امریکہ سے بہار تک راہل کو دینا ہوگا امتحان
راہل گاندھی کا غیر ملکی دورہ سیاسی طور پر بھلے ہی کسی خاص اہمیت کا حامل نہ لیکن اکثر تنازعے کا باعث ضرور ہو جاتا ہے، گذشتہ دنوں بھی جب انہوں نے لندن کا سفر کیا تھا اور جمہوریت کے مستقبل پر کئے گئے سوال کے جواب میں بھارت کے موجودہ صورت حال کی بات کی تھی تب برسر اقتدار جماعت بی جے پی کافی برہم ہو گئی تھی ۔اب ایک بار پھر راہل گاندھی بیرون ملک کے سفر پر ہیں اور طلبا کے سوالات کا بھی جواب دے رہے ہیں ۔لیکن اس بار یقینی طور پر وہ کافی محتاط ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں ملک میں بی جے پی ان کے امریکہ میں بولے گئے ایک ایک جملہ کو ناپ تول رہی ہے ۔ وہ پورا میڈیا بھی جو راہل گاندھی کی کردار کشی کرنا ہی اپنا فرض سمجھتا ہے وہ بھی تیار ہے کہ کب موقعہ ملے اور راہل گاندھی کوٹرول آرمی کے حوالے کر دے ۔یہاں سیاست کی ایک نئی بساط بھی بچھائی جا رہی ہے جس کی تیاری کا سارا ذمہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے کاندھوں پر ہے۔اور 12مئی کو پٹنہ میں اپوزیشن اتحاد کی پہلی میٹنگ ہے ۔اور ٹھیک اس کے پہلے کانگریسی رہنما راہول گاندھی امریکہ کے سفر پر ہیں اور تین دنوں کے اس سفر میں وہ امریکہ کی تین اہم یونیورسٹیز کے طلبا سے خطاب بھی کریںگے اور ان کے سوالات کا جواب بھی دیںگے ۔اس سلسلے میں گذشتہ روز راہل گاندھی نے کیلی فورنیا کی ممتاز اسٹینفورڈ یونیورسٹی کیمپس میں ہندوستانی طلباء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ سیاست میں آئے تھے تو انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل ہو جائیں گے، حالانکہ اس نے انہیں عوام کی خدمت کرنے کا’’بڑا موقع‘‘ فراہم کیا ہے۔ یہ بات بہت پرانی نہیں ہے کہ پچھلی بار بھی جب راہل غیر ملک دورے پر تھے تو لندن میں انہوں نے بھارت میں جمہوریت کے مستقبل پر بڑا سوال اٹھایا تھا ،جس پر بھارت میں برسر اقتدار بی جے پی نے خوب واویلا مچایا تھا ۔بعد ازاں انہیں ایک دوسرے کیس میں ملوث کر کے سورت کی ایک عدالت نے اس سال کے شروع میں راہل گاندھی کو مجرمانہ ہتک عزت کا مجرم قرار دیا تھا اور انہیں 2019 کے’’مودی کنیت‘‘ سے متعلق ان کے تبصرے سے متعلق ایک معاملے میں دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے اعلان کے بعد کانگریس لیڈر کو لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا۔ وہ کیرالہ کے وایناڈ سے ایم پی تھے۔راہل گاندھی نے گذشتہ روز اسٹیفورڈ یونیورسٹی میں اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں ایسی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ جو کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہے جس کا انہوں نے سیاست میں قدم رکھتے وقت سوچا تھا۔ راہل نے کہا، میں شاید ہندوستان میں ہتک عزت کے معاملے میں سب سے زیادہ سزا پانے والا واحد شخص ہوں۔ راہل نے کہا کہ سیاست ایسی ہی ہوتی ہے۔ لیکن پھر مجھے لگتا ہے کہ اس نے مجھے واقعی ایک بڑا موقع فراہم کیا ہے،شاید بہت بڑا موقع۔ سیاست اس طرح ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا،میرے خیال میں یہ ڈرامہ درحقیقت چھ ماہ پہلے اس وقت شروع ہوا تھا جب وہ کنیا کماری تک کے پیدل سفر پر تھے ۔جب ہم لڑ رہے تھے۔ آج بھی ہندوستان میں سارا اپوزیشن لڑ رہا ہے۔ سارا پیسہ اشرافیہ کے پاس ہے، اداروں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ ہم اپنے ملک میں جمہوری جنگ لڑنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
راہل نے کہا کہ انہوں نے اسی وقت ’بھارت جوڑو یاترا‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں بالکل واضح ہوں کہ ہماری لڑائی ہماری ہے، انہوں نے یونیورسٹی کیمپس میں ہندوستانی طلباء اور ہندوستانی نژاد ماہرین تعلیم کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا۔ تاہم، یہاں ہندوستان سے نوجوان طلباء کا ایک گروپ ہے۔ میں ان کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا کرنا میرا حق ہے۔ کانگریس لیڈر نے اسرار کیا کہ وہ بیرون ملک سفر کرکے کسی سے تعاون نہیں مانگ رہے ہیں۔ اسٹینفورڈ کے ایک کھچا کھچ بھرے آڈیٹوریم میں گرجدار تالیوں کے درمیان راہل نے کہا کہ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ وزیر اعظم یہاں کیوں نہیں آتے اور وہ ایسا کیوں نہیں کرتے‘‘۔ انہوں نے یہاں طلباء اور ماہرین تعلیم کے ساتھ بات چیت کی۔آڈیٹوریم میں زیادہ ہجوم کی وجہ سے کچھ طلباء کو داخلہ نہیں مل سکا۔ طلباء نے پروگرام شروع ہونے سے دو گھنٹے پہلے ہی قطاریں لگانا شروع کر دیں۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں ہندوستان کے کئی لیڈروں نے امریکہ میں ہندوستانی طلباء کے ساتھ بات چیت کی ہے ۔لیکن راہل گاندھی کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔اب ان کی مقبولیت کا گراف ملک میں کتنا بڑھا ہے اس کا اندازہ عام چناؤ 2024میں ہونے کا قوی امکان ہے ۔اور جس کا پہلا مرحلہ 22جون کو پٹنہ کی حزب اختلاف کی پہلی میٹنگ کے بعد ہی ہونا شروع ہو جائیگا ۔
(شعیب رضا فاطمی)












