• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 18, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

نفرت کے پروانے

سید سرفراز احمد

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 29, 2023
0 0
A A
نفرت کے پروانے
Share on FacebookShare on Twitter

محبت اور نفرت یہ دو بول کا سیاست سے بہت گہرا تعلق ہے اسلئے کہ ذاتی مفادات اور سیاسی مفادات کی بنیاد ان ہی پر قائم ہے اور ان دو بول کا استعمال تب ہی ہوتا ہے جہاں الگ الگ مذاہب کے ماننے والے ہوتے ہوں ورنہ نفرت اور محبت کا کھیل ایک طرفہ نہیں کھیلا جاسکتا جیسے کہ یورپ میں آفریقہ میں دیکھا جاتا ہے کہ گورے اور کالے کی لڑائی ہوتی ہے اگر پوری دنیا پر نظر ڈالی جائے تو نفرت کی وجہ ایک ہی ملتی ہے وہ ہے مسلمان چونکہ چاہے عیسائی ہو یا یہودی یا ہندو ان تمام کو کوفت اور حسد لفظ اسلام و مسلمان اور ان سے جڑی ہر چیز سے ہوتی ہے دنیا کے دیگر ممالک و مذاہب مسلمانوں کو دنیا کے نقشے پر سے ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ بھارت کی اکثریت ہندوتو بھارت کے مسلمانوں کو کے کندھے پر بندوق رکھتے ہوئے اپنا سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے زریعہ سے وہ ملک میں ہندوتو کو نافذ کرنا چاہتے ہیں جنکا واحد مقصد اس ملک کو ہندو راشٹر بنایا جائے اور مسلمانوں کو بھی ثانوی درجہ کے شہری بناکر اس ملک میں جینے کھانے پینے رہنے کا حق دیا جائے اسی لئے آئے دن ہر روز نفرت کے ماحول کو گرم کیا جاتا ہے یعنی اس نفرت کی آگ کو بجھنے نہیں دیا جارہا ہے اگر اس کے شعلے بھڑک بھڑک کر بجھنے کی در پر آتے ہوں تو پھر فوری تیل ڈالنے کا کام کیا جاتا ہے تاکہ یہ نفرت کی آگ مسلسل چلتی رہے اور سیاست کھلتی ہے اور مقصد کی طرف آگے بڑھتے رہے۔
ملک میں نفرت کے پروانوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے کوئی دن ایسا خالی نہیں جاتا کہ ملک میں کسی نے نفرت کی زبان کا اقرار نہ کیا ہو اگر صرف گذشتہ ایک ہفتہ کا جائزہ لیا جائے تو نفرت کے شیدائی نے نفرت کا بہت زور دکھایا ہیمنت بسوا سرما آسام کے وزیر اعلی ہیں جو مسلمانوں کے کٹر مخالف اپنا کام انجام دے رہے ہیں بالخصوص مدارس اسلامیہ کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں انھوں نے حالیہ ایک بیان میں دعوی کیا کہ آسام میں 600 مدارس اسلامیہ کو بند کردیا ہے جبکہ بہت جلد آسام کے تمام مدارس کو بند کرتے ہوئے اسکولس اور کالیجس بنائے جائیں گے کرناٹک میں ان دنوں حلال اذان پر ہندوتو کا ناٹک بڑے زور و شور سے چل رہا ہے ابھی اسی ہفتہ میں ہندو کارکنوں کی جانب سے حلال بمقابلہ جھٹکا تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہندوؤ ں میں یہ پیغام عام کیا جارہا ہے کہ حلال گوشت کا استعمال نہ کریں مطلب یہ کہ مسلمانوں کے پاس سے حلال گوشت نہ خریدیں یہی نہیں بلکہ ہندو جاگروتی کے کاکنان نے بنگلور کے ایک کلکٹر کو یاداشت بھی حوالے کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حلال گوشت فروخت کرنے کی سند نہ دی جائے اور حلال گوشت کی فروخت پر بھی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تیسری طرف بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ سوارا بھاسکر نے فہد احمد سے کورٹ میرج کرلی کورٹ میرج کے بعد سوارا بھاسکر نے ہلدی مہندی کی تقریب کے ساتھ دوبارہ شادی کی شادی کے بعد اداکارہ نے استقبالیہ دیا جس کی تصاویرٹوئٹر پر شیئرکی گئی اب اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے وی ایچ پی لیڈر سادھوی پراچی نے ٹرول کرتے ہوئے طنزیہ وار میں لکھا کہ کوئی اندازہ ہے بھی؟ فریج یا سوٹ کیس؟چوتھی طرف مہاراشٹر نو نرمان کے سربراہ راج ٹھاکرے نے رمضان کی آمد سے قبل شرانگیزی پھیلاتے ہوئے زہر افشانی کی اور کہا کہ مساجد سے لاؤ ڈ اسپیکر ہٹائے جائیں اور لاؤ ڈ اسپیکر سے اذان کو بند کرنے کا مہاراشٹر سرکار سے مطالبہ کیا اس سے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ ممبی کے جنوبی وسط میں حضرت مخدوم شاہ کے مزار کے عقبی حصہ میں ساحل کے کنارے ایک چٹان پر موجود تعمیر حضرت خضر چلہ کی غیر قانونی تعمیر کا دعوی کرتے ہوئے مہاراشٹر سرکار کو چیلنج کیا کہ اگر اندرون ایک ماہ میں یہ چلہ نہیں ہٹایا جائے گاتو اس درگاہ کے سامنے ایک بڑا گنپتی مندر تعمیر کروانے کا دعوی کیا مزید ہندوؤ ں کو ورغلاتے ہوئے کہا کہ مجھے جنونی ہندو نہیں مذہبی ہندو چاہئے۔
یہ ہے ہمارے ملک میں نفرت کا عروج اور محبت کےزوال کی داستان پل پل میں نئے نئے قسم کے متنازعہ بنایانات اور نفرتی بھاشن نے ملک کو اندرونی طور پر منقسم کرکے رکھ دیا ہے مسلمانوں کے تئیں دلوں میں کدورت کوٹ کوٹ کر بھردی گئی ہیمنت بسوا سرما آسام کے وزیر اعلی کاناجانے مسلمانوں نے کیا بگاڑدیا جو مسلمانوں کے جانی مالی دشمن بنے ہوئے ہیں مدارس اسلامیہ کو غیر قانونی بتاکر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں مدارس کو دہشت گردی کے ٹھکانےاور اساتذہ کو دہشت گرد کے طور پر گرفتار کیا جاتا ہے اب تو بسوا سرما نے حد بھی پار کردی کہ مدارس اسلامیہ کی جگہ اسکولس اور کالجس بنانے کا بیان دیا پہلے کو کسی بھی ریاست کے وزیر اعلی حیثیت سے ایسے بیانات جاری کرنا ملک کے امن و امان کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے اور انھیں یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح جانبدارانہ بیانات دیتے ہوئے مسلمانوں کو اذیت پہنچائیں کہا جاتا ہے حکومت کی نیت اچھی ہوتو ترقی کے کئی راستے کھلتے ہیں جب نیت میں کھوٹ ہوتو سوئی کی جگہ سبل کا بھی استعمال کیا جاتا ہے بالکل ہیمنت بسوا سرما نے ایسا ہی کیا ہے اگر آسام کے وزیر اعلی کو اسکولس اور کالجس تعمیر کروانے ہوں تو انھیں کس نے تعمیر کروانے سے روکا یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ تعلیم کیلئے حکومت جب سنجیدگی سے کام لیتی ہے تو عوام اسکا استقبال کرتی ہے لیکن یہ کہاں کی بھلائی ہے کہ مدارس اسلامیہ کو ہٹاکر اسکولس اور کالجس تعمیر کروائے جائیں یہ تو بسوا سرما کی اور انکی حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے وہ سماج اور عوام کی بھلائی کیلئے اسکولس اور کالجس نہیں بنوارہے ہیں بلکہ آسام سے مدارس اسلامیہ کو معدوم کرنے کیلئے بنوارہے ہیں مسلمانوں کی اکثریت اسکولس اور دنیاوی تعلیم سے ہی آراستہ ہے لیکن جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس ملک کا آئین یہ اجازت دیتا ہے کہ میں اپنے مذہب پر عمل پیرا اور اسکی تبلیغ کرسکتا ہوں یہ میری مذہبی آزادی ہے جسکو آسام حکومت سلب کرنا چاہتی ہے جو جمہوریت کا قتل اور آمریت کو ابھارنے کے مترادف ہے کیا ملک میں دیگر مذاہب کے مذہبی درس گاہیں نہیں چلتی ہیں کیا کبھی مسلمانوں نے ان مذاہب کے مذہبی حقوق کو چھین نے کا مطالبہ کیا ہے نہیں تو پھر مسلمانوں کے مدارس کو ہی کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے کرناٹک میں حلال گوشت پر پابندی کی مانگ کی جارہی ہے اور ہندوتوا تنظیمیں کرناٹک اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سرگرم ہوچکی ہیں کسی بھی مذہب کو کس نے روکا کہ وہ حلال کھائیں کہ حرام لیکن ہر ایک کو آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کھائیں لیکن حلال گوشت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ آئین کے بالکل متضاد ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسا مطالبہ کرنے والوں پر قانونی کاروائی کی جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ فی الحال جمہوریت کو بے آبرو کیا جارہا ہے اور جمہوریت کے ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ سوارا بھاسکر نے فہد احمد سے کورٹ میرج کرلی جس پر طنزیہ وار کرتے ہوئے سادھی پراچی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ کچھ اندازہ ہے؟سوٹ کیس یا فریج جسکا واضح مطلب یہ کہ حالیہ کچھ دن قبل ایک لیو ان ریلیشن شپ کا کیس سامنے آیا تھا جس میں ایک مسلم نوجوان نے اپنی ساتھی کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے فریج میں چھپادیئے تھے جسکے بعد ایسے واقعات رونما ہوتے دیکھے گئے جبکہ سوارا بھاسکر اور فہد احمد کی شادی ہوئی ہے اور جو واقعات ہوئے ہیں وہ لیو ان ریلیشن شپ کے ہیں جسکی آزادی اس ملک کی عدلیہ اور حکومت نے دی ہے کہ کوئی بھی نوجوان لڑکا لڑکی سن بلوغت پہنچنے کے بعد اپنا طبعی تعلق بناکر ایک دوسرے ساتھ بناءشادی کیئے زندگی بسر کرسکتے ہیں ایسے بیانات دینے والے صرف نفرت کے پروانے ہوتے ہیں وہ چاہتے ہیں کسی بھی طرح سماج میں نفرت پھیلے اور انتشار کی کیفیت کا عروج ہو کیا سادھوی پراچی نے کبھی اس قانون کے خلاف کیوں نہیں کہا جب یہ قانون بنایا جارہا تھا جسکی بنیاد ہی غلط ہو تو وہ بھلا بھلائی کا راستہ کیسے ہموار کرسکتا ہے فہد احمد اور سوارا بھاسکر کی شادی ہوئی ہے وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں قانون نے انھیں اجازت دی ہیں وہ چاہے تو اپنے راستے ایک بناسکتے ہیں یا الگ الگ کرسکتے ہیں سادھوی پراچی کو اسکی بنیاد پر غور کرنا ہوگا اور خود انکے اپنے مذہب کا بھی انھیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے چوتھی طرف مہاراشٹر نونرمان کے سربراہ راج ٹھاکرے جو زہر افشانی میں اپنا ایک وجود رکھتے ہیں انھوں نے ممبئی کے شیواجی پارک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جو زہر اگلا ہے وہ مہاراشٹر ہی کیلئے نہیں بلکہ پورے ملک کے امن و امان کیلئے نقصاندہ ہے رمضان کی آمد سے قبل مساجد سے لاؤ ڈ اسپیکر پر اذان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہااگر نہ ہٹایاجائے گا تو ہم خود ہٹائیں گے مہاراشٹر ایک ایسی ریاست ہے جہاں ہندو طبقہ کی اکثریت ہے اور شیواجی کے پرستاروں کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ منادر اور ہندو مذہبی گاہوں سے کئی کئی دن کے پروگرامس چلتے ہیں جہاں لاؤ ڈ اسپیکر کھلے عام طور پر چلایا جاتا ہے بلکہ علاقہ واری سطح پر اسپیکر بھی لگائے جاتے ہیں تاکہ عوام تک پیغام عام ہوسکے جبکہ اسکی بہ نسبت لاؤ ڈ اسپیکر پر اذان صرف تین سے پانچ منٹ میں مکمل ہوجاتی ہے تو سوال یہ ہے کہ راج ٹھاکرے کو اذان سے تکلیف ہے یا لاؤ ڈ اسپیکر سے؟ ظاہر سی بات ہے کہ راج ٹھاکرے اپنی سیاسی بساط کھو چکے ہیں اسی لئے وہ سیاست میں اپنے مضبوط قدم جمانے کیلئے مسلمانوں کو نشانے پر لیتے ہیں انھیں یہ اندازہ ہے کہ میں مسلمانوں اور انکے اسلام کے ذریعہ ہی ایک بڑا سیاسی لیڈر بن سکتا ہوں کیونکہ پورے ملک میں مسلمان اور اسلام ہی کے نام پر سیاست کررہے ہیں محض صرف اسی لئے کہ ہندو طبقہ کو اپنا حامی بناکر ووٹ بٹور سکیں تعجب تو شنڈے حکومت پر ہورہا ہے راج ٹھاکرے نے ساحل سمندر کے کنارے چٹان پر موجود درگاہ کو غیر قانونی تعمیر کا دعوی کیا اور مہاراشٹر حکومت کو چیلنج کیا کہ اندرون ایک ماہ میں یہ درگاہ نہ ہٹائی جائے تو ہم اسکے سامنے ایک بڑا گنیش مندر بنائیں گے راج ٹھاکرے کی اس چینوتی سے گھبراکر اور انکے سامنے گھٹنے ٹیک کر شنڈے حکومت نے اندورن بارہ گھنٹے میں ممبئی مونسپل کارپوریشن کی جانب سے اس درگاہ پر بلڈوزر کی کاروائی کردی گئی اب بھلا اس معاملہ کو شنڈے حکومت کی ہار کہیں یا راج ٹھاکرے کی جیت دونوں نے کشمکش میں مبتلا کردیا ہے بہر حال سیاسی بساط کی خاطر مسلمانوں اور اسلام کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور نفرت کے پروانوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے حکومتوں سے کوئی امید باقی نہیں ہے عدلیہ ایسے بے لگام اور زہر افشانی کرنے والوں پر لگام کسیں تاکہ ملک میں امن و امان اور یکجہتی قائم رہ سکیں لیکن یہ بات بھی حق ہے کہ نفرت اور جھوٹ کا بیوپار ایک دن اپنا دم توڑ کر ہی رہے گا بشرط ہے کہ ہم بھی ثابت قدمی کے ساتھ اور حق گوئی کے ساتھ اسکا مقابلہ کرتے رہیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    مارچ 18, 2026
    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    مارچ 18, 2026
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist