لکھنؤ، سماج نیوز سروس: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو ایک نئی جہت اس وقت حاصل ہوئی جب اتر پردیش محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت مختلف شعبہ جات کے متعدد اہم تحقیقی منصوبوں کو منظوری عطا کی۔ ان میں شعبۂ فارسی کے انچارج ڈاکٹر عارف عباس کا پروجیکٹ سینٹر آف ایکسیلینس کے تحت ” رامائن کے فارسی تراجم: ایک تنقیدی جائزہ” کے موضوع پر دو لاکھ اسی ہزار روپے کی مالیت کے ساتھ منظور کیا گیا۔ یہ کامیابی نہ صرف شعبۂ فارسی بلکہ پوری یونیورسٹی کے علمی و تحقیقی افق کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔ڈاکٹر عارف عباس کے اس تحقیقی منصوبے کا بنیادی مقصد فارسی زبان میں رامائن کے مختلف تراجم کا تنقیدی، توضیحی اور تقابلی مطالعہ کرنا ہے۔ اس کے تحت یہ دیکھا جائے گا کہ ہندوستان کی اس عظیم اور مقدس رزمیہ روایت کو فارسی مترجمین اور اہلِ علم نے کس زاویے سے سمجھا، کن اسالیب میں منتقل کیا اور اپنے تہذیبی و ادبی پس منظر میں کس طرح جذب کیا۔ اس تحقیق کا ایک نہایت اہم پہلو ہندوستان اور ایران کے درمیان صدیوں سے قائم لسانی، ادبی، علمی اور ثقافتی روابط کو نئی روشنی میں پیش کرنا بھی ہے۔منصوبے میں اس امر پر خصوصی توجہ دی جائے گی کہ رامائن جیسے ہندوستانی مذہبی و تہذیبی متن نے ایرانی ادبی روایت، فارسی زبان، فکری مباحث اور ثقافتی شعور پر کس حد تک اثرات مرتب کیے۔ اس مطالعے سے دونوں ملکوں کے درمیان تہذیبی تبادلوں، کلاسیکی ترجمہ نگاری کی روایت، اور مشترکہ ادبی سرمائے کے ان گوشوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی جو اب تک تحقیق میں نسبتاً کم زیرِ بحث آئے ہیں۔ شعبۂ صحافت و ابلاغِ عامہ کے ڈاکٹر شچیندر شیکھر کو” آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت صحافتی ابلاغ میں امتیازکے موضوع پر” جبکہ اسی شعبے کے ڈاکٹر کاظم رضوی کو ” سوچھ بھارت مشن کے تناظر میں میڈیا کا کردار” کے موضوع پر پروجیکٹ دیا گیا ہے۔شعبۂ بزنس ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر مشیر احمد کو ” معذور افراد کے لیے سرکاری اسکیموں کی افادیت بڑھانے کے اقدامات” کے موضوع پر تحقیقی منصوبہ دیا گیا ہے۔ اسی شعبے کے پروفیسر سید حیدر علی کو ” قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ میں بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی چیلنجز” کے موضوع پر منصوبہ فراہم کیا گیا ہےمزید برآں ڈاکٹر نلنی مشرا، ڈاکٹر شویتا اگروال، ڈاکٹر ادھم سنگھ، ڈاکٹر تطہیر فاطمہ اور ڈاکٹر رضا عباس حیدری کو بھی مختلف سماجی، تعلیمی، معاشی اور تکنیکی موضوعات پر تحقیقی مختلف پروجکٹوں کی منظوری دی گئی ہے۔ اس موقع پر لینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے تمام منتخب اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان تحقیقی منصوبوں سے سینٹر آف ایکسیلینس کے کام کو نئی رفتار ملے گی اور ان کے عملی نتائج براہ راست سماج تک پہنچ سکیں گے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبے نہ صرف علمی امتیاز کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے بلکہ سماج کی مجموعی ترقی، بیداری، پالیسی سازی اور علمی اشتراک کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کریں گے۔یونیورسٹی کے علمی حلقوں میں ان منظوریوں کو بے حد خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف مختلف شعبہ جات میں بین الشعبہ جاتی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ قومی سطح پر لینگویج یونیورسٹی کی تحقیقی شناخت بھی مزید مستحکم ہوگی۔ یہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ جامعہ جدید تقاضوں کے مطابق سماج سے مربوط نتیجہ خیز اور بین الاقوامی اہمیت کی حامل تحقیق کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔












