نئی دہلی : ہتک عزت کے مقدمہ میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کو مجرم قرار دیتے ہوئے سورت کی عدالت نے انہیں 2سال کی سزا سنائی ہے ۔2019میں بی جے پی کے ایک ممبر اسمبلی نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔اس کے علاوہ راہل گاندھی پر 15ہزار کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ حالانکہ سزا کو ایک ماہ کے لئے معطل کر دیا گیا ہے اور وہ فیصلے کے خلاف اونچی عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں ۔بتادیں کہ 2019میں لوک سبھا کی تشہیری مہم کے دوران راہل گاندھی نے مودی سرنیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ …سارے چوروں کا سر نیم مودی ہی کیوں ہوتا ہے؟اس معاملے میں سورت کی سی جے ایم کورٹ نے آج دن میں 11بجے راہل گاندھی کو قصوروار قرادے دیا اور انہیں دو سال کی سزا مع جرمانہ سنائی ۔ اس کے بعد عدالت نے راہل گاندھی سے پوچھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں تو راہل گاندھی نے کہا کہ میں ہمیشہ کرپشن کے خلاف بولتا ہوں۔ میں نے جان بوجھ کر کسی کے خلاف بات نہیں کی۔ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا ایک قول ٹوئٹ کیا اور کہا ان کا مذہب سچائی اور عدم تشدد پر مبنی ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا ’’میرا مذہب سچائی اور عدم تشدد پر مبنی ہے۔ سچائی میرا بھگوان ہے، عدم تشدد اسے پانے کا ذریعہ۔ مہاتما گاندھی‘‘۔ادھراس معاملے پر کانگریس کے صدر ملکا رجن کھڑگے نے کہا کہ ہم کو تو معلوم تھا کہ ایسا ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ اس معاملے میں بار بار جج بدلا جارہا تھا۔اس سے پتا تھا کہ ایسا ہوگا۔دوسری جانب راہل گاندھی کو سزا کے فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کو نشانہ بنایا اور پارٹی لیڈر روی شنکرپرساد نے جم کر حملے کیئے۔راہل کی سزا پر خوشی سے پاگل ہو اٹھی بی جے پی کے رہنما روی شنکر پرسا د نے بپھرتے ہوئے بیانات جاری کئے ۔انہوںنے اپنے ردعمل میں میڈیا سے کہا کہ’ کانگریس عدالت کو بھی اپنی جیب میں رکھنا چاہتی ہے !‘۔انہوںنے کہا کہ کھڑگے جی کانگریس پارٹی کے صدر ہیں اور انہیں ذمہ داری سے بات چیت کرنی چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ جج بار بار بدلا گیا ،روی شنکرنے کہا کہ’’ آخر وہ کہنا کیا چاہتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے ایک سر نیم کو بدنام کیا ہے۔وہ ملک اور بیرون ملک کے عوام کی توہین کرنا چاہتے ہیں ۔راہل نے بھارت کی جمہوریت کی توہین پہلی بار نہیں کی ہے۔انہوںنے کہا کہ ان کو ووٹ نہیںملتا تو ہم کیا کریں۔انہوںنے پیگاسس معاملے میں بھی ایسا ہی کیا ۔












