• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 7, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

رمضان المبارک فتوحات کا مہینہ ہے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 7, 2026
0 0
A A
رمضان المبارک فتوحات کا مہینہ ہے
Share on FacebookShare on Twitter

رمضان المبارک کا مہینہ محض عبادت و ریاضت کا موسم نہیں، یہ عزم و ہمت، ایثار و قربانی اور تاریخ ساز فیصلوں کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں بندہ اپنے رب کے حضور جھکتا ہے، اپنے نفس کو مغلوب کرتا ہے، اپنی خواہشات کو لگام دیتا ہے، اور جب ایک فرد اپنے اندر یہ انقلاب برپا کر لیتا ہے تو پھر یہی کیفیت اجتماعی صورت اختیار کرکے تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہے۔اسلامی تاریخ میں کئی فتوحات ماہ مبارک سے وابستہ ہیں۔
ان فتوحات کے مختصرتعارف سے قبل یہ جان لینا ضروری ہے کہ اسلام میں فتوحات کا مقصدریاست کی توسیع نہیں ہے ۔نہ ہی اس کے پیچھے مال غنیمت کا حصول یا انسانوں کو غلام بنانے کی ذہنیت کارفرما ہے ۔بلکہ اسلام میں مخالف ملک یا قوم کے خلاف جنگ چند ناگزیر صورتوں میں ہی کی جاسکتی ہے ۔مثلاً مخالفین خود میدان جنگ میں آگئے ہوں اور اہل اسلام کے لیے اپنا دفاع کرنا مجبوری ہو،یا مخالفین نے اہل اسلام کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو پیشگی اطلاع کے بغیر توڑ دیا ہو،یا مخالفین نے اہل اسلام کی معاہدقوموں ،ملکوں اور قبیلوں کے خلاف فوجی کارروائی کردی ہو،یا مخالفین صریح ظلم و عدوان پر اتر آئے ہوں اور اپنی رعایا کے ساتھ ظالمانہ اور غیر عادلانہ رویہ اختیارکیے ہوئے ہوں۔اس صورت میں انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے اور ظالم کو ظلم سے روکنے کے لیے اسلامی مملکت جنگی کارروائی کا حق رکھتی ہے ۔ واضح رہے کہ جنگ سے پہلے افہام و تفہیم کی جائے گی ،جنگ کے بغیر مسئلہ کو حل کرنے کی ممکنہ تدابیر اختیار کی جائیں گی اس کے بعد بالفرض جنگ کرنی ہی پڑے تو اسلام کے قوانین جنگ کا خیال رکھتے ہوئے جنگ کی جائے گی ۔ علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب ترجمانی فرمائی ہے :
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اسلام کے نظریہ جنگ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ جنگ چونکہ خالصتاً اللہ کے لیے کی جاتی ہے ،اس لیے اس کی رضا اور خوشنودی ہی پیش نظر ہوتی ہے ،فتح کے بعد جان و مال کو تہس نہس نہیں کیا جاتا،کھیتیوں کو آگ نہیں لگائی جاتی ،خواتین کو بے آبرو نہیں کیا جاتا بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے جس کا حکم دیا گیا ہے :
إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّہِ وَالْفَتْحُ ،وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللَّہِ أَفْوَاجًا،فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا (النصر:1-3)
’’جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ وہ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے اور اس سے مغفرت طلب کیجیے، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
یہ نصرت اور فتح محض عسکری برتری کا نام نہیں، یہ اللہ کی تائید کا ظہور ہے۔ مگر یہ تائید یونہی نہیں آتی۔ اس کے لیے آزمائشوں کی گھاٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے، صبر کی چٹانوں پر قدم جمانا پڑتا ہے، اور اضطراب کے عالم میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا پڑتا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَأْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَأْسَائُ وَالضَّرَّائُ وَزُلْزِلُوا حَتَّیٰ یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ مَتَیٰ نَصْرُ اللَّہِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّہِ قَرِیب ٌ (البقرۃ:214)
’’پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ اُن پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اُس وقت انہیں تسلی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘
