ہندوستان میں میڈیا کی توسیع بہت تیزی سے ہوئی ہے کیوں کہ یہ صارف ملک ہے یہاں کچھ بھی فروخت کیا جاسکتا ہے۔ اندھوں کے شہر میں آئینہ اور گنجوں کے شہر میں کنگھی آسانی سے فروخت کی جاسکتی ہے۔ اس کا فائدہ غیر ملکی صنعت کاروں نے جم کر اٹھایا۔جو چیزیں دوسرے ملک میں فروخت نہیں کرسکتے انہیں ہندوستان میں بہ آسانی بیچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیابھر کی کمپنیاں اپنے گھٹیا سامان بیچنے ہندوستان چلی آئیں۔ معیاری سامان سے گھٹیا سامان فروخت کرنے میں یہاںکے بنیا ذہنیت کے پڑھے لکھے لوگوں نے کافی مدد کی ۔ ایسے لوگوں نے یہاں کی ذہنیت کی ترجمانی کرتے ہوئے کمپنیوں کو گمراہ کیا کہ یہاں معیاری سامان بیچنے کے بجائے کوئی بھی گھٹیا سامان بیچا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے الم غلم خبریں یہاں آسانی بیچی جاتی ہیں بلکہ ایک بڑے طبقے کو اس طرح کی خبروں میں مزہ آتا ہے اور ان کو من و عن تسلیم کرلیتے ہیں۔ دماغ کا استعمال بالکل نہیں کرتے۔ ہندوستان دنیا کا شاید واحد ملک ہے جہاں عوام کا ذہن منطقی نہیں ہے وہ کسی بھی چیز پر عام طور پر کھلے ذہن سے غور و فکر نہیں کرتے۔ حقائق کو جاننے کے لئے کسی دلائق اور حقائق کی تہہ میں جانا پسند نہیں کرتے۔ جن کو وہ تسلیم کرتے ہیں اگر ان کی طرف سے یہ کہا جائے گا کہ سورج مشرق سے نہیں مغرب سے نکلتا ہے تو یہ لوگ تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ اسی ذہنیت کا فائدہ حکمراں پارٹی اٹھارہی ہے اور ایک طرح سے لوگوں کو وہمی، گمراہ اور جہالت اور جھوٹ کا دلدادہ بنادیا گیا ہے۔ جو چیز بھی واٹسپ یونیورسٹی سے آجائے اسے تسلیم کرنے میں کوئی قیل و قال نہیں کرتے۔ اس کا نظارہ یہاں کے دانشور طبقہ نے خوب کیا ہے۔ کورونا کے دوران تالی تھالی، موبائل ٹارچ، لائٹ آف جیسے بے وقوفانہ ، غیر دانشمندانہ کام بیرون دنیا میں ملک کے وقار مجروح کرنے کیلئے کافی تھا لیکن یہاں اسے میڈیا نے ماسٹر اسٹروک قرار دیا تھا۔ اس سے میڈیا کی قابلیت ، سمجھ اور حکومت کے سامنے سجدہ ریز ہونے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جوں جوں ہندی زبان کا عروج ہوا ہے میڈیا کا معیار گرا ہے۔ پہلے جتنے بھی بڑے بڑے ایڈیٹر ہوا کرتے تھے وہ اردو زبان سے بھی آشنا ہوتے تھے، ان کی دلچسپی، اردو شاعری، افسانہ، ناول، دوسرے اصناف میںہوتی تھی اور اس طرح وہ میڈیا میں انصاف کرپاتے تھے لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ آج میڈیا میں کام کرنے والے بیشتر افراد کو مسلمانوں اور اسلام یا اردو زبان کے بارے میں زیادہ کچھ معلوم نہیں۔ ا ن کو وہی معلوم ہے جو کرایا جاتا ہے۔
تجربہ کار کاروباری صحافی ونیتا کوہلی کھانڈیکر کے مطابق، 2021 میں ہندوستانی میڈیا کا کاروبار $19 بلین کی صنعت کا تخمینہ ہے۔ہندوستانی میڈیا کی صنعت دنیا میں سب سے بڑی ہے اور اس وقت یہاں ساڑھے تین سو ٹی وی چینیلز اور پچاس ہزار اخبار کام کررہے ہیں۔ اسکے علاوہ ہندوستان ریڈیو نیٹ ورک کے اعتبار سے بھی دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، مگر اسے مکمل طور پر حکومت کنٹرول کرتی ہے۔ نجی ریڈیو چینیلز کو خبریں اور حالات حاضرہ کے پروگرام نشر کرنے کی اجازت نہیں۔ اخبارات اورٹی وی چینیلز کو زیادہ تر کثیر الملکی ادارے چلارہے ہیں۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا چینلز کی اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود اس میں عوامی مسائل کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ روزنامہ دی ہندو کے دیہی امور کے ایڈیٹرپی سائی ناتھ "وہ ملک جہاں دنیا میں سب سے زیادہ غریب افراد بستے ہیں، کے اخبارات اور چینیلز غربت کے خاتمے کو زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔ اگر آپ اپنی آبادی کے ستر فیصد حصے کے بارے میں بات نہیں کریں گے تو پھر آپ کس چیز کی عکاسی کریں گے۔ ہماری ستر فیصد آبادی کو وہ خبر کا حصہ ہی نہیں سمجھتے، تاہم اگر کسی حادثے میں دوسو افراد مرجائے تو یہ خبر بن جاتی ہے۔ ان کے پاس زیادہ ہلاکتیں ہی خبر بنانے کی وجہ ہے”۔
جو صحافی عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں ان کا ٹھکانہ جیل ہوتا ہے یا نوکری سے ہاتھ دھونا ہوتا ہے۔ انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ان کے بچوں کے مستقبل برباد کرنے، آبرویزی کرنے، قتل کرنے اسی طرح کی دیگر دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ این ٹی ڈی وی کے سابق گروپ ایڈیٹر رویش کمار یہ دھمکیاں برداشت کرتے ہوئے راہ حق چل رہے تھے۔ ہر طرح سے ان کو خریدنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو چور دروازے ان کے چینل کو ہی خرید لیا گیا۔ ان کے پاس اس سے استعفی دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔ جو سچ کے راستے پر چلتے ہیں اور عوام کے مسائل کو حوصلے سے اٹھاتے ہیں وہ محض پیسے کے لئے اپنے اصول کو قربان نہیں کرتے۔ان کے پاس اصول کے علاوہ ہوتا بھی کیا ہے۔ رویش کمار نے استعفی دے کر جہاں میڈیا اہلکاروں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ رسید کیا ہے وہیں صحیح صحافت کرنے والے کو راستہ بھی دکھایا ہے۔ وہ حکومتی صحافی کے بجائے عوامی صحافی بنے اور عوام نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ صرف دو دن کے اندر دو ملین سے زائد ان کے یوٹیوب چینل پر سبسکرائبر بن گئے۔ یہ حصہ شاید ہی کسی کے حصے میں آیا ہو۔ ہندی کے واحد ایسے صحافی تھے جو روزگار، تعلیم، صحت، صنعت، فیکٹریاں، اسکول، کالج ، یونیورسٹی ، اسپتال اور عوامی بہبود سے متعلق حکومت کی اسکیموں کی بات کرتے تھے۔ وہاں مرغوں کی لڑائی دکھانے کے بجائے حکومت کو آئینہ دکھاتے تھے۔ انہوںنے ہندو مسلم کے درمیان نفرت پھلانے والوںکی خبر لینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ ان کے سوال سے خوفزدہ ہوکر بی جے پی والوں نے اپنے ترجمان بھیجنا بند کردیا تھا۔ رویش کمار اور آنجہانی ونود دوانے ہمیشہ حکومت کا بھونپو بننے کے بجائے عوام کی آواز بن کر حکومت پر گرجتے برستے رہتے۔ ہندوستان میںسچا صحافی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے راستے پر پتھر اور کانٹے ہوتے ہیں۔
اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں ہندی روزنامہ’ امراجالا ‘ کے نامہ نگار سمیع الدین نیلو بہرحال خوش قسمت تھے کہ پولیس کے ہاتھوں ’انکاونٹر‘ ہونے سے بچ گئے تھے۔سمیع الدین نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ضلع میں پولیس کی زیادتیوں اور سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں سے متعلق کئی خبریں شائع کیں جس کے بعد بعض افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی بھی ہوئی۔اس سے انتظامیہ ان سے ناراض ہوگئی اور منہ بند رکھنے یا سنگین نتائج کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی ۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ انہیں جھوٹے الزام میں پھنسانے یا جان سے مارنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، تو انہوں نے اس سلسلے میں ریاست کے اعلی افسران اور حقوق انسانی کمیشن کو ایک درخواست دی۔اس کے ایک ہفتے کے بعد ہی پولیس والوں نے ایک رات ان کو اغوا کر لیا اور ’انکاونٹر‘ میں مارنے کی کوشش کی لیکن جب انہیں یہ پتہ چلا کہ’’میں نے اپنی شکایت پہلے ہی اعلٰی حکام اور حقوق انسانی کمیشن میں کردی ہے تو پولیس والوں نے جان سے مارنے کے بجائے جھوٹے الزام میں جیل میں ڈال دیا۔‘‘ بہرحال صحافیوں کی کوششوں کے بدولت انہیں بعد میں جیل سے رہائی نصیب ہوگئی۔ چھتیس گڑھ کے ڈاکٹر راجا رام ترپاٹھی نے بھی ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہوں نے قبائلی علاقے بستر سے جب اپنے چار دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ہفت روزہ بستر ٹائمز شروع کیا اور ایک قبائلی خاتون کی عصمت دری کی رپورٹ شائع کی تو سیاست دانوں سمیت مختلف حلقوں سے اتنا زبردست دباؤ پڑا کہ ان کا ایک ساتھی خودکشی کرنے پر مجبور ہوگیا جب کہ دوسرا ساتھی کہیں روپوش ہوگیا، جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ صحافیوں پر اس طرح کے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے مدنظر میڈیا سے وابستہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کرے تاکہ ہندوستان میں آزاد میڈیا کا پرچم بلند رہ سکے۔ انڈین فیڈریشن آف ورکنگ جرنلسٹس کے صدر وکرم راؤ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے شہروں اور قصبات میں اور بالخصوص انتہاپسندی سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو دوہری مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایک طرف انتظامیہ کا دباؤ رہتا ہے تو دوسری طرف انتہاپسند تنظیمیں انہیں دھمکاتی رہتی ہیں۔
صحافیوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر فعال ایک تنظیم کے مطابق ہندوستان میں تنازعات کے شکار علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان میں، جو دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، بدامنی اور مسلح تنازعات کے شکار علاقوں میں فرائض انجام دینے والے صحافیوں کو اس طرح کی سکیورٹی سہولیات حاصل نہیں ہیں، جو ہندوستان ہی کے بڑے شہروں میں مصروف عمل صحافیوں کو حاصل ہوتی ہیں۔روس میں سن دوہزار سے اب تک اٹھارہ صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے اس تنظیم نے اپنے بیان میں ہندوستانی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے دو مختلف ہندوستانی ریاستوں میں ان دو صحافیوں کی گرفتاری کی وضاحت کرے، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ طور پر کمیونسٹ باغیوں سے ملاقات کی تھی۔فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں قائم صحافیوں کی اس تنظیم نیہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری حکام کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف صحافیوں کو تحفظ کی ضمانت دے۔اس کی ایک مثال دیتے ہوئے ہندوستانی ریاست چھتیس گڑھ کے وسطی علاقے میں ایک ایسی ملیشیا کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جسے پولیس کی حمایت حاصل ہے اور جو صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو دھمکی آمیز خط بھیجتی رہتی ہے۔ اس ملیشیا کی طرف سے تین صحافیوں کو گزشتہ ماہ ایسے خط بھیجے گئے تھے، جن میں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ وہ یا تو اس ہندوستانی ریاست سے چلے جائیں یا پھر ’کتے کی موت‘ مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
