پروفیسر مشتاق احمد
9431414586
حالیہ دنوں میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ ریاست میں پولیس عملوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ریاست میں جرائم پیشوں پر نکیل کسا جا سکے۔ بالخصوص شراب بندی کے بعد جس طرح شراب مافیائوں نے شراب کے کاروبار کو جاری رکھا اس سے حکومت کی شبیہ مسخ ہوئی ہے لہذا پولیس کے اعلیٰ حکام بھی دبی زبان میں یہ بات کہتے رہے ہیں کہ پولیس عملوں کی کمی کی وجہ سے ریاست میں پولیس انتظامیہ کو چست درست کرنے میں مشکلیں پیش آرہی ہیں۔اب جب کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ریاست میں 10459پولیس عملوں کی ایک دن میں تقرری کردی ہے تو اب ممکن ہے کہ حکومت سے پولیس عملوں کی کمی کا جو مطالبہ ہوتا رہا ہے وہ کم ہوگا اور ساتھ ہی ریاست میں جرائم پیشوں پر نکیل کسنے میں پولیس انتظامیہ کو کامیابی ملے گی۔بہار کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ تاریخی گاندھی میدان میں ایک دن میں دس ہزار سے زائد پولیس عملوں کو تقرری نامہ دیا گیا ۔اس سے قبل 1977ء میں جب جن نایک کرپوری ٹھاکر کی حکومت تشکیل پائی تھی تو ہزار دو ہزار مختلف محکموں کے لئے تقرری نامے تقسیم کئے گئے تھے مگر وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے یہ کارنامہ انجام دے کر ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے ۔واضح ہو کہ ریاست میں جب سے جنتا دل متحدہ اور راشٹریہ جنتا دل اتحاد کی حکومت تشکیل پائی ہے مسلسل مختلف محکموں میں خالی عہدوں کو پُر کیا جا رہاہے ۔ ظاہر ہے کہ نئے تقرری نامے سے ایک طرف محکموں کی کارگذاری میں تبدیلی واقع ہوگی تو دوسری طرف بیروزگاری بھی دور ہورہی ہے۔
بہر کیف! ریاست میں ایک ساتھ دس ہزار سے زائد پولیس عملوں کی تقرری حکومت کے مستحکم ارادے کی دلیل ہے کہ حکومت اگر چاہے تو ریاست کے مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کو دیکھتے ہی دیکھتے بھر سکتی ہے اور ریاست کے لاکھوں بیروزگاروں کو روزگار مل سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اسی جلسے میں یہ بھی اعلان کیا کہ جلد ہی 44ہزار پولیس عملوں کی تقرری ہوگی۔انہوںنے کہا کہ پنچایت سے لے کر راجدھانی تک پولیس انتظامیہ کو مستحکم بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک لاکھ کی آبادی پر کم از کم 160سے170پولیس عملے تعینات کئے جائیں ۔ لیکن اس وقت ایک لاکھ کی آبادی پر صرف 115؍ پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ظاہر ہے کہ ریاست میں جس رفتار سے آبادی کی شرح میں اضافہ ہو رہاہے اسی رفتار سے جرائم کے گراف میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ ریاست میں پر امن ماحول رہے تاکہ ریاست کے باہر کے کاروبار ی بہار کا رخ کریں ۔ بالخصوص بڑے صنعت کار ریاست میں اپنی انڈسٹریز قائم کریں جس سے مقامی لوگوں کو روزگار مل سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نتیش کمار نے اپنے دورِ اقتدار میں نظم ونسق کو درست کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے اور بڑے سے بڑے جرائم پیشوں پر نکیل کسا ہے۔مگر پولیس اہلکاروں کی کمی کا رونا رویا جاتا رہا ہے۔ اس نئی تقرری سے ریاست میں ایک نئی فضا قائم ہوگی ۔ قابلِ ذکر یہ ہے کہ اس تاریخی موقع پر 3852خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی تقرری نامہ دیا گیاہے۔ بہار میں نتیش کمار کی حکومت نے تمام شعبے میں خواتین کے لئے 35فیصد سیٹیں مخصوص کردی ہیں جس کا خاطر خواہ فائدہ تعلیم یافتہ خواتین کو مل رہا ہے ۔پولیس محکمے میں بھی حالیہ دنوں میں خواتین سب انسپکٹر، سارجنٹ کے عہدوں پر فائز ہورہی ہیں۔ واضح ہو کہ 10459پولیس اہلکاروں میں سارجنٹ 215، سب انسپکٹر1998اور کانسٹیبل4246شامل ہیں۔حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی بحالی کر کے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ریاست میں جو نوجوان لڑکے یا لڑکیاں صحت کے اعتبار سے تندرست ہیں اور پولیس اہلکاروں میں تقرری کے لئے جو شرائط ہیں اسے پورا کرتے ہیں تو مستقبل میں 44ہزار پولیس عملوں کی بحالی میں انہیں موقع مل سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہار کے نوجوانوں کے اندر اس فیصلے سے ایک نیا جوش ولولہ پیدا ہوا ہے اور وہ اس کی تیاری میں لگ گئے ہیں ویسے بھی بہار کے کچھ ایسے اضلاع ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں نوجوان آرمی میں بحال ہوتے رہے ہیں ۔ اب جب کہ انہیں اپنی ریاست میں موقع مل رہا ہے تو ان کے لئے امید کی نئی کرن جاگ گئی ہے ۔ دراصل جس وقت نتیش کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اپنا سیاسی رشتہ منقطع کیا تھا اور راشٹریہ جنتا دل سے ہاتھ ملا کر نئی حکومت تشکیل دی تھی اسی وقت وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے یہ اعلان کیا تھا کہ ریاست کے تمام سرکاری محکموں میں جو اسامیاں ہیں انہیں جلد از جلد پُر کیا جائے گا تاکہ ریاست کے بیروزگار لوگوں کو روزگار مل سکے۔ حکومت نے اپنے اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کا کام شروع کردیا ہے ۔ حال ہی میں محکمہ راج بھاشا میں اردو مترجم ، محکمہ مویشی پروری و ماہی پروری میں فشریز آفیسرز اور محکمہ صحت میں ڈاکٹروں کی بحالی کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ حکومت اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لئے پابند عہد ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دیگر محکموں کی اسامیوں کو پُر کرنے کے لئے کب اور کون سا لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے کہ ریاست کے بیروزگاروں کے اندر جو یقین پیدا ہوا ہے کہ اب ریاست میں ہی انہیں سرکاری ملازمت مل سکتی ہے وہ پورا ہو سکے گا۔
مختصر یہ کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے جس سنجیدگی سے ریاست میں مختلف سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کوپُر کرنے کی عملی کوشش شروع کی ہے وہ بہار کے لئے ایک نیک فال ہے اور یہاں کے بیروزگار نوجوانوں کے لئے باعثِ سکون ہے کہ انہیں اب ریاست میں سرکاری ملازمت ملنے کا راستہ ہموارہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ گاندھی میدان میں ایک دن میں ایک ساتھ دس ہزار سے زائد پولیس عملوں کی بحالی ریاست کی گلی کوچوں میں بھی موضوعِ بحث ہے اور یہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کی مقبولیت کا راز ہے۔جس رفتار سے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریاست کے مختلف محکموں کی خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں اگر یہ رفتار قائم رہی تو بہت کم عرصے میں ریاست میں لاکھوں بیروزگاروں کو سرکاری ملازمت مل سکتی ہے اور اس سے ریاست سے ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی آئے گی کہ ریاست میں ملازمت نہیں ملنے کے سبب ہی نوجوان دوسری ریاستوں کا رخ کرنے پر مجبور تھے جس سے بہار کی شبیہ بھی مسخ ہوتی تھی۔ ریاست میں اسکول اساتذہ کی بحالی کا بھی اعلان ہو چکا ہے اور ممکن ہے کہ ایک دو ماہ کے اندر لاکھ سے زائد اساتذہ کی تقرری عمل میں آئے گی ۔کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مختلف موضوعات کے اساتذہ کی خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لئے بھی بہار یونیورسٹی سروس کمیشن کے ذریعہ انٹرویو ہو رہے ہیں ۔ غرض کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے ایک ساتھ دیگر ترقیاتی کاموں کے ساتھ بیروزگاری دور کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے۔












