برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر نے ماسکو حکومت پر روس کو یوکرین میں جاری جنگ میں جھونکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے یہ بات بدھ کے روز سلامتی کونسل میں اپنے پہلے خطاب میں کہی۔
اسٹامر کے مطابق یوکرین کے خلاف جنگ میں چھ لاکھ روسی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اسٹامر نے سوال کیا کہ روس اقوام متحدہ کے صدر دفتر آنے کی جرات کیسے کر سکتا ہے۔برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا منشور جس کو مضبوط بنانے کے لیے ہم یہاں بیٹھے ہیں، انسان کو عزت دینے کی بات کرتا ہے اور اپنے عوام کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے سے روکتا ہے گویا کہ وہ گوشت کا ٹکڑا ہو جس کو قیمہ بنانے کے لیے مشین میں ڈال دیا جائے”۔
اسٹامر کے خطاب کے دوران میں اقوام متحدہ میں روسی سفیر دمتری بولیانسکی سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے کاغذات کے مطالعے میں مصروف رہے۔
اسٹامر نے لبنان اور غزہ میں فوری فائر بندی پر زور دیا جہاں اسرائیل ، تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور حماس تنظیموں کے خلاف دو محاذوں پر حملے کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ "امن سفارت کاری کے ذریعے آتا ہے نہ کہ جارحیت کے ذریعے … یہاں کوئی فوجی حل نہیں اور نہ غزہ میں لڑائی کا کوئی فوجی حل ہے اس کونسل کو ایک بار پھر غزہ میں فوری اور مکمل فائر بندی کی دعوت دینی چاہیےاورتمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے”۔اسٹامر کا خطاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب انھیں اور ان کی نائبہ کو تحائف کی وصولی کے اسکینڈل کے تناظر میں اپنے ملک میں دباؤ کا سامنا ہے۔