حق و باطل کے درمیان ماہ مبارک میں جوپہلا معرکہ واقع ہوااسے ہم غزوہ بدر کے نام سے جانتے ہیں ،یہ غزوہ 17؍رمضان کو پیش آیا۔اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جب کہ ان کی تعداد 313 تھی اوردشمنوں کی تعداد ایک ہزار تھی،مسلمانوں کے پاس ہتھیار اور گھوڑے بھی بہت کم تھے۔لیکن اللہ کی مدد، ایمان کی طاقت،نبی ﷺ کی محبت اور صحابہ ؓ کے بے مثال اتحاد نے اس جنگ میں دشمنوں کو بہت بری شکست سے دوچار کیا۔ مسلمانوں کے کل 14 افراد شہید ہوئے۔ اس کے مقابلے میں قریش کے 70 آدمی مارے گئے ۔ 70 سے زیادہ گرفتار ہوئے۔ اس جنگ کو قرآن میں فرقان کے نام سے تعبیر کیا گیا۔ارشاد باری ہے:
ِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (الانفال41)
’’اور اگر تمہیں اللہ پر یقین ہے اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر فرقان کے دن اتاری جس دن دونوں جماعتیں ملیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
17 رمضان المبارک 2ھ (17 مارچ 624ء) کو فجر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہاد کی تلقین کی۔ مسلمانوں کے لیے سخت آزمائش کا وقت تھا اس لیے کہ اپنے ہی بھائی بند سامنے کھڑے تھے۔حضرت ابوبکر ؓاپنے بیٹے عبد الرحمن سے اور حضرت حذیفہؓ کو اپنے باپ عتبہ سے مقابلہ کرنا تھا۔صفیں درست ہوجانے کے بعدنبی اکرم ﷺ اللہ کے حضورسجدے میں گرگئے،اللہ کی تسبیح کے بعد آپ ؐ یوں گویا ہوئے۔
’’اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ پورا فرما۔ اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر لوگ ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک تمام روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔‘‘ ( بخاری، مسلم، ترمذی، مسند امام احمد)
دعا کے علاوہ نبی اکرم ﷺ نے دوران جنگ ایک مٹھی کنکر اٹھائی اور دشمن کے لشکر کی طرف پھینک دی ،اس ریت کا ذرہ جس کافر پر بھی جاکر گرا وہ اس جنگ میں مارا گیا۔سورہ انفال کی آیت 17میں نبی اکرم ﷺ کے کنکر مارنے کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے۔
: ’’اور آپؐ نے (حقیقتاً وہ کنکر) نہیں پھینکی، جس وقت (بہ ظاہر) آپ نے (کنکر) پھینکی تھی، لیکن وہ (کنکر) اللہ تعالیٰ نے پھینکی۔‘‘ (الانفال: 17)
8 ہجری کا رمضان المبارک اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جب دس ہزار صحابہ کرامؓ کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ کی طرف اس شان سے بڑھے کہ زمین پر وقار تھا اور آسمان پر نصرت کی بشارت۔ یہ پیش قدمی قریش کے حلیف بنو بکر کی طرف سے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملے اور صلح حدیبیہ کی عہد شکنی کے نتیجے میں ہوئی۔ آپ ﷺ نے غیر معمولی حکمت عملی اختیار کی، راستوں کو منظم کیا، لشکر کو چار حصوں میں تقسیم فرمایا تاکہ بلا ضرورت خونریزی نہ ہو۔ مکہ کے قریب پہنچ کر عام اعلان کیا گیا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے، یا اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے، یا مسجد حرام میں پناہ لے لے وہ محفوظ ہے۔ یوں فاتح لشکر شہر میں داخل ہوا مگر تاریخ گواہ ہے کہ کہیں قتل و غارت کا بازار گرم نہ ہوا؛ یہ تلوار کی نہیں، کردار کی فتح تھی۔ جب اسلامی لشکر کے علم بردار حضرت سعد بن عبادہ ؓنے جوش میں کہا: اَلْیَوْمُ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ (آج انتقام اور جنگ کا دن ہے)تو آپ ﷺ نے علم لے کر ان کے بیٹے حضرت قیس بن سعد ؓ کے حوالہ کرتے ہوئے فرمایا: اَلْیَوْمُ یَوْمُ الْمَرْحَمَۃِ (آج رحم کرنے کا دن ہے)
جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو عاجزی کا یہ عالم تھا کہ سرِ انور جھکا ہوا تھا، لبوں پر حمدِ الٰہی جاری تھی اور یہ اعلان بلند ہورہا تھا: جاء الحق و زھق الباطل۔ کوہِ صفا پر کھڑے ہوکر آپ ﷺ نے قریش سے پوچھا کہ آج تم مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ کریم بھائی اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں۔ تب وہ تاریخی اعلان ہوا:لَا تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَومَ، فَأَنْتُمُ الطُّلَقَائُ(آج تم پر کوئی گرفت نہیں،جائو تم سب آزاد ہو) ہندہؓ اور دیگر وہ لوگ بھی جن کے دلوں میں کل تک عداوت تھی، آج ایمان کے نور سے منور ہوگئے۔ اس فتح نے عرب کی کایا پلٹ دی؛ دلوں کی کدورتیں مٹ گئیں، قبائل جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے، اور رمضان المبارک کی یہ ساعت تاریخ کے افق پر رحمت، عفو اور اخلاقی برتری کی عظیم مثال بن کر ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگئی۔
فتحِ اندلس 92 ہجری میں عہدِ ولید بن عبدالملک میں پیش آئی، جب طارق بن زیاد رحمہ اللہ تقریباً بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ شمالی افریقہ سے روانہ ہوکر جبل الطارق کے مقام پر اترے۔ رمضان 92 ہجری میں وادی لَکّہ (معرکہ گواڈالیٹے) میں ویزیگوتھ بادشاہ رودریک کو فیصلہ کن شکست ہوئی، اور اسی معرکے نے اندلس میں اسلامی اقتدار کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے اہم شہر فتح ہوتے گئے اور اسلامی لشکر تیزی سے اندرونِ ہسپانیہ تک پھیل گیا۔
اگلے برس 93 ہجری میں موسیٰ بن نصیر رحمہ اللہ مزید کمک کے ساتھ اندلس پہنچے اور فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا، یہاں تک کہ قرطبہ، طلیطلہ اور دیگر بڑے مراکز اسلامی اقتدار میں آگئے۔ یوں چند ہی برسوں میں اندلس اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا اور یورپ میں ایک نئی تہذیبی، علمی اور سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا، جس کے اثرات صدیوں تک قائم رہے۔
جنگِ عین جالوت 25 رمضان 658 ہجری کو فلسطین کے مقام عین جالوت میں پیش آئی۔ یہ وہ تاریخی معرکہ تھا جس میں مصر کے مملوک سلطان سیف الدین قطز اور ان کے نامور سپہ سالار رکن الدین بیبرس نے منگولوں کے ناقابلِ شکست سمجھے جانے والے سیلاب کے آگے بند باندھ دیا۔ اس سے قبل 656 ہجری میں بغداد سقوط کا شکار ہوچکا تھا، خلافتِ عباسیہ کا چراغ گل ہو گیا تھا، اور منگول افواج شام تک پہنچ چکی تھیں۔ ہلاکو خان نے اپنی فوجیں آگے بڑھائیں اور اپنے جرنیل کتبغا کو شام و فلسطین پر قبضہ مستحکم کرنے کے لیے چھوڑ دیا، مگر مصر کی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے ہی اسے فیصلہ کن مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
سلطان قطز نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے لشکر کو منظم کیا، عوام کو جہاد کے لیے ابھارا اور خود میدان میں اترے۔ جنگ کے دوران ایک مرحلے پر مسلمان فوج کچھ دباؤ میں آئی، تو قطز نے خود زرہ اتار کر للکارا: وا اسلاماہ! اس ولولہ انگیز نعرے نے سپاہ میں نئی روح پھونک دی۔ بیبرس کی جنگی حکمتِ عملی (ظاہری پسپائی اختیار کرنا اور پھر اچانک پلٹ کر حملہ کرنا)فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ کتبغا مارا گیا اور منگول فوج کو پہلی بڑی شکست ہوئی۔ اس فتح نے نہ صرف مصر بلکہ پورے عالمِ اسلام کو منگول تباہی سے بچایا، اور تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
عباسی خلیفہ المعتصم باللہ نے رومی سلطنت کے خلاف عظیم مہم چلائی۔ رمضان 223 ہجری میں شہر عموریہ فتح ہوا۔ یہ معرکہ سیاسی و عسکری اعتبار سے نہایت اہم تھا اور اس نے بازنطینی قوت کو بڑا دھچکا پہنچایا۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    رمضان المبارک فتوحات کا مہینہ ہے

    رمضان المبارک فتوحات کا مہینہ ہے

    مارچ 7, 2026
    پنجاب کے جونیئر افسر کی آئی جی پی نامزد گی سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی بڑھی

    پنجاب کے جونیئر افسر کی آئی جی پی نامزد گی سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی بڑھی

    مارچ 7, 2026
    خضدار، کرخ شہر پر قبضے کے بعد تمام سرکاری دفاتر نذرِ آتش

    خضدار، کرخ شہر پر قبضے کے بعد تمام سرکاری دفاتر نذرِ آتش

    مارچ 7, 2026
    برطانیہ کے قانون ساز کا شوہر چین کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار

    برطانیہ کے قانون ساز کا شوہر چین کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار

    مارچ 7, 2026
    رمضان المبارک فتوحات کا مہینہ ہے

    رمضان المبارک فتوحات کا مہینہ ہے

    مارچ 7, 2026
    پنجاب کے جونیئر افسر کی آئی جی پی نامزد گی سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی بڑھی

    پنجاب کے جونیئر افسر کی آئی جی پی نامزد گی سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی بڑھی

    مارچ 7, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist