سید پرویز قیصر
سری لنکا کے سابق بین الاقوامی کھلاڑی رنجن مدوگلے چار سو ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دینے والے پہلے کھلاڑی بنے۔ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان کولمبو کے آر۔پریم داسا اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تیسرا اور آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ انکا بطور ریفری چار سو واں ایک روزہ بین الاقوامی میچ تھا۔
سری لنکا کی جانب سے1979 اور 1988 کے درمیان21 ٹسٹ میچ اور63 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلنے والے رنجن مدوگلے سری لنکا کی جانب سے پہلے تین عالمی کپوں میں حصہ لیا اور سری لنکا کی جانب سے پہلا ٹسٹ کھیلنے والی ٹیم کے رکن بھی تھے۔ انہوں نے جب پہلی مرتبہ ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں ریفری کے فرائض انجام دیئے تھے تو وہ34 سال اور246 دن کے تھے ۔ اس عمر میں کھلاڑی میچوں میں شرکت کی سوچتے ہیں ناکہ ریفری بنے کے بارے میں۔ کراچی میں پاکستان اور زمبابوے کے خلاف24 دسمبر 1993 کو کھیلا گیا ایک روزہ بین الاقوامی میچ ایک ریفری کے طور پر ان کا پہلا تھا۔
رنجن مدوگلے نے سب سے زیادہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری کے فرائض آسڑیلیا میں کھیلے گئے میچوں میں انجام دیئے ہیں۔ وہ آسڑیلیا میں56 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری بنے ہیں۔ انگلینڈ اور ہندوستان میں وہ48۔48ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں وہ 41ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میںایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں، بنگلہ دیش میں 36ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں، ویسٹ انڈیز میں 33ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں اور سری لنکا میں 32ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری بنے ہیں۔پاکستان میں وہ 20 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ، متحدہ عرب امارات میں 16 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں اورآئیر لینڈ میں 11 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری بنے ہیں۔،زمبابوے میں سات ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں، سنگا پور میں پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ، کنیڈا اور کینیا میں وہ چار۔چارایک روزہ بین الاقوامی میچوںمیں اور اسکاٹ لینڈ میں تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری رہے ہیں۔
چار سو ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری بنے کے بعد انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے انہیں پرتپاک مبارکباد دی ہے۔ انہیں تیسرا اور آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ شروع ہونے سے پہلے سری لنکا کرکٹ بورڈ کے سی ای او ایشلے ڈی سلوا نے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے خصوصی تمغہ سے بھی نوازا گیا۔
رنجن مدوگلے کو ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دیتے ہوئے31 سال کا طویل عرصہ ہوگیا ہے۔ ان سے زیادہ عرصے تک کوئی دوسرا کھلاڑی اس مقام پرنہیں رہا۔ انہوں نے 1999،2003،2015 اور2019 کے عالمی کپ کے فائنل میں ریفری تھے۔ اس کے علاوہ وہ کل سات عالمی کپیوں میں ریفری رہ چکے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لئے عظیم اعزاز اور استحقاق ہے کہ میں نے اتنے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ریفری کے فرایض انجام دیئے۔ ایسا کرنے میں مجھے دنیا بھر کے ملکوں میں جانے کا موقع ملا۔ میں نے سات عالمی کپوں میں ایسا کیا جو میرے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید نہیں تھی کہ میں تین دہائیوں تک ایسا کرسکوں گا۔
رنجن مدوگلے نے216 ٹسٹ میچوں اور 163 ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دیئے ۔ ایسا کوئی دوسرا کھلاڑی کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔












