قرآن اور رمضان کا خاص جوڑ اور گہرا تعلق ہے۔اِس مہینے میں کلام اللہ کا نزول ہوا اور روزے فرض کئے گئے تو یہ مہینہ شھر اللہ(اللہ کا مہینہ) قرار پایا ۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں ہی کتابِ ہدایت قرآن کریم کا نزول ہوا۔(البقرہ،185)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس ماہ میں قرآن مجید سے شَغَف بڑھ جاتا تھا۔آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دَور فرماتے۔ احادیثِ شریفہ میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ماہِ رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دَور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس سال آپ نے دوبار قرآن کریم کا دَور فرمایا۔ (بخاری، کتاب المناقب)اسوۃ رسول کے مطابق صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام فرماتے تھے،اسی لیے یہ مہینہ کثرت سے قرآن سے وابستہ رہنے کا ہے۔
تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام بھی رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق کا مَظہَر ہے۔ یہ نماز، جو بعد میں تراویح کہلائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع فرمائی اور دوسال تین تین راتیں مسجد میں باجماعت اس کو ادا بھی فرمایا، لیکن اس خیال سے اس کو جاری نہیں رکھا کہ کہیں امت پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہوجاؤ ۔(صحیح البخاری،کتاب صَلَا التَرَاوِیحِ )
روایات سے واضح ہے کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین رمضان المبارک میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصی شَغَف رکھتے تھے، اور دن رات کا وافر حصہ قرآن پڑھنے اور سننے سنانے میں صَرف کرتے تھے۔ ہر عہد میں ہمارے اَسلاف نے اس مبارک مہینے کے تقاضے کو پیشِ نظر رکھا اور اپنااچھا خاصا وقت قرآن کریم میں لگانے کا معمول بنایا۔
اللہ رب العزت نے قرآن کے حوالے سے ہی رمضان کا تعارف کرایا ہے،سورہ البَقرہ میں ارشاد ہے، ترجمہ:
”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا”،پھر قرآن مجید کے بارے میں بتایا کہ قرآن ایسی کتاب ہے :“جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو سیدھا راستہ دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے ،لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے (رمضان) کو پائے ، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا، اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سر فراز کیا ہے ، اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو اور شکر گزاربنو۔ (البقرہ 185)۔
ذکر کردہ آیتِ کریمہ پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے روزے دراصل کلامِ الہی کے نزول پر شکر گزاری کا اظہار ہے، ان فرض روزوں کے ذریعے قرآن جیسی بیش بہا نعمت پر اللہ کی بارگاہ میں شکر گزاری کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔اس لیے اس اظہارِ تشکر اور سپاس گزاری میں جتنی زیادہ قرآن کی چاشنی ہوگی اتنا ہی اس کی شان دوبالا ہوگی۔
قرآن مجید کی تلاوت اپنے آپ میں ایک عبادت اور عمل خیر ہے، لہٰذا یہ عمل ریا اور واہ واہی کے بجائے صرف خلوصِ نیت، پاکیزہ جذبے اوراللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔تلاوت اطمینان کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کر اور خوش الحانی کے ساتھ کرنا چاہیے۔کہاں ٹھیرنا اور سانس توڑنا ہے، اس کا علم بھی ضروری ہے۔سہولت کے پیش نظر قرآن میں اس کی علامات اور نشانیاں لگا دی گئی ہیں، جنھیں رموز اور علاماتِ وَقف کہتے ہیں۔ان رموز و علامات کے مطابق ہی رکنا اور آگے بڑھنا چاہیے۔اس لیے تلاوت میں بےجا جلد بازی سے بچنا ضروری ہے۔یہی بات تراویح میں بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔
بہت سے ناظرہ خواں اور حفاظ کرام تلاوت اور تراویح میں قرآن پاک پڑھنے میں عموماً بےجا جلد بازی کا م ظاہرہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ اصولِ تجوید اور قواعدِ وَقف کی صریح خلاف ورزی کرنا اور الفاظ کاٹ اور لَپیٹ کر پڑھنا ایک معمول سا بن گیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تراویح میں قرآن سننے اور سنانے والوں نے قرآن پڑھنے میں بےاصولی اور بے ضابطگی کے ساتھ خاموش سمجھوتا کر لیا ہے۔ہماری موجودہ روش عمومی طور پر بے سَمت اور عظمتِ قرآن کے خلاف ہے۔
قرآتِ قرآن کے مستقل اصول و ضابطے ہیں جنھیں ہر موقع پر بَرَتنا لازمی ہے۔تراویح بھی اس سے جدا نہیں ہے۔ایسے حفاظ جو بے جا جلدی بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ایسے سامعین جو اس طرح لَبَڑ سَبَڑ قرآن سن کر جلد فارغ ہوجانا پسند کرتے ہیں،وہ اپنے طرزِ عمل پر ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کہیں قرآن کی خدمت کے نام پر قرآن کی تضحیک کا وبال تو ان کے سَر پر نہیں آرہا ہے۔
قرآن عربی زبان میں ہے، دوسری زبان کے الفاظ جلدی زبان پر رواں نہیں ہوتے، اس لیے الفاظ کے درست تَلَفّظ اور حروف کی صحیح ادائیگی میں اگر ذرا بھی خامی ہے تو اسے چست درست کرنا از بَس ضروری ہے۔اس میں مرد و خواتین کا فرق اور عمر و منصب آڑے نہیں آنا چاہیے، قرآن کی اتنی تعلیم تو فرض ہے جس سے چشم پوشی کا کوئی جواز نہیں ہے۔قرآن سیکھنا مشکل نہیں ہے، بَس تھوڑا سا جذبہ اور توجہ درکار ہے۔
تلاوتِ قرآن کے وقت معانی بھی زیر نظر اور مَلحوظِ خاطر ہونا چاہیے۔ قرآن کریم ہدایت نامہ اور جاوداں پیغام ہے،اِس پر شعورو آگہی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کے اسباب و وسائل بہم پہنچا کر دوسروں تک بھی اس پیغامِ ربانی کو پہنچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔
یوں بھی مسلمانوں کو قرآن کی زبان’عربی‘ سے اپنے آپ کو اس قدر مانوس اور مربوط رکھنا چاہیے کہ یہ ان کی اپنی زبان کے مانند ہو اور اس کے الفاظ زبانوں پر رَواں ہوں،اور ذہن اس کے الفاظ اورجملوں کے واجبی مفہوم و مطلب بَرآری کے لیے ہم وار ہو، اور اس کی صحیح مراد تک پہنچنے کے لیے اہلِ فکر و نظر سے رابطہ اوراس بابت معتَبَر علمی کاوشیں زیرِ مطالعہ ہوں، یعنی قرآن کریم کے ساتھ ہمارا تعلق عقیدت کے ساتھ علمیت اور شعور و آگہی کا ہو کہ قرآن ہمارے لیے علم و ہدایت کا نگار خانہ ہو۔اس کے ساتھ ہمارا رویّہ اس طرح کا نہ ہو، جیسا کہ بَد قسمتی سے ہے کہ جادو مَنتَر کی زبان کی طرح اسے بھی پڑھا اور سنا جارہا ہے اور ہمارے ذہنوں کی زیبائش کے بجائے طاقوں اور الماریوں کی زینت بنا ہوا ہے۔یہ طرزِ عمل قرآن مجید کے تَقدس، مَنصَب اور اس کی شان کے خلاف ہے۔
یہ اپنے آپ میں کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ہمارے پاس زندگی کا دستور، ہدایت نامہ اور اللہ کی خوش نودی کا سَرچشمہ موجود ہے، لیکن ہم اس سے نا آشنا اور بے بہرہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو رمضان اور تلاوتِ قرآن کی لازوال برکتوں سے نوازے، اور قرآن کریم کے نورِ ہدایت سے تقویٰ والی زندگی عطا فرماکر دونوں جہاں میں کامیابی و سرروئی سے ہمکنار فرمائے۔ بخاری شریف میں ہے :”حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب حضرت جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور بڑھ جاتی۔ وہ رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آنحضرت کے ساتھ قرآن مجید کا دَور کرتے۔ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احسان کرنے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔“(بخاری،کتاب المناقب)
اسی طرح حدیث میں ہے :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسد (رَشک) تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے۔ پہلا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کے مِثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا، جس طرح یہ کرتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صَرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے کاش مجھے بھی اتنا مال ملتا جتنا اسے ملا ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔“( متفق علیہ)۔
الغرض رمضان کا مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔اس ماہ کی قدر کرکے مقدَر کو سجایا و سنوارا جاسکتا ہے۔یہ مہینہ اعمالِ خیر کو زیادہ سے زیادہ انجام دینے والوں کے حق میں ہی رحمت، مغفرت اور جہنم سے خلاصی کا ذریعہ ہے۔کاش قرآن ہمارا سِفارشی اور یہ مقدس مہینہ ہمارے لیے رحمت و مغفرت کے پروانہ کا باعث ہو۔












