کرناٹک اسمبلی الیکشن میں مسلم ووٹر کا کردار کیا ہوگا یہ تو13مئی کو آنے والے انتخابی نتایج بتلا یں گے تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم رائے دہندگان اس چناو میں فیصلہ کن رول ادا کریں گے -اگر چہ سنگھ پریوار یہ پرچار کرتا ہے کہ مسلمان یکطرفہ طور پر بی جے پی کوہرانے والی پارٹی کو ہی ووٹ دیتے ہیں لیکن یہ پروپیگندہ جھوٹا ہے اور ہندو ووٹر کو بی جے پی کے ساتھ لانے کی کوشش ہے -اگر مسلم رائے دہندگان یکطرفہ ووٹنگ کرتے تو آج سنگھ کی یہ پارٹی مرکز اور کئی صوبوں میں بر سر اقتدار نہ ہوتی -در اصل مسلم ووٹر ہمیشہ مختلف نام نہاد سیکولر پارٹیوں میں تقسیم ہوکر بے اثر ہوجاتا ہے اور فرقہ پرست حکومت تشکیل دے لیتے ہیں -لہذہ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی کرناٹک میں مسلمان یہی تاریخ دوہرایں گے یا ماضی سے سبق لیں گے ؟
درحقیقت ہندوستانی مسلمان ہندو تہذیب کے زیر اثر ذات برادری میں منقسم ہے اور مولویوں نے اسے مسلک کے نام پر فرقوں میں بانٹ رکھا ہے ،اس لیے مسلم ووٹر بھی ذات برادری اور مسلک کے نام پر تقسیم ہوکر کیا کرناٹک میں بھی بٹے گا یا عقلمندی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی ایک ہی سیکولر پارٹی کے ساتھ جائیگا؟
ریاست کرناٹک میں لگ بھگ 13 فیصد مسلم ووٹر ہیں جو 224 حلقہ ہائے اسمبلی میں 40سے زائد حلقوں میں فیصلہ کن ہیں۔اس مرتبہ بھی کانگریس ،جے ڈی ایس ،این سی پی ،عاپ اور لیفٹ پارٹیاں مسلم ووٹر کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے کوشاں ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی کے قومی ترجمان سید ظفرا لاسلام بی جے پی کارکنان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مسلم رائے دہندگان کے پاس ووٹ مانگنے جائیں ۔ان حالات میں کرناٹک کا مسلمان تذبذب میں ہے کہ وہ کدھر جائیں؟۔ تاہم روایتی طور پر مسلم ووٹر کانگریس اور جنتا دل سیکولر کے ساتھ جاتا ہے اور اس طرح تقسیم ہوکر بے اثر ہوجاتا ہے لیکن اس مرتبہ کچھ مسلم ووٹ لیفٹ پارٹیوں اور این سی پی و عام آدمی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے البتہ اس بار مسلمان اس شش و پنج میں ہیں کہ کانگریس کے وعدوں پر یقین کریں یا جے ڈی ایس پر؟تاہم کرناٹک کے مسلمانوں کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ کہیں ماضی کی طرح کمار سوامی بی جے پی سے ہاتھ نہ ملا لیں،معلق اسمبلی آنے کی حالت میں یہ ممکن ہے کہ بی جے پی کمار ر سوامی کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پیش کردے جسے وہ شکریہ کے ساتھ قبول فرمالیں۔ علاوہ ازیں مسلمان یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم مودی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر نڈا کانگریس کو بہت زیادہ اور جے ڈی ایس کو بہت کم ہدف تنقید بنا رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بی جے پی اپنا حریف کانگریس کو ہی مان رہی ہے جے ڈی ایس کو نہیں۔ یوں بھی مختلف ٹی وی چینلوں پر جو سروے پیش کے جا رہے ہیں ان میں کانگریس کو سب سے آگے دکھایا جا رہا ہے۔
کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں بجرنگ دل پر پابندی لگانے کا وعدہ کیا ہے، کرناٹک میں ہی نہیں بلکہ سارے ملک میں اقلیتیں عام طور پر اور مسلمان خاص طور پر بجرنگ دل کی پر تشدد کاروائیوں سے پریشان ہیں۔لہٰذا کرناٹک کے مسلمانوں کو کانگریس کا یہ اعلان اپنی جانب کھینچے گا لیکن جے ڈ ی ایس کا مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا لالچ شاید بجرنگ دل پر پابندی کے مقابلے کرناٹک کے مسلمانوں کو کم متاثر کرے گا، کیونکہ مسلمان جانتا ہے کہ جان ومال کا تحفظ زیادہ اہم ہے۔ حجاب اور حلال کے مسائل بھی بجرنگ دل کے پیدا کردہ ہیں۔ ان حالات میں اگر مسلمانوں کا زیادہ تر ووٹ کانگریس کو مل جانے تو حیرت نہیں ہوگی۔ یہاں یہ تذکرہ بھی بر محل ہے کہ 2018کے اسمبلی چناؤ میں کانگریس اور جے ڈی ایس نے 17-17مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے لیکن جہاں کانگریس کے 6مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے وہیں جے ڈ ی ایس کا ایک بھی مسلم امیدوار کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوا تھا ۔لہٰذا یہ توقع کرنا عبث ہے کہ 2023کے اسمبلی الیکشن میں مسلمان جے ڈی ایس کو ترجیح دے گا۔
سیاسی مفسرین اور انتخابی مبصرین کا شاید اسی لی یہ خیال ہے کہ 11 مئی 2023کو کرناٹک کے مسلمانوں کی اکثریت کانگریس کے ساتھ جایگی اور بہت کم مسلمان جے ڈی ایس یا کسی دیگر سیاسی پارٹی کو ووٹ دیںگے ۔ بہرحال کرناٹک اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوگا،اگر وہ منقسم ہو گئی تو یقین ہے کہ وہ بی جے پی کے بر سر اقتدار ہونے کی راہ ہموار کریںگے اور اگر مسلم ووٹ بڑ ی تعداد میں کانگریس کو گیا تویہ پارٹی ہی کرناٹک میں حکومت بنا سکتی لیکن مسلم رائے دہندگان کے حقیقی رخ کا علم تو 13 مئی کو آنے والے نتایج ہی بتلائیں گے۔