ہندوستانی میڈیا کس قدر امتیاز برتتا ہے اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوستانی میڈیا پر وقتاً فوقتاً آزمائشی وقت آتا رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک براوقت اگست کے چوتھے ہفتے میں آیا جب 24 تاریخ کو کانپور میں ایک نجی ہوسٹل کے اندر زور دار دھماکہ ہوا۔ دو افراد کے پرخچے اڑگئے۔ کئی زخمی ہوئے۔ پولیس نے گولہ بارود اور بم بنانے کا دوسرا سامان بڑی مقدار میں برآمد کیا۔ یہ بھی بتایا کہ یہ لوگ شہر میں تشدد اور تخریب کاری کی کوئی بڑی کارروائی کرنے والے تھے۔ اب پورا میڈیا یعنی درجنوں ٹی وی چینل اور ہندی انگریزی کے بیسیوں اخبارات سخت آزمائش میں پڑگئے کہ اس واقعہ کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے۔ کیونکہ واقعہ انتہائی اہم ہونے کے باوجود میڈیا کی دلچسپی کا نہ تھا۔ مشکل یہ تھی کہ اگر اس کی خبر من وعن دی جاتی ہے تو یہ نہ صرف میڈیا کی پسندیدہ اور اختیار کردہ لائن کے خلاف ہوگا بلکہ اس سے حالیہ عرصہ میں ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ واقعہ اتنا اچانک رونما ہوا اور آس پاس کے لوگوں کے علم میں بھی آگیا کہ ’’کسی‘‘ کو اسے فی الفور دبا کر کوئی نئی اور روایتی کہانی گھڑنے کاموقع نہیں ملا۔ ہلاک ہونے والوں کے نام ”راجیو مشرا اور بھوپندر سنگھ” معلوم ہوگئے تھے۔ ہوسٹل کے مالک کا نام شیوسرن مشرا تھا۔لیکن واقعہ چونکہ اتنا سنسنی خیز تھا اور ملک کے ایک بڑے شہرمیں اور دن کے تین بجے کی روشنی میں پیش آیا تھا کہ اسے نظر انداز کرنابھی چینلوں اور اخباروں کے لئے شرم کی بات تھی۔ میڈیا کے لئے یہ ایک سخت آزمائشی گھڑی تھی۔ بالآخر میڈیا نے اپنی پیشہ ورانہ دیانتداری کو ”جوفی الواقع اپنا وجود نہیں رکھتی” بالائے طاق رکھ کر اپنے کاروباری مفاد اور سیاسی جھکاؤ کو ترجیح دی اور خبر کا مکمل بلیک آؤٹ کردیا۔ چینل بالکل خاموش تھے۔ 25اگست کے ٹائمز آف انڈیا، انڈین ایکسپریس، دی ہندو، دی اسٹیٹس مین اور دوسرے بہت سے بڑے اخباروں میں یہ خبر یکسر تھی ہی نہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے اندرونی صفحہ پر ایک مختصر خبر بے دلی کے ساتھ دے دی تھی۔ پانیئر نے قدرے تفصیل بتائی مگر رنگ آمیزی بھی کی۔ البتہ دینک جاگرن اور آج نے ضروری تفصیل اور تصویر کے ساتھ دی۔ باقی بیشتر اخبارات اس طرح خاموش رہے کہ گویا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ چینلوں اور اخباروں میں سیمی پر پابندی اور اس کے مبینہ کارکنوں کی خطرناک سرگرمیوں کی سنسنی خیز رپورٹنگ کا سلسلہ اچانک تیز ہوگیا۔ 25 اگست کے ’’جرنلزم آف کریج‘‘ یعنی انڈین ایکسپریس نے اپنی پہلی بڑی خبر سیمی پر پابندی میں توسیع اور لکھنؤ کے شہباز کی گرفتاری کی بنائی تاکہ کانپور اْبھر نہ سکے۔
میڈیا کی پسندوناپسند اور جانبداری کی یہ تازہ ترین مثال ہے۔ کانپور کی خبر میڈیا کے لئے اْس وقت خبر بنتی جب واقعہ توعین یہی ہوتا لیکن کردار دوسرے ہوتے ”یا کم از کم کردار بدلنے کا موقع مل جاتا” پھر میڈیا کا جوش دیکھنے کے قابل ہوتا۔ تمام چینل اور اخبارات ایک آواز میں چیخ پڑتے ’’جے پور، بنگلور، احمد آباد کے بعد اب کانپور، دہشت گردوں کے حوصلے بلند، نیٹ ورک بڑھاتے جارہے ہیں۔ مقامی افراد کے شامل ہونے کے اشارے‘‘ پھر مسالہ استعمال ہوتا ’’چار ڈاڑھی والے نوجوان ایک دن قبل مشتبہ حالت میںجائے واردات پر دیکھے گئے تھے۔‘‘ دور کی کوڑیاں لائی جاتیں۔’’کانپور کا مٹیریل انڈونیشیا میں تیار ہوا تھا۔ وہاں سے سنگاپور لایاگیا، پھر بنگلہ دیش کی سرحد سے کانپور پہنچا۔ سرمایہ ایک مسلم ملک نے فراہم کیا تھا۔‘‘ لوگوں کو مزید خوف زدہ کرنے کے لئے کہاجاتا ’’اگر دہشت گرد اپنے منصوبے میں کامیاب ہوجاتے تو کانپور تباہ ہوجاتا۔۔۔ دہشت گرد کچھ بڑی شخصیتوں کو بھی نشانہ بناناچاہتے تھے۔۔۔ ‘‘ ٹی وی اسکرین پر یہ گونج آج تک سنائی دیتی۔ اخبارات اسٹوریوں پراسٹوریاں لاتے۔ ہر روز اداریے لکھتے۔ یہ محض قیاس یا بدگمانی نہیں، اس کے پیچھے شواہد موجود ہیں۔ ذمہ دار شہریوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ میڈیا کایہ کردار ملک کے لئے کیسا ہے، مفید یا مضر؟












