سینچورین، (یو این آئی) کوئنٹن ڈی کاک کی شاندار طوفانی سنچری اور ریان رِکلٹن کی تیز رفتار نصف سنچری کی بدولت جنوبی افریقہ نے سپر اسپورٹ پارک، سینچورین میں کھیلے گئے ہائی اسکورنگ دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز کو بآسانی شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔ویسٹ انڈیز نے شمرون ہیتمائر اور شیرفین ردرفورڈ کی جارحانہ نصف سنچریوں کی مدد سے 4 وکٹ پر 221 رن کا بڑا اسکوربنایا، تاہم کوئنٹن ڈی کاک نے صرف 49 گیندوں پر 115 رن کی شاندار اننگ کھیلی، جس میں 10 چھکے شامل تھے، جبکہ ریان رِکلٹن نے 36 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 77 رن بنائے۔ جنوبی افریقہ نے ہدف محض 17.3 اوور میں حاصل کر لیا اور ایک مقابلہ باقی رہتے ہوئے ٹی 20 سیریز جیت لی۔ڈی کاک نے اننگ کے آغاز ہی میں تعاقب کی رفتار طے کر دی اور ویسٹ انڈیز کے تیز گیندبازوں کے خلاف پل، فلک اور بلند شاٹس کی مدد سے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ چوتھے اوور میں روسٹن چیز کا اسپن اوور بھی مہنگا ثابت ہوا، جہاں ڈی کاک نے ایک چھکا اور ایک چوکا لگایا۔ تسلسل کی کمی اور بلے بازوں کے لیے سازگار پچ نے ویسٹ انڈیز کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔ جنوبی افریقہ نے پاور پلے میں 70 رن بنائے، جس میں ڈی کاک نے صرف 21 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ایڈن مارکرم کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد رِکلٹن دوسرے اینڈ پر جلد ہی سیٹ ہو گئے۔ فیلڈ پھیلنے کے باوجود دونوں بلے باز آسانی سے گیپس نکالتے رہے اور درکار رن ریٹ کو قابو میں رکھا۔ ابتدائی شراکت داری نے درمیانی اوورز میں مزید رفتار پکڑی، رِکلٹن جارحانہ ہوتے گئے جبکہ ڈی کاک بھی بڑے شاٹس کھیلتے رہے، جس کے نتیجے میں جنوبی افریقہ نے آدھی اننگ کے اختتام پر 1 وکٹ پر 122 رن بنا لیے۔بارہواں اوور خاصا مہنگا ثابت ہوا، جس میں ڈی کاک نے جیڈن سیلز کی گیندوں پر دو چھکے اور رِکلٹن نے دو چوکے لگائے۔ اس 25 رن کے اوور کے بعد اسکور 150 سے آگے نکل گیا۔ رِکلٹن کے 25 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد ڈی کاک نے جیسن ہولڈر کی گیند پر چھکا لگا کر اپنی سنچری مکمل کی۔ دونوں بلے بازوں نے صرف 72 گیندوں پر 162 رن کی شاندار شراکت قائم کی۔جب ڈی کاک آخرکار عقیل حسین کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوئے، تب تک مقابلہ جنوبی افریقہ کے مکمل کنٹرول میں آ چکا تھا۔ رِکلٹن نے چوکوں کی برسات کرتے ہوئے اننگ کا اختتام کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ فتح میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔اس سے قبل، ویسٹ انڈیز نے بلے بازی کرتے ہوئے پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور برینڈن کنگ کی جارحانہ پاور پلے اننگ کی بدولت تیز آغاز کیا۔ کنگ نے خاص طور پر اینرک نورکیا کو نشانہ بنایا اور ان کے پہلے اوور میں 24 رن بنا ڈالے۔ شائی ہوپ کے مارکو یانسن کی گیند پر جلد آؤٹ ہونے کے بعد شمرون ہیٹمائر نمبر تین پر آئے اور ابتدا ہی سے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے رفتار برقرار رکھی، جس سے ویسٹ انڈیز پاور پلے میں 1 وکٹ پر 68 رن تک پہنچ گیا۔کنگ اور ہیٹمائر نے دوسری وکٹ کے لیے 126 رن کی شراکت قائم کی اور درمیانی اوورز میں شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ اینرک نورکیا، جو اپنے دوسرے اوور کے لیے واپس آئے، 22 رن دے بیٹھے، جس کے نتیجے میں 10 اوور کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے 115/1 کا اسکور بنایا۔کنگ نے کلین ہٹنگ کو اسمارٹ پلیسمنٹ کے ساتھ جوڑا، تاہم وہ نصف سنچری سے ایک رن قبل آؤٹ ہو گئے، جبکہ ہیٹمائر مزید پراعتماد نظر آئے اور 29 گیندوں میں نصف سنچری بنائی۔ بعد ازاں جنوبی افریقہ نے کیشو مہاراج کے ذریعے کچھ واپسی کی، جنہوں نے ایک عمدہ اسپیل میں روومین پاول اور ہیٹمائر دونوں کو آؤٹ کیا، لیکن تب تک نقصان ہو چکا تھا۔جب اننگ کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ پیدا ہوا تو ردرفورڈ نے وہ آخری تیز رفتاری فراہم کی جس کی ویسٹ انڈیز کو تلاش تھی۔ انہوں نے ڈیتھ اوورز میں مسلسل زوردار شاٹس کھیلے، مس یارکر اور شارٹ گیندوں کو باؤنڈری سے باہر بھیجا اور محض 24 گیندوں میں نصف سنچری بنائی، جبکہ روماریو شیفرڈ نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اینرک نورکیا کا آخری اوور نہایت مہنگا ثابت ہوا، جس میں انہوں نے 15 رن دیے، جبکہ اس سے قبل 18ویں اوور میں مارکو یانسن نے 22 رن دے ڈالے تھے۔ویسٹ انڈیز نے 220 رن کا ہندسہ عبور کرتے ہوئے بڑا اسکور بنایا، جو جنوبی افریقہ کے سامنے ایک مشکل ہدف دکھائی دے رہا تھا، تاہم ڈی کاک اور رِکلٹن نے اسے نہایت آسان بنا دیا۔












