مدھوبنی،پریس ریلیز،ہمارا سماج: دورِ حاضر کے فتنوں کے سدِ باب اور نسلِ نو کی ذہنی و فکری آبیاری کے لیے نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں اور تعلیمی مقابلے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ایسےپروگرام طلبہ وطالبات کےاندرخوابیدہ صلاحیتوں کو بیدارکرنے،ان میں خود اعتمادی پیداکرنے اورمیدانِ عمل میں اظہارمافی الضمیرکا سلیقہ سکھانے کے لیے ناگزیر ہیں۔اسی مقصدکے پیشِ نظر تعلیمِ نسواں کےحوالے سےضلع مدہوبنی کی شہرت یافتہ ممتازومنفرددینی وعصری دانش گاہ جامعہ ام الہدیٰ پرسونی میں دوسرارفیع الشان سالانہ تعلیمی مسابقےکا انعقادکیا گیا،جس میں تلاوتِ قرآن،حمدونعت اورخطابت جیسے تین اہم فروعات پر بچیوں کےدرمیان روح پرور مقابلہ ہوا۔اس پُروقارمسابقے میں بحیثیتِ حکم مفتی خالد سیف اللہ قاسمی استادِحدیث جامعہ عائشہ نورچک اور مولانا قاری جمیل اخترثاقبی ناظم تعلیمات مدرسہ تجوید القرآن تیسی نے شرکت فرمائی۔حکم صاحبان نے طالبات کی کارکردگی کاباریک بینی سے جائزہ لیا۔تلاوت میں طالبات کےحسنِ صوت،صحتِ تلفّظ اوررعایتِ تجویدکوخوب سراہا گیا۔حمد و نعت میں آوازکے سوزوگداز،کلام کےعمدہ انتخاب اوراظہارِ عقیدت کے پُروقاراندازکی بھرپورستائش کی گئی۔اورخطابت میں طالبات کے جوشِ بیاں،قوتِ استدلال،الفاظ کے برمحل انتخاب اورپُراعتمادلب ولہجے کونہایت قدرکی نگاہ سے دیکھا گیا۔تلاوت میں کہکشاں ناز بنت محمد آفتاب عالم درجہ عالمہ ثانیہ نے پہلی پوزیشن، اقرأ فاطمہ بنت محمد اشتیاق مرحوم درجہ عالمہ ثالثہ نے دوسری پوزیشن، اورمن تشاءناز بنت محمد آفتاب عالم درجہ عالمہ ثالثہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔جب کہ حمد و نعت میں ذکری پروین بنت محمد شمیم درجہ عالمہ ثانیہ پہلی پوزیشن،قدرت پروین بنت محمدشبیردرجہ دورۂ حدیث دوسری پوزیشن اورناظرین پروین بنت محمد جنیددرجہ عالمہ ثانیہ تیسری پوزیشن کی حقدارقرارپائیں۔وہیں خطابت میں سعدیہ روحی بنت مولانامحمدحسن قاسمی درجہ دورۂ حدیث نے پہلی پوزیشن،الفت پروین بنت محمد بدرالحق درجہ عالمہ ثالثہ نے دوسری پوزیشن اور راحت پروین بنت محمد مصطفی درجہ عالمہ ثانیہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تمام پوزیشن یافتہ طالبات کو خصوصی انعامات سےاور دیگرشریکِ مسابقہ طالبات کو عمومی انعامات سے نوازا گیا۔اس موقع پر جامعہ کے سرپرست اورجمیعۃ علماء گوونڈی ممبئی کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد صدر عالم صاحب قاسمی دامت برکاتہم نےاپنی خصوصی شرکت سےطالبات کی حوصلہ افزائی کی اوراپنے ناصحانہ کلمات میں فرمایا کہ دورِ جدید میں خواتین کی دینی تعلیم و تربیت معاشرے کی ناگزیر ضرورت ہے۔انہوں نے طالبات کواخلاص وتقویٰ کے ساتھ حصولِ علم کی تلقین کی۔علاوہ ازیں جامعہ کے شیخ الحدیث وصدر المدرسین مفتی اسعد اللہ قاسمی مظاہری نے قیامِ انجمن کے اغراض و مقاصداوراس کی افادیت پر نہایت مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کی۔












