نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے منی پور میں ہونے والے حالیہ پرتشدد واقعات پر سوشل میڈیا کے ذریعے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مسٹر گاندھی نے کہا، "بی ایس ایف کے ایک جوان کے گھر میں سوتے ہوئے دو معصوم بچوں کے قتل کی خبر دل دہلا دینے والی ہے۔ منی پور میں گزشتہ تین سالوں سے جاری تشدد کی آگ میں آج بھی معصوم بچے جھلس رہے ہیں اور امن کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اس معاملے پر بے حسی کا شکار ہے اور گویا یہ بھول چکی ہے کہ منی پور کے بچے بھی ملک کا مستقبل ہیں۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر حکومت کب جاگے گی اور کب تک منی پور کے لوگ اپنے ہی پیاروں کی لاشیں گنتے رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن ہی اس بحران کا واحد حل ہے، جس کے لیے تمام برادریوں کو ساتھ لا کر حساسیت کے ساتھ کوششیں کرنی ہوں گی۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ منی پور صرف ایک ریاست نہیں بلکہ پورے ملک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض بیانات یا رسمی دورے کافی نہیں ہیں، بلکہ حالات کو قابو میں لانے کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات کرنا ضروری ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ منی پور کے بشنو پور ضلع میں منگل کی صبح ایک گھر پر ہونے والے مشتبہ راکٹ حملے میں دو بچوں کی موت کے بعد ریاست میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے منگل کو پانچ اضلاع میں تین دنوں کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز کو معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔حکومت کے جواب کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت اس حوالے سے کوئی ڈیٹا نہیں رکھتی۔”راہل گاندھی نے موجودہ خریداری کے اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پالیسی کے تحت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای ) سے 25 فیصد سرکاری خریداری لازمی ہے، جس میں سے 4 فیصد دلت اور آدیواسی کاروباریوں کے لیے مختص ہے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے سرکاری کام کے ٹھیکوں کے معاملے میں ان دفعات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا "جب سب سے بڑے اور منافع بخش ٹھیکوں-سرکاری کام-کی بات آتی ہے، تو حکومت کہتی ہے کہ یہ لازمی نہیں ہے۔”اس مسئلے کو محض ایک انتظامی کوتاہی کے بجائے گہرا ڈھانچہ جاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے ذریعے جان بوجھ کرالگ کرنے کا بنایا گیا ایک نظام ہے، جو سماجی اور اقتصادی انصاف کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے معاشی مواقع تک مساوی رسائی کے بارے میں وسیع تر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا: بہوجن کاروباریوں کو ملک کے سب سے بڑے سرکاری ٹھیکوں سے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے؟”یہ ریمارکس معاشی پالیسی میں شمولیت اور مثبت اقدامات پر جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ سرکاری خریداری کو نمائندگی سے محروم کمیونٹیز میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے خریداری کے عمل میں چھوٹے اداروں کی شرکت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عمل درآمد میں کمی اور شفافیت کا فقدان ان کے فوائد کو محدود کر رہا ہے۔ پبلک اسپینڈنگ (سرکاری اخراجات) میں ڈیٹا کے انکشاف اور جوابدہی کا یہ معاملہ آنے والے وقت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا مرکز رہنے کا امکان ہے۔دریں اثنا کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو مرکز پر الزام لگایا کہ وہ بڑے سرکاری ٹھیکوں سے پسماندہ طبقات کے "منظم اخراج” کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر سرکاری کاموں میں دلت، آدیواسی اور پسماندہ طبقے کے کاروباریوں کی شرکت سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں گاندھی نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور گزشتہ سال دیے گئے 16,500 کروڑ روپے کے سرکاری ٹھیکوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔












