یہ خبر کس قدر حوصلہ افزا ہے کہ بھارت کی سرکار نے یہ اعلان کیا ہے کہ 2024 میں ہونے والے یوم جمہوریہ کے پریڈ میں صرف خواتین شامل ہوں گی ۔دیکھنے والوں میں نہیں فوج کی جانب سے بھی اور ریاستوں کی جھانکیوں میں بھی فائٹر پلین سے پھولوں کی بارش بھی وہی کریں گی اور ٹینک و بکتر بند گاڑیوں کو بھی خواتین فوجی ہی چلا رہی ہوں گی ۔موٹر سائیکل پر بیٹھی کرتب بھی خواتین ہی کریں گی قومی دھن بھی وہی بجا رہی ہوں گی ۔کل ملا کر 2024کے یوم جمہوریت کے پریڈ سے ساری دنیا میں یہ پیغام جائے گا کہ بھارت کی موجودہ سرکار خواتین کی قدر افزائی میں دنیا کے تمام ممالک میں سب سے آگے ہے ۔اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ جب دنیا میں ہر چہار طرف جہل کی تاریکی تھی اور بھارت علمی انقلاب کی چکا چوندھ میں نہایا ہوا تھا اس وقت بھی ہر دیوتا کے ساتھ ایک نہ ایک دیوی کی پوجا ضرور کرتا تھا۔ رام کے ساتھ سیتا،شیو کے ساتھ پاروتی ۔کرشن کے ساتھ رادھا کی پوجا کا چلن تو آج بھی ہے ۔جو صدیوں سے سے ہورہا ہے ۔ہمارے ملک بھارت نے ہر دور میں ساری دنیا کو علم کی روشنی سے مالا مال کیا ہے یہ اکثر سننے میں آتا ہے ۔کب کیا تھا ؟اس کا پتہ نہیں چلتا ٹھیک اسی طرح جیسے پارلیامنٹ کے بجٹ سیشن میں پلان ضرور پیش کیا جاتا ہے اور اس کیلئے بجٹ بھی مختص کیا جاتا ہے لیکن وہ کب اور کہاں خرچ ہوتا ہے یہ پتہ ہی نہیں چلتا ۔ہمارے وزیر اعظم داد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا میں خواتین کو آگے لانے کی بات ہو رہی ہے اور انہیں ہر سطح پر آگے بڑھایا بھی جارہا ہے یوم جمہوریت کے پریڈ کو پوری طرح خواتین کا پریڈ بنانے کا پلان بنایا اور اب اس پر عمل بھی ہونے جارہا ہے ۔
ہمارے وزیر اعظم اس لئے بھی داد کے مستحق ہیں کہ وہ ہر کام انوکھے انداز میں کرتے ہیں ۔اب آپ خود دیکھئے کہ عین اس وقت جب ملک میں ہر چہار طرف خواتین پر زیادتی کا گراف آسمان چھو رہا ہے ۔سینگر اور چنمیا نند جیسے بلاتکاری ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں ۔پہلوان خواتین دھرنے پر بیٹھ کر چیخ رہی ہیں کہ ان کے ساتھ کشتی سنگھ کے صدر نے جسمانی زیادتی کی ہے ۔لیکن پولیس ایف آئی آر لکھنے کو راضی نہیں کیونکہ وہ شخص بی جے پی کا ممبر آف پارلیامنٹ بھی ہے ۔اور جب عدالت عالیہ کی مداخلت کے بعد اس پر ایف آئی آر بھی ہوتا ہے تو پولیس نہ تو اس ملزم سے کوئی پوچھ گچھ کرتی ہے اور نہ عدالت کے جج کے سامنے ان لڑکیوں کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے جن کا الزام ہے کہ عزت مآب کشتی سنگھ کے صدر اور ایم پی صاحب نے ان کے ساتھ بلاتکار کیا ہے ۔کمال تو یہ ہے کہ مہینوں کے بعد بھی ان کی صدارت پر کوئی حرف نہیں آتا۔سرکار کا یہ اعلان کرنا کہ 2024کے یوم جمہوریت کا پریڈ صرف خواتین فوجیوں کے ذریعہ منعقد کیا جائے گا ۔اسے مودی جی کا ماسٹر اسٹروک نہیں تو اور کیا کہیں گے ۔
اب بھلے ہی ملک کے لوگ چلاتے رہیں کہ خواتین کے ساتھ ہر گلی محلے میں زیادتی ہو رہی ہے ۔دھرنے دئے جاتے رہیں ،مظاہرے ہوتے رہیں ،دنیا والے تو یہ دیکھیں گے کہ بھارت میں ناری سمان آسمان سے لے کر زمین تک بھرا پڑا ہے ۔اور یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ ملک کی باگ ڈور مودی جی جیسے پرمپرا وادی وشو گرو کے ہاتھ میں ہے ۔ملک کے شہریوں کو صبر کر کے 26جنوری 2024کے ناری پریڈ کا شدت سے انتظار کرنا چاہئے کہ اس کے بعد پورے ملک میں ناری سمان کی ایسی آندھی چلیگی کہ سارے بلاتکاری اس میں اڑ جائینگے ۔ٹھیک اسی طرح جس طرح جی ایس ٹی لگتے ہی معیشت آسمان چھونے لگی ،نوٹ بندی کے بعد ملک کا سارا کالا دھن واپس ملک میں آگیا یہ الگ بات ہے کہ وہ سرکاری خزانے میں نہ آکر بی جے پی کے پارٹی فنڈ میں آیا اور اس سے ایم پی ایم ایل اے بھی خریدے جارہے ہیں اور انتخابی ریلیوں کا بھی خرچ پورا ہو رہاہے ۔وہ پیسہ کام تو بہر حال دیش کے ہی آ رہا ہے ۔
پتہ نہیں ہمارے وزیر اعظم کی کھوپڑی میں ایسے نادرو نایاب نسخے کا ورود کہاں سے ہوتا ہے ۔ملک کے لوگوں کو یقین کر لینا چاہئے کہ خواتین پر مشتمل اس ناری پریڈ کے بعد خواتین پر زیادتی کرنے والے تمام لوگ یا تو شرم سے ڈوب کر مر جائینگے یا پھر منفروں یا مٹھوں میں جاکر آشا رام باپو کی طرح بھجن کیرتن میں لگ جائینگے ۔مودی جی کے اس ماسٹر اسٹروک کے بعد نہ تو کسی سے استعفا لینے کی ضرورت ہے اور نہ جیل بھیجنے کی ضرورت ۔گجرات کی دھرتی پر پیدا ہونے والے مودی جی کی اس حکمت عملی کو سلا م کرنے کو جی چاہتا ہے ۔












