا فی بر باد ہوگا۔ اس لئے تم ا?ج ہی سے اس کام کا شوبھ آرمبھ کر دو۔
میں نے کالج کی ہی ایک لڑکی سے عشق کا اظہار کر دیا۔ مجھ پر وہ آگ بگولہ ہو گئی ، میںنے بس اتنا ہی کہا تھا کہ
چودہویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو
اس نے اپنے دوستوں سے میری وہ مرمت کرائی کہ مجھے نانی یا د آگئی۔ میں جب اسپتال پہنچاتو وہاں مجھے قطار میں کھڑا کر دیا گیا ، پوچھا تو پتہ چلا کہ اندر دو عاشقوں کی مرہم پٹی ہو رہی ہے۔ جب وہ لوگ نکلیں گے تب آپ کا نمبر آئے گا۔ دونوں لڑکے اندر سے نکلے تو میںحیران وششدر رہ گیا۔ وہ دونوںکوئی اور نہیں میرے دوست تھے۔ اپنا معاملہ تو سمجھ میں آرہا تھا۔ مگر ان کے معاملات پر غور کر تا ہوا۔ اندر گیا مرہم پٹی ہوئی اور میں سیدھا بزرگ کے پاس گیا۔ اورمیں نے اپنی شکل دیکھائی ، تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے۔ مجھے ان کی خوشی کا راز سمجھ میں نہ آیا اور میں نے دل ہی دل میں خوب بددعائیں دی ، اور کہا آپ نے میری حالت ایسی کرا دی اور آپ کو ہنسی آ رہی ہے۔ انہوں نے کچھ کہا نہں سیدھے آئینہ لا کر مجھے دیا اور کہا۔ دیکھو یہ ہے نسخہ کیمیا -ایک تیر سے تین نشانے۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کون سا طریقہ ہوا کسی کو ذلیل کرنے کا ؟ انہوں نے کہا۔ میں نے تم کو رسوا کر نے کے لیے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ تمہارے تینوں عیب ایک ساتھ ختم ہو گئے ، گال پھول گئے۔ ناک نیچی ہو گئی اور قد بھی پست ہو جائے گا۔ میں نے کہا۔ وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا جب کالج جائو گے اور دوستوں کو اس کی خبر ہو گی تو تمہاری ناک جو کھڑی تھی کہ تم بہت شریف ہو تمہاری ناک خود بہ خود پست ہو جائے گی اور شرم کے مارے تم اتنے پانی پانی ہو جائو گے کہ سماج میں تمہارا قد کم ہو ہی جائے گا۔ کوئی ڈاکٹر اس سے اچھا نسخہ لکھ ہی نہیں سکتا۔ قطار میں لگنے کے لائق بننے کا مجھے تلخ تجربہ ہو گیا۔
میں نے ایک بزرگ سے مشورہ کیا کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ سب لوگ ہم سے ملنے کے لئے بے تاب ہوں مجھ سے ملنے کے لئے لوگ قطار میں لگنا شروع کر دیں۔ انہوں نے کہا ، جب تک انسان کے اندر کوئی کمال نہیںہوتا۔ کوئی کسی سے کیوں ملے گا؟ اپنے اندر کمال پیدا کرنا ہوگا۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھو تو وہاں یہی ملے گا۔ میںنے کہا ، میں اپنے اندر کون سا کمال پیدا کر سکتا ہوں۔ کھلاڑی تو بن نہیں سکتا۔ ہیرو بن نہیں سکتا۔ بڑا رہنما بن نہیں سکتا۔ شاعر و ادیب بن نہیں سکتا۔ بزرگ نے کہا ، ایک کمال اپنے اندر پیدا کر سکتے ہو۔ تم فائٹر Fighterبن سکتے ہو۔ اس میں زیادہ علم کی بھی ضرورت نہیں۔ بازو میں طاقت ہو نی چاہئے۔ میں نے کہا بازو میں طاقت پیدا کر لوں گا۔ بزرگ نے کہا ، تو بس تم ا?ج سے ہی اس کی شروعات کر دو۔ میں نے کہا۔ یہ بالکل چالو آئیٹم Itemہے۔ بات بات پر تو لوگ فائیٹنگ شروع کر ہی دیتے ہیں۔ میں بھی اب اس پر زیادہ دھیان دوں گا۔
گھر آیا بیگم نے کہا ، آج کل کہاں رہتے ہیں۔ جو صبح سے جاتے ہیں تو شام کو ہی لوٹتے ہیں۔ بیگم کی اتنی بات ختم کر تے کرتے میں کپڑا تبدیل کر چکا تھا۔ بیگم اتنی بات ختم کر کے باورچی خانے کی طرف جانے لگی۔ اس کی پشت ٹھیک میرے نشانے پر تھی۔ پشت پر ایک فائٹ مارا وہ کراہ کر گرتے گرتے بچی۔ میں نے اسے سنبھالا اسے کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا۔ کہ اچانک میں نے ایسا کیوںکیا۔ میں نے ہی کہا۔ زور سے لگ گیا کیا ؟ جان من ، میں اصل میں فائٹر بن رہا ہوں۔ مجھ پر فائٹر بننے کا جنون سوار ہے۔ اس لئے میں نے پہلی پریکٹس تم پر ہی کر دی۔ بیگم نے کہا فائٹر بننے کے لیے تمہیں استاد کی ضرورت توپڑے گی ہی ابھی میں چاروں بھائیوں کو بلاتی ہوں۔ اچھی طرح فائٹ چلانا سکھا دیں گے۔ میں نے کہا نہیں! نہیں! اتنی جلدبازی نہیں ہے ان لوگوں کو ابھی مت بلائو وقتاً فوقتاً میں تم پر ہی پریکٹس کر لوں گا۔ جب دال میں نمک زیادہ پڑ جائے گا یا سبزی میں مرچ زیادہ ہو جائے گی بلا سبب نہیں اسباب میں خود تلاش کر لوں گا۔ تب تم پر پریکٹس کروں گا۔
ایک جنازہ جا رہا تھا جنازہ کے پیچھے ایک کتا تھا اس کے پیچھے بہت سے لوگ قطار میں چل رہے تھے۔ میں بھی بغیر سوچے سمجھے قطار میں لگ گیا۔ مگر تحقیق کر تا رہا کہ آپ لوگ کیوں قطا ر میں لگے ہیں ؟ لوگوں نے کہا جس عورت کی موت ہوئی ہے اسی کتے کے کاٹنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس لئے اس کتے کو لینے کے لیے لوگ قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ میںنے کہا نہیں ابھی مجھے اس کتے کی ضرورت نہیں ابھی مجھے اپنی بیگم کی ضرورت ہے۔ مجھے فائٹر جو بننا ہے۔
بیگم گیس کا سلینڈر لیکر قطار میں کھڑی ہوں گی اور میں یہاں مضمون لکھ رہا ہوں۔ ہم بھی کتنے پاگل ہیں آپ بھی کسی قطار میں لگے ہیں تو آج کا اخبار پڑھئے تاکہ وقت پاس ہو اور آپ کا نمبر بھی جلد آجائے۔ اور قطار سے راحت مل جائے۔ میں چلا قطار میں لگنے۔ ارے یہاں تو بہت لمبی قطار ہے۔ لمبی ہے تو کیا ہوا۔ سلنڈر لینا ہے تو قطار میں تو لگنا ہی پڑے گا۔ پیچھے سے نسوانی آواز آئی۔ پلٹ کر دیکھا تو وہی لڑکی تھی جس نے میری مرمت کر وائی تھی۔ مگر وہ اب ایک عورت بن چکی تھی۔ میں نے بیگم کے کان میں گھر جانے کو کہا – اور میں سلنڈر کے سامنے ہی قطار میں لگ گیا۔











