• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 19, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

راہل گاندھی نرغے میں

مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
اپریل 19, 2023
0 0
A A
راہل گاندھی نرغے میں
Share on FacebookShare on Twitter

کانگریس پارٹی کے سب سے مضبوط لیڈر جناب راہل گاندھی ان دنوں قانونی شکنجے اور سیاسی نرغے میں ہیں، ان کے ایک بیان پرکہ ”رقم لے کر بھاگنے والے سارے کا خاندانی لاحقہ مودی ہی کیوں ہیں“ سورت کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ ایچ ایچ ورما نے تعزیرات ہند کی دفعہ500 اور دفعہ 499 کے تحت ہتک آمیز قرار دے کر دوسال کی سزا سنائی ہے، اپیل کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی اور ضمانت دے کر چھوڑ دیا، اگلے دن پارلیمنٹ سکریٹریٹ نے انہیںنا اہل قرار دے کر پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر دی ہے وہ کیرالہ کے وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ تھے،تیسرے دن انہیں سرکاری مکان خالی کرنے کا نوٹس تھما دیا گیا، سرکاری کام جب اتنی عجلت میں ہونے لگے تو سمجھنا چاہیے کہ دال میں کچھ کالا ہے کہ الیکشن کمیشن کواس سیٹ کو خالی مان کر انتخاب کرانے میں اپیل کی مدت کے ختم ہونے اور عدالت کے رخ کا انتظا رہے۔
بات دس سال پرانی ہے ، جب للی تھامس معاملہ میں سپریم کورٹ نے 10 جولائی 2013ءکو عوامی نمائندگی قانونی 1951 کی دفعہ 8(2) کو رد کرکے فیصلہ دیا تھا، ممبران پارلیمنٹ واسمبلی کسی بھی مقدمہ میں دو سال کی سزا پاتا ہے تو فوری طور پر اس کی رکنیت ختم ہوجائے گی اور چھ سال تک وہ نہ تو امیدوار بن سکے گا اور نہ ہی ووٹ دے سکے گا، پہلے ایسانہیں تھا؛ بلکہ تین ماہ تک فیصلہ کے خلاف اوپر کی عدالت میں اپیل کرنے کی مہلت دی جاتی تھی ، اپیل جب تک زیر سماعت رہتی اس وقت تک رکنیت ختم نہیں ہوتی تھی، بلکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن بھی دیا جا سکتا تھا، اور اس کی سماعت تک رکنیت بر قرار رہتی تھی ، مطلب یہ ہے کہ عدالتی چارہ جوئی کی ساری شکلیں ناکام ہوجاتیں تب رکنیت ختم ہوتی تھی۔
من موہن سنگھ کی وزارت میں عدالت کے اس فیصلے کو بدلنے کے لیے آر ڈی ننس لانے کی کوشش کی گئی ، جسے راہل گاندھی نے ہی پارلیمنٹ میں بکواس قرار دے کر پھاڑ کر پھینک دیا تھا ، اگر وہ آر ڈی ننس پاس ہوجاتا تو آج راہل گاندھی کو یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا، اس فیصلہ کے پہلے شکار لا لو پرشاد یادو ہوئے، 2013میں ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہوئی، جگدیش شرما ، رشید مسعود، مترسین یادو، اعظم خان، عبد اللہ اعظم کی رکنیت کو بھی اسی قانون کے تحت ختم کیا گیا، لکشدیپ کے لوک سبھا ممبر پی پی محمد فیضل کو بھی نکالا گیا، کیرالہ ہائی کورٹ نے فوری طور سے اس فیصلہ پر روک لگائی، معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، لیکن ہائی کورٹ کے روک لگانے کے با وجود انہیں پارلیمنٹ میں گھسنے نہیں دیا جا رہا تھا، گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں اس کی سماعت ہوئی تھی تو فیصلہ کے قبل ہی پارلیمنٹ سکریٹریٹ ان کی رکنیت بحال کر دی۔
اس فیصلہ کا سیاسی پہلو زیادہ اہم ہے اور سب کی نگاہیں اسی پر لگی ہوئی ہیں، جس جملے پر سزا سنائی گئی ہے ، اس سے بڑے بڑے ہتک آمیز جملے ماضی میں مختلف سیاسی قائدین کے ذریعہ کہے جاتے رہے ہیں، کسی پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کیوں کہ وہ سب منظور نظر تھے، ماضی کے اوراق پلٹیے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی نے کہا تھا کہ” کیا وجہ ہے کہ مسلمان کسی کے ساتھ چین سے نہیں رہ سکتے“، لال کرشن اڈوانی نے مسلمانوں کو ”ہندو محمدی“ کہنے کا مشورہ دیا تھا، اور کہا تھا کہ” تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں، لیکن تمام دہشت گرد مسلمان ہیں“، آر ایس ایس سر براہ ہندوستان کے تمام باشندوں کو ”ہندو“ کہتے نہیں تھکتے، سابق دو مرکزی وزراءنے عہدہ پر رہتے ہوئے تمام سیکولر لوگوں کو گالیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ” ملک کے تمام سیکولر لوگ ناجا ئز اولاد ہیں“، فہرست بہت طویل ہے ، بہوجن سماج وادی پارٹی کی صدر کو طوائف ، دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو، یہ جملے بھاجپا کے دوسرے تیسرے درجہ کے لیڈران کے ہیں، سر فہرست رہنے والے بھاجپا قائدین کے بیان میں سونیا گاندھی کو کانگریس کی بیوہ ، کانگریس ایم پی ششی تھرور کی آنجہانی بیوی سونندا کو پچاس کروڑ کی گرل فرینڈ، سی اے اے، این آر سی کے خلاف تحریک چلانے کے بارے میں یہ کہنا کہ ”دنگائی اپنے کپڑوں سے پہچانے جاتے ہیں“ یہ اور اس قسم کے جملے بھی ہتک آمیز ہیں، جو ایک خاص طبقہ کو ذلیل کرنے کے لیے استعمال کیے گیے، کیا ان جملوں پر کاروائی نہیں ہونی چاہیے تھی ، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا، گاج گری تو راہل پر، وہ بھی کرناٹک سے مقدمہ سورت ٹرانسفر کرانے کے بعد، اب بھاجپا اور کانگریس سڑکوں پر اتر رہے ہیں، بھاجپا اس جملے کو دلت مخالف کہہ کر عوام کے پاس جائے گی اور کانگریس عوام کو بتائے گی کہ راہل کی رکنیت کا ختم کرنا ایک سازش کے تحت ہے ، تاکہ وہ پارلیمنٹ میں مودی اور اڈانی کے رشتوں پر مزید روشنی نہ ڈال سکیں۔
راہل گاندھی کے ساتھ پوری کانگریس اور اٹھارہ( 18) پارٹیاں کھڑی ہیں، معاملہ ہی کچھ ایسا ہے ، ابھی علامتی دھرنے اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ہے، یہ زور بھی پکڑ سکتا ہے ، کانگریس کو اتنا فائدہ تو ضرور ہوا ہے کہ حزب مخالف اس فیصلے کے خلاف ایک آواز ہو گیا ہے ، ممتا بنرجی اور محبوبہ مفتی کانگریس سے دوری بنائے رہنے کے اپنے عزم کے باوجود اس معاملہ میں راہل کی حمایت میں بول رہی ہیں، سیاسی تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگلے انتخاب میں کانگریس کو اس فیصلہ کی وجہ سے ہمدردی کا ووٹ بھی مل سکتا ہے، جیسا اندرا گاندھی کے ساتھ 1977کے بعد 1980میں ہوا تھا، اور اکثریت سے ان کی اقتدار میں واپسی ہوئی تھی۔
اس واقعہ کے بعد راہل گاندھی نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اڈانی اور وزیر اعظم کے رشتوں پر سوال اٹھائے ، بیس ہزار کروڑ روپے کہاں سے آئے؟ اس کو دہرایا اور کہا کہ ہم ساورکر نہیں ، گاندھی ہیں، گاندھی معافی نہیں مانگتے، یقینا راہل گاندھی ساور کر نہیں ہیں، لیکن یہ بھی سچ نہیں ہے کہ انہوں نے کبھی معافی نہیں مانگی، دو تین بارکی معافی تو ہم جیسوں کو بھی یاد ہے، آر ڈی ننس کی کاپی 2013میں انہوں نے پھاڑی تھی اس کی معافی انہوں نے 2018میں مانگی، 2018 میں رافیل معاملہ پر پھنسنے کے بعد انہوں نے 2020میں معافی مانگی تھی2018میں ”چوکیدار چور ہے“ کہنے پر 2019میں وہ معافی مانگ کر بچے تھے، معافی مانگنے والے راہل گاندھی اکیلے نہیں ہیں، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجری وال پر آنجہانی ارون جیٹھلی نے دس کروڑ روپے کا ہتک عزتی کا مقدمہ کیا تھا، تین سال بعد اروند کجری وال نے تحریری معافی مانگ کر اس مقدمہ سے چھٹکارا پایا تھا، انہوں نے مختلف معاملات میں کپل سبل اور نتن گڈکری سے بھی معافی مانگ کر خودکو بچا یا تھا، لیکن اس معاملہ میں راہل گاندھی ایسا نہیں کر سکے اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کہتے ہیں کہ کرکٹ اور سیاست میں کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس لیے انتظار کیجئے اور دیکھیے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    پالم میں آتشزدگی 9 افراد ہلاک، وزیر اعلیٰ نے   10 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا

    پالم میں آتشزدگی 9 افراد ہلاک، وزیر اعلیٰ نے 10 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا

    مارچ 19, 2026
    ڈاکٹر شوبھا وجیندر سنگھ کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر اسپیکر وجیندر گپتا نے شرکت کی

    ڈاکٹر شوبھا وجیندر سنگھ کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر اسپیکر وجیندر گپتا نے شرکت کی

    مارچ 19, 2026
    خلیجی ممالک کی صورتحال اور ہندوستان کا لائحہ عمل

    خلیجی ممالک کی صورتحال اور ہندوستان کا لائحہ عمل

    مارچ 19, 2026
    کسانوں کیلئےایم ایس پی فوری نافذ کی جائے: اپوزیشن

    کسانوں کیلئےایم ایس پی فوری نافذ کی جائے: اپوزیشن

    مارچ 19, 2026
    پالم میں آتشزدگی 9 افراد ہلاک، وزیر اعلیٰ نے   10 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا

    پالم میں آتشزدگی 9 افراد ہلاک، وزیر اعلیٰ نے 10 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا

    مارچ 19, 2026
    ڈاکٹر شوبھا وجیندر سنگھ کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر اسپیکر وجیندر گپتا نے شرکت کی

    ڈاکٹر شوبھا وجیندر سنگھ کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر اسپیکر وجیندر گپتا نے شرکت کی

    مارچ 19, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist