نئی دہلی، (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی اور خطے کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے امن اور استحکام کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا اور تنازعہ ختم کرنے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا۔ انہوں نے کشیدگی میں اضافے اور شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کے ساتھ ہی سامان اور توانائی کی بلا روک ٹوک ترسیل ہندوستان کی اولین ترجیحات ہیں۔ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی جمعہ کو مقررہ وقت سے پہلے ہی ملتوی کر دی گئی۔ اسرائیل-امریکہ اور ایران جنگ کے سبب ملک میں گھریلو گیس کی قلت پر اپوزیشن اراکین کے احتجاج کی وجہ سے کارروائی پہلی بار صبح 11 بجے ملتوی کی گئی۔ دوپہر 12 بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے پھر ہنگامہ کیا، جس پر کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ دوپہر 2 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر اپوزیشن نے اسی مسئلے پر پھر شور شرابہ کیا۔ ہنگامے کے دوران ہی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2025-26 کی اضافی گرانٹس پر بحث کا جواب دیا۔ اس کے بعد اضافی گرانٹس منظور کی گئیں اور اس سے متعلق بجٹ بل بھی پاس ہوا۔ اس کے باوجود اپوزیشن کا ہنگامہ جاری رہا، جس پر قائم مقام اسپیکر کرشن پرساد تینیٹی نے کارروائی پیر صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے صبح 11 بجے جیسے ہی اسپیکر اوم برلا نے سوال و جواب کا وقت شروع کیا، اپوزیشن اراکین گھریلو گیس کی قلت پر احتجاج کرنے لگے۔ برلا نے کہا کہ سوال و جواب کا وقت اہم ہوتا ہے، اس میں عوامی مسائل اٹھائے جاتے ہیں اور حکومت جواب دہ ہوتی ہے، اس لیے اسے روکنا مناسب نہیں۔ انہوں نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اراکین میزوں پر چڑھیں گے تو کارروائی ہوگی، پارلیمنٹ کی عزت اور وقار سب کی ذمہ داری ہے۔ بعد میں دوپہر 12 بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے گیس کی کمی پر بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ کئی اراکین ایوان کے وسط میں آ گئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ وزیر خزانہ جواب دیں گی اور پھر نجی بلوں پر بحث ہوگی، لیکن کانگریس اراکین ہنگامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اراکین ایوان میں کھانے کے برتن لاتے ہیں، عوام یہ سب دیکھ رہی ہے۔ رجیجو نے کہا کہ کانگریس کے اراکین اپنے لیڈر کے ساتھ ساتھ خود بھی بگڑ گئے ہیں۔قائم مقام اسپیکر سندھیا رائے نے اپوزیشن کو کہا کہ عوام دیکھ رہی ہے کہ وہ کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، یہ مناسب رویہ نہیں ہے۔ لیکن اپوزیشن نے بات نہ مانی، جس پر کارروائی دوبارہ دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان نے جمعہ کے روز لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس سے اسپیکر اوم برلا کو وقفہ سوالات شروع ہونے کے چند منٹ بعد ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسپیکر نے جیسے ہی وقفہ سوالات شروع کیا، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ انہوں نے وقفہ سوالات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تاہم ارکان نے ہنگامہ جاری رکھا۔ مسٹراوم برلا نے مشتعل اراکین سے کہا، "میں نے پہلے بھی یہ درخواست کی ہے، اور میں پھر سے یہ درخواست کر رہا ہوں کہ وقفہ سوالات اہم وقت ہے۔ آج اپوزیشن کے آٹھ ارکان کے سوالات درج ہیں۔












