سید پرویز قیصر
دیوار کے نام سے مشہور راہول دڑاوڈ اپنی53ویں سالگرہ آج منائیں گے۔ وہ11 جنوری1973 کواندورمیں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ہندوستان کیلئے164ٹسٹ ، 344 ایک روزہ بین الاقوامی میچ اور ایک ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچ کھیلا۔انگلینڈ کے خلاف لارڈز کے تاریخی میدان پر سورو گنگولی کے ساتھ جون 1996 میں اپنے ٹسٹ کیریئرکا آغازکرنے والے راہول ڈراوڈنے اپنا آخری ٹسٹ میچ آسڑیلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں جنوری2012 کو کھیلا تھا۔ سورو گنگولی نے تو لارڈز میں سنچری اسکورکرلی تھی مگر راہول ڈراوڈ پانچ رن کی کمی کی وجہ سے ایسا کرنے میں ناکام رہے تھے۔راہول ڈراوڈ نے جو164 میچ کھیلے انکی286 اننگوں میں52.31 کی اوسطاور42.51 کے اسٹرائیک ریت کے ساتھ۔ 36 سنچریوں اور63 نصف سنچریوں کی مدد سے13288 رن بنائے۔ وہ آٹھ مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور270 رن ہے جو انہوں نے پاکستان کے خلاف راولپنڈی میںاپریل 2004میں740 منٹ میں495 بالوں پر34 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنایا تھا۔اس میچ میں ہندوستان نے ایک اننگ اور 131 رن سے جیت اپنے نام کی تھی۔ ٹسٹ کرکٹ میں وہ پانچویں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز ہیں۔ انکی36 سنچریاں ٹسٹ کرکٹ میںمشترکہ طور پر چھٹی سب سے زیادہ سنچریاں ہیں۔سری لنکا کے خلاف سنگاپور میں3 اپریل1996 میں اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلنے والے راہول ڈراوڈ نے اپنا آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ کارڈیف میں16ستمبر2011 کو کھیلا تھا۔ انہوں نے جن344 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی انکی318 اننگوں میں39.16 کی اوسط اور71.23 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ12 سنچریوں اور83 نصف سنچریوں کی مدد سے10889 رن بنائے تھے۔ وہ13 مرتبہ صفرا کا شکار ہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور153رن ہے جو انہوںنے نیوزی لینڈکے خلاف حیدرآبادمیں8 نومبر1999 کو196 منٹ میں153 بالوں پر15 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں ہندوستان نے174 رن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میںراہول ڈراوڈ گیارہویں سب سے زیادہ رن بنانے والے کھلاڑی ہیں۔انگلینڈکے خلاف مانچسٹرمیں31 اگست2011 کو انہوں نے اپنا واحد ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچ کھیلا جس میں23منٹ میں21 بالوں پر تین چھکوں کی مدد سے31 رن بنائے تھے۔ اس میچ میں ہندوستان کو چھ وکٹ سے شکست ہوئی تھی۔راہول ڈراوڈ نے2003 اور2007 کے درمیان ا25 ٹسٹ میچوں میں ہندوستان کی قیادت کی جس میں آٹھ میچوں میں انہو ں نے جیت دلائی، چھ میچوں میں ہارہوئی اور گیارہ ٹسٹ کسی فیصلہ کے بغیر ختم ہوئے۔2000 اور2007 کے درمیان انہیں جن79 ایک روزہ بین الاقوامی میچو میں ہندوستا ن کی کپتانی کی اس میں42 میچوں میں وہ فاتح رہے۔33 میچوں میں ہندوستان کو شکست ہوئی اور چار میچ ناململ رہے۔ انہوں نے ہندوستان کی انیس سال سے کم عمراور قومی ٹیم کی کوچنگ بھی کی۔












