نئی دہلی، جماعت اسلامی ہندکی مجلس نمائندگان کا اجلاس مورخہ 26 تا 30 اپریل 2023 میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے اندر جمہوریت و جمہوری اداروں کی پامالی، بڑھتا ہوا تیز رفتار کرپشن، نفرت و فرقہ پرستی کا بڑھتا رجحان، ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی منظوری کا مسئلہ اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی جیسے ملکی و بین الاقوامی امور زیر بحث آئے اور درج ذیل قراددادیں پاس کی گئیں جن کی تفصیلات یہ ہیں:
جمہوریت و جمہوری اداروں کی پامالی:جماعت اسلامی ھند کی مجلس نمائندگان کا یہ اجلاس ملک میں جمہوری قدروں کے تیزرفتار زوال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے- ملک کی پارلیمنٹ او ر متعدد ریاستوں میں بغیر مناسب بحث و مباحثے کے اور مسلمہ ضابطوں اور روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اہم قوانین محض صوتی ووٹوں کے ذریعے منظور کئے جارہے ہیں- عدالتوں کی آزادی بھی شک کے دائرے میں آنے لگی ہے اور نیم آزاد اور خود مختار جمہوری اداروں، جیسے الیکشن کمیشن آف انڈیا، ریزرو بینک آف انڈیا وغیرہ پر بھی حکومتوں کا تسلط بڑھتا جارہا ہے۔ یہ شکایت عام ہے کہ سرکاری ایجنسیوں کا استعمال ،مخالفین کی آوازوں کو دبانے کے لئے کیا جارہا ہے- اختلاف رائے جو جمہوریت کی روح ہے، اب ایک جرم بنتا جارہا ہے۔ میڈیا جو ملک کا ضمیر ہوتا ہے، اب تیزی کے ساتھ اپنا یہ کردار کھوتا اور حکومت کا ترجمان بنتا جارہا ہے۔ قانون کی حکمرانی تیزی کے ساتھ پامال ہورہی ہے ۔ پولس کی موجودگی میں قتل کی وارداتیں ،عدالت سے ماورا سزا دینے کا عمل، فرضی انکاؤنٹرس، زیر حراست قتل، سنگین جرائم میں ملوث سزا یافتہ مجرمین کی رہائی ، فرقہ پرست عناصر کی جانب سے کھلے عام نسل کشی وعصمت دری کی دھمکیاں اور منافرت پرمبنی بیانات یہ سب واقعات ہر انصاف پسند شہری کے لیے اضطراب کے باعث ہیں۔
ملک میں بڑھتا تیز رفتار کرپشن:مجلس نمائند گان کا یہ اجلاس مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پھیلتے کرپشن کی شدت پر تشویش کا اظہار کرتاہے۔ پرائس واٹر ہاؤس کوپر (Price Waterhouse Coopers) کے سروے کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں ملک کے 95 فیصد تجارتی اداروں میں مختلف نئے اقسام کے جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ تازہ ترین کرپشن پرسپشن انڈیکس میں ہندوستان کی 85 ویں رینکنگ بھی اس بات کی غماز ہے کہ ہم ابھی تک اس سماجی لعنت کو کم کرنے میں ناکام ہیں ، جس کا لازمی اثر سرکاری خزانے اور حکومت کی رفاہی اسکیموں پر پڑتا ہے – آربی آئی نے بھی 2021 اور 2022 میں 1.97لاکھ کروڑ روپے کے بینکنگ فراڈ کی اطلاع دی ہے۔ یہ فراڈ بینکنگ انڈسٹری کے ضابطوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ حکومت کے ذریعہ بینکوں کے 10 لاکھ کروڑ روپے کے این پی اے( Non- Performing Assets) کو رائٹ آف کرنے پر بھی اجلاس کو شدید تشویش ہے۔ اس سے قرض کے نظم ونسق میں بڑی خرابی کی نشاندہی ہوتی ہے جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ کاروباراور صنعتوں کے لئے قرض دینے کا کوئی متبادل طریقہ وضع کیا جائے اور بلا سودی قرضوں کے نظام پر بھی پالیسی ساز ادارے غور کریں۔
نفرت و فرقہ پرستی کا بڑھتا رجحان :مجلس نمائندگان کا یہ اجلاس ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور بڑھتی ہوئی منافرت پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ جماعت کا احساس ہے کہ اقتدار پر پہچنے اور اس پر قبضہ جمائے رکھنے کے لئےآسان اور موثر ذریعے کے طور پر فرقہ پرستی اور نفرت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ میڈیا، تعلیم گاہیں اور عوامی ادارے ، اس کے لئے بطور آلہ کار کے استعمال ہورہے ہیں ۔اس صورت حال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عام سیاست دانوں کے علاوہ بعض مرکزی و ریاستی وزراء بھی نفرت و فرقہ پرستی کے مشعل بردار بن گئے ہیں اور کمسن بچوں اور نوجوان لڑکوں لڑکیوں تک کو اس مذموم مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی منظوری کا مسئلہ :مجلس نمائندگان کا یہ اجلاس ملک میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی منظوری دئے جانے کے زیر غور معاملہ کی سختی سے مخالفت کرتا ہے ۔ اس سے قبل 2018 میں دفعہ 377 کو منسوخ کرکے ہم جنسی کے عمل کو قانونی جواز فراہم کیا گیا تھا ۔ اب اگلے مرحلے میں ہم جنس شادیوں کی اجازت دینے کا معاملہ زیر غور ہے ۔ ہم جنسی کاعمل ایک غیر فطری و غیر اخلاقی عمل ہے ۔ اس طرح کے غیر فطری عمل اور اس پر مبنی شادی کو قانونی حیثیت دینا ، ہندوستان جیسے مذہبی معاشرہ کے لئے ہرگز بھی مناسب نہیں ہے۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی:جماعت اسلامی ہند کی مجلس نمائندگان کا یہ اجلاس سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے اوراس کے لیے دونوں ممالک کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ امید کرتا ہے کہ ان ممالک کے رشتوں میں آنے والی مثبت تبدیلی مغربی ایشیا کے مسلم ممالک کے مابین امن و امان، بہتر تجارتی تعلقات، معنی خیز باہمی تعاون اور ملی اخوت کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ اجلاس امید کرتا ہے کہ اس معاہدے سے شام اور یمن میں جاری خونریزی اور تباہی کو روکنے میں مدد ملے گی اور عراق، لبنان وغیرہ میں جاری تنازعات کا پائیدار حل بھی ممکن ہوگا۔ اجلاس یہ بھی امید کرتا ہے کہ یہ معاہدہ خطہ میں امریکی و اسرائیلی اثرات کو کم کرنے کا سبب بنے گا جو یہاں کے پیچیدہ مسائل کا سب سے بڑا سبب ہے اور یہ کہ اس سے استعماری طاقتوں کے اُن جنگی، تجارتی اور سیاسی عزائم کو روکنے میں بھی مدد ملے گی جنہوں نے نہ صرف اس علاقے کے لیے بلکہ پورے بر اعظم ایشیا اور دنیا کے تمام ترقی پذیر ملکوں کی آزادی و خود مختاری کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ یہ اجلاس فلسطین خاص طور پر مسجد اقصی، غازہ اور اسرائیلی جیلوں میں تشدد کی مسلسل کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ سعودی و ایران معاہدے سے مسئلہ فلسطین کے حل کی طرف بھی پیش رفت ہوگی۔












