• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, جنوری 15, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات اور حکومت کی خاموشی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 5, 2026
0 0
A A
ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات اور حکومت کی خاموشی
Share on FacebookShare on Twitter

بہار میں حالیہ چند دنوں کے دوران پیش آنے والے ہجومی تشدد کے واقعات محض فوجداری وارداتیں نہیں ہیں، بلکہ یہ ریاست کی مجموعی حکمرانی، سماجی توازن اور جمہوری اقدار پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن کر ابھرے ہیں۔ یہ وہ ریاست ہے جسے کبھی سماجی انصاف، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیاسی شعور کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، مگر آج اسی سرزمین پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر انسانوں کو ہجوم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جانا ایک تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
سب سے تشویش ناک پہلو یہ نہیں کہ ہجومی تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ان واقعات پر حکومت کی خاموشی، انتظامیہ کی سرد مہری اور سیاسی قیادت کی بے حسی ایک مستقل رویہ بنتی جا رہی ہے۔ جمہوری نظام میں خاموشی بھی ایک بیان ہوتی ہے، اور بہار حکومت کی یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔
یہ سچ ہے کہ ریاست میں حالیہ دنوں پیش آئے چند ہجومی تشدد کے واقعات نے نہ صرف امن و قانون کی صورتِ حال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ ریاستی حکمرانی کے اخلاقی معیار پر بھی گہری ضرب لگائی ہے۔ جمہوری اقدار کے علمبردار ہونے کے باوجود حکومت کی سرد مہری اور خاموشی نے اقلیتی طبقہ میں خوف اور عدمِ تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔
بڑھتے واقعات اور بگڑتا سماجی توازن
بی جے پی اور جے ڈی یو کی نئی مخلوط حکومت بننے کے فوراً بعد صوبہ کے کئی اضلاع میں تسلسل کے ساتھ ایسے واقعات پیش آئے جن میں مذہبی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ مسلمانوں کو بنایا گیا۔ نوادہ میں محمد اطہر حسین کو چوری کے جھوٹے الزام کے نام پر نہایت بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ ابھی اس واقعہ کا زخم تازہ ہی تھا کہ اسی ضلع کے ماکھر گاؤں میں محمد عمران کو محض اس لیے مارا پیٹا گیا کہ وہ سڑک کنارے پنکچر بنانے کا کام کرتا تھا اور شر پسندوں کو اس کے مذہب پر اعتراض تھا۔
گوپال گنج کے سعداللہ پور مٹھیا گاؤں میں احمد آزاد پر ’’ممنوعہ گوشت‘‘ لے جانے کا الزام لگایا گیا، پھر اسے بجلی کے کھمبے سے باندھ کر اس قدر پٹائی کی گئی کہ وہ نیم مردہ ہو گیا۔ المیہ یہ ہے کہ واقعہ کی اطلاع پر پہنچی پولیس نے مظلوم کو حراست میں لے کر جیل بھیج دیا، جب کہ شر پسند عناصر آزادانہ گھومتے رہے۔
چند ہی دنوں بعد مدھوبنی میں محمد مرشد عالم، جو سپول کے رہنے والے مزدور تھے، اس الزام میں کہ وہ "بنگلہ دیشی مسلمان” ہیں، بدترین تشدد کا شکار بنائے گئے۔ اطلاعات کے مطابق شر پسندوں نے انہیں مخصوص نعرے لگانے کے لیے بھی مجبور کیا، جبکہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے اسی مقام پر منیش کمار نامی ٹھیکیدار کے ماتحت مزدوری کر رہے تھے۔
اسی طرح اورنگ آباد کے داؤد نگر میں شدت پسند عناصر نے مغل دور کی تاریخی شمشیر خان مقبرہ کی قبروں کو مسمار کر دیا، جو آثارِ قدیمہ کے زیرِ نگرانی تھا۔سال نو کے آغاز میں ایک دفعہ پھرنوادہ میں شر پسندوں نے کواکول واقع کربلا کے مینار کو نقصان پہنچاکر ماحول کو کشیدہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہ تمام واقعہ صرف سانحہ نہیں بلکہ ثقافتی دہشت گردی کی کھلی مثال ہے۔ حیران کن یہ کہ تمام تر واقعات ایک ماہ کے دوران رونما ہوئے، مگر حکومتی زبان پر تالہ رہا۔
ریاستی انتظامیہ کی ’’رسمی حرکت‘‘
مقامی سطح پر احتجاج کے باوجود انتظامیہ کی کارروائی محض ’’رسمی ادائیگی‘‘ تک محدود رہی۔ چند علامتی گرفتاریاں کر کے قانون کی بالادستی کا دکھاوا کیا گیا، مگر کسی بھی معاملہ میں اصل منصوبہ سازوں اور سیاسی سرپرستوں تک ہاتھ نہیں پہنچا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کئی موقعوں پر پولیس کی موجودگی یا تاخیر سے پہنچنے کی شکایت سامنے آئی، اور واقعات کے ویڈیوز وائرل ہونے سے قبل تک پولیس و انتظامیہ اس طرح غیر فعال رہی گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
یہ طرزِ عمل دراصل اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی نظام یا تو دباؤ میں ہے یا خود تعصب کا ایک خاموش حصہ بن چکا ہے۔
ہجومی تشدد کا سیاسی پس منظر
ہجومی تشدد کا مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ 2015 میں دادری کے محمد اخلاق کا قتل ہو یا 2018 میں پہلو خان اور جنید احمد کی شہادت— ہر واقعہ ایک ہی کہانی دہراتا ہے: تہذیبی نفرت کی سیاست۔ بہار میں جب بھی سیاسی اتحاد کی بساط بچھتی ہے، اقلیتوں کی سلامتی سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔
بی جے پی کی نظریاتی پالیسی "ہندوتوا ایجنڈے” کو زمینی سطح پر اتارنے کی کوشش کرتی ہے، اور جے ڈی یو جیسی سیکولر شناخت رکھنے والی پارٹی خاموش تماشائی بن کر رہ جاتی ہے۔ نتیجتاً گاؤں گاؤں میں فرقہ وارانہ بھروسہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نتیش کمار حکومت کے لیے یہ واقعات "سیاسی خطرے کی علامت” ہیں۔ ان کی محبوب شبیہ ’’سوشاسن بابو‘‘ اب دھندلا رہی ہے، کیونکہ اچھی حکمرانی کے دعوے تب بے معنی لگتے ہیں جب ظلم کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اقتداری مصلحت کو ترجیح دی جائے۔
خوف کی نفسیات اور سماجی خاموشیاں
ان سانحات نے اقلیتوں میں ایک غیر اعلانیہ خوف پیدا کر دیا ہے۔ لوگ اپنی شناخت چھپانے لگے ہیں۔ گھروں سے باہر نکلتے وقت، دورانِ سفر، حتیٰ کہ خریداری تک سہم کر کی جاتی ہے۔ افسوس ہے کہ شہری متوسط طبقہ یا سول سوسائٹی کے بیشتر حلقہ اس کے خلاف لب کشائی سے گریز کرتے ہیں۔
قومی میڈیا نے بھی اکثر ان واقعات کو غیر متعلق "لوکل انسیڈنٹ” کے طور پر پیش کیا، گویا انسانی جان کی حرمت اب سیاسی مفاد سے کم تر ٹھہری ہے۔ یہ خاموشی صرف اخلاقی نہیں بلکہ تہذیبی زوال کی علامت ہے۔ جب تشدد معمول بن جائے اور مظلوم کی فریاد جرم سمجھی جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔
قانون اور انصاف کی کمزوری
مرکزی سطح پر "اینٹی موب لنجنگ قانون” کی بحث بارہا اٹھی، مگر عملی قانون آج تک نافذ نہ ہو سکا۔ بہار میں اگرچہ پولیس نے دفعہ 302 اور 147 کے تحت مقدمہ درج کیے، لیکن عدالتی کارروائی کی رفتار سست ہے۔
قانون کی روح اس وقت مجروح ہوتی ہے جب مجرم کو سیاسی یا نظریاتی پشت پناہی حاصل ہو۔ متاثرین اکثر انصاف کی دہلیز تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ انسانی حقوق کمیشن اور اقلتی کمیشن کی متعدد ہدایت کے ساتھ ہی رپورٹیں طلب کیے جانے کے باوجود نتیجہ صفر رہا۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی تو فسادیوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالت” قائم کرتی، مگر ترجیحات کچھ اور ہیں— سیاسی استحکام، اتحاد کی بقا، اور اکثریتی ووٹ بینک کی خوشنودی۔
مذہبی دراڑ اور سماجی یکجہتی کی ضرورت
بہار صدیوں سے گنگا-جمنا تہذیب کی علامت رہا ہے۔ یہاں کا سماج رواداری اور میل جول کی بنیاد پر پروان چڑھا، مگر حالیہ برسوں میں جو زہر بویا جا رہا ہے، وہ اس تہذیبی اساس کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
آج بھی کئی گاؤں میں ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کی روایت باقی ہے، لیکن جب سیاست مذہب کو ووٹ بینک میں بدلنے لگے تو بھائی چارہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ امن اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب انصاف غیر جانب دار ، میڈیا دیانت دار اور عوام باشعور ہوں۔
انتظامیہ کی ساکھ اور عوامی ردعمل
ان واقعات نے انتظامیہ پر عوامی اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ نتیش حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ دکھائے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، مگر اب تک کا رویہ یہی تاثر دیتا ہے کہ حکومت غیر جانب داری کے بجائے سیاسی توازن کی مقتدی ہے۔
نوادہ سے مدھوبنی تک پھیلے یہ سانحات صرف انسانی المیہ نہیں بلکہ سیاسی المیہ بھی ہیں۔ اگر حکومت نے اب بھی واضح اور سخت پیغام نہ دیا تو یہ رجحان بہار کی جمہوری بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا۔
میڈیا کی ذمہ داری اور اخلاقی سوال
میڈیا جمہوریت کا ستون ہے، لیکن جب خبر سنسرشپ یا جانبداری کی زد میں آ جائے تو سماج کے زخم گہرے ہو جاتے ہیں۔ قومی میڈیا نے ان واقعات کو معمولی خبریں بنا دیا، جبکہ یہ واقعات ملک کے سماجی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے قابل تھے۔
مقامی پریس نے اگرچہ کچھ آواز اٹھائی، مگر اسے زیادہ مربوط، جری اور بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ ظلم کی خبر چھپانا دراصل ظلم کا ساتھ دینا ہے— اور یہ کسی بھی صحافت کے شایانِ شان نہیں۔
معاشرتی بیداری کا ناگزیر فریضہ
ہجومی تشدد کے واقعات اب معمول کی خبر بن چکے ہیں، لیکن اگر معاشرہ واقعی اپنے وجود کو سلامت رکھنا چاہتا ہے تو اسے یہ رویہ بدلنا ہوگا۔ علماء، اساتذہ، طلبہ، سماجی کارکن اور نوجوان نسل کو مل کر یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ انسان کی جان سب سے محترم ہے، اور مذہب کے نام پر تشدد دراصل مذہب کی روح کی توہین ہے۔
سیاسی اخلاقیات اور اقتدار کی آزمائش
نتیش کمار کے لیے یہ صورتِ حال ایک اخلاقی امتحان بن چکی ہے۔ برسوں سے وہ سیکولر سیاست کے علمبردار سمجھے جاتے رہے ہیں، مگر آج اقتداری مجبوریوں کے سامنے ان کی خاموشی معنی خیز ہے۔ اگر حکومت واقعی "سوشاسن” کے نظریہ پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانون اور مذہب کے درمیان واضح فاصلہ برقرار ہے، ورنہ تاریخ انہیں اصلاح پسند رہنما نہیں بلکہ موقع پرست سیاست دان کے طور پر یاد رکھے گی۔
خاموشی کا انجام خطرناک ہے
ہجومی تشدد چند افراد کی جان نہیں لیتا، بلکہ پورے سماج کے ضمیر کو زخمی کرتا ہے۔ جب حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوں، میڈیا خاموش ہو، اور عوام لاتعلق بن جائیں تو جمہوریت کا ڈھانچہ لرزنے لگتا ہے۔
بہار کی موجودہ صورتِ حال ایک سنگین انتباہ ہے— اگر حکومتی مشینری اب بھی حرکت میں نہ آئی تو آنے والے دنوں میں امن و اخوت محض تاریخ کی روایت رہ جائے گی۔ قوموں کی بقا صرف معیشت یا اقتدار سے نہیں بلکہ انصاف، برابری اور انسانی احترام سے ممکن ہے۔ حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو، اگر وہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت میں ناکام رہی تو اس کی قانونی حیثیت برقرار رہ سکتی ہے، مگر اخلاقی حیثیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

ذیل میں اشاعت کی گزارش کے ساتھ مدیرِ محترم کے نام ایک مختصر، باوقار اور ادارتی روایت کے مطابق خط پیش ہے۔ اسے آپ براہِ راست مضمون کے ساتھ ارسال کر سکتے ہیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    جنوری 14, 2026
    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    جنوری 14, 2026
    وسطی فلپائن میں لینڈ فل منہدم ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

    وسطی فلپائن میں لینڈ فل منہدم ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

    جنوری 14, 2026
    جنوبی سوڈان میں ریپیڈ سپورٹ فورس کی بربریت جاری

    جنوبی سوڈان میں ریپیڈ سپورٹ فورس کی بربریت جاری

    جنوری 14, 2026
    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    جنوری 14, 2026
    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    جنوری 14, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist