
عید الاضحی کا چاند نمودار ہوگیا ہے، ہر طرف خوشی کا ماحول ہے، بکرے خریدے جارہے ہیں، بازاروں میں چہل پہل ہے۔کپڑوں کی دکانوں سے زیادہ بھیڑ بھاڑ بکروں کے بازاروں میں ہے۔ہر شہر میں بکرا بازار سجا ہوا ہے۔رنگ برنگے کالے اجلے، مہنگے سستے جانورلوگ اپنی استطاعت کے مطابق خرید رہے ہیں تاکہ اسلام کے اہم شعار قربانی کو زندہ اور تابندہ رکھ سکیں، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت ابراہیمی کی یاد تازہ ہوسکے۔
مسلمانوں کے لئے جتنا ضروری یہ ہے کہ قربانی کے لئے بکرے خریدیں اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ وہ قربانی کے طورطریقے کو جانیں تاکہ ان کی قربانی سنت کے مطابق ہوسکے۔ بہت سارے لوگ قربانی تو کرتے ہیں، مگر قربانی کا صحیح طریقہ انہیں معلوم نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ کامل اجر سے محروم ہوجاتے ہیں، ذیل کے سطور میں قربانی کے اہم احکامات ومسائل کو نہایت اختصار کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے، تاکہ قربانی کے اس موسم میں قارئین اس تحریر سے استفادہ کریں۔
قربانی کی لغوی تعریف: قربانی کو عربی زبان میں ’’أضحیۃ‘‘ کہتے ہیں جس کی جمع ’’أضاحی‘‘ آتی ہے۔اور أضحیۃ کا اطلاق اس جانور پر ہوتا ہے جو عید الأضحی کے دنوں میں ذبح کیا جاتا ہے۔
قربانی کی اصطلاحی تعریف: عید الأضحی کے دنوں میں جن پالتو چوپایوں کو اللہ کی عبادت سمجھ کر اور اس کے تقرب کا ذریعہ جان کر ذبح کیا جاتا ہے اسی کو شریعت کی اصطلاح میں قربانی کہتے ہیں۔
قربانی کی مشروعیت: تمام علماء کرام کا قربانی کی مشروعیت پر اجماع ہے۔امام ابن قدامہ،ابن دقیق العید،ابن حجر،شوکانی،شنقیطی،ابن عثیمین وغیرہ جیسے اکابرین نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
قربانی کی فضیلت:(1)اللہ تعالی نے فرمایا:’’یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے‘‘۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہیکہ قربانی اسلام کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔(2)براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کرلیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی سنت کو پا لیتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری: 5556)(3)اللہ کے لئے جانور کو ذبح کرنا اور اس کے ذریعہ اللہ کے تقرب کو تلاشنا اہم ترین عبادات میں سے ہے۔قربانی کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالی نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ قربانی کو بیان کیا ہے۔
قربانی کی مشروعیت کی حکمت: قربانی کی درج ذیل حکمتیں ہیں:(1)اس کے ذریعہ انسان زندگی جیسی بیش بہا نعمت کا شکریہ ادا کرتا ہے۔(2) ابراہیم علیہ السلام کی سنت زندہ ہوتی ہے۔جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے بدلے دنبہ اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔اور یہ بدلہ اس وقت حاصل ہوا جب باپ بیٹے دونوں نے اپنے نفس اور بیٹے کی محبت پر اللہ کی اطاعت وبندگی کو ترجیح دی۔اس سے ہر مومن کو سبق حاصل کرنا چاہئے اور اطاعت الہی کی راہ میں جو تکالیف آتی ہیں ان پر صبر سے کام لینا چاہئے،جیسا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے کیا۔اور اسی کا انعام انہیں اللہ نے دیا کہ جان کے بدلے دنبہ ذبح کرنے کی اجازت ملی۔(3)قربانی اپنے اور اپنے گھر والوں کو بہتر خوراک بہم پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ساتھ ہی قربانی کے گوشت سے پڑیسیوں،مہمانوں،فقیروں کی تکریم اور ضیافت ہوتی ہے۔مجبوروں کوہدیہ اور تحفہ کے ذریعہ خوشی بہم پہنچائی جاتی ہے۔اللہ کی نعمت کا اظہار ہوتا ہے۔اور اللہ تعالی نے تحدیث نعمت کا حکم دیا ہے۔فرمایا:’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ‘‘۔(الضحی:8)(4)قربانی سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اللہ نے جانوروں کو انسانوں کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے۔
قربانی کا حکم: قربانی کے حکم سے متعلق اہل کی دو رائے ہے۔(1) قربانی سنت موکدہ ہے۔جمہور فقہاء کرام کی یہی رائے حتی کہ امام ابو یوسف کی بھی ایک رائے یہی ہے۔ان کے علاوہ معاصرین علماء میں ابن باز،سعودی عرب کی دائمی کمیٹی برائے فتوی کا یہی موقف ہے۔(2)خوش حال افراد کے لئے قربانی واجب ہے۔یہ رائے احناف کی ہے۔نیز مالکیہ اور حنابلہ کی بھی ایک رائے یہی ہے۔امام ابن تیمیہ،امام شوکانی اور علامہ ابن عثمین کا بھی یہی موقف ہے۔
اگر کوئی شخص قربانی کرنے کی نذر مان لے تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوجاتی ہے۔اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
قربانی کی صحت کی شرطیں: قربانی کے صحیح ہونے کے لئے درج ذیل شرائظ ہیں:(1)جانور پالتو چوپایوں اونٹ،گائے اور بکری میں سے ہو۔ ان جانوروں کا نر اور مادہ دونوں قربانی کیا جاسکتا ہے۔امام ابن عبد البر،امام ابن رشد،امام نووی اور امام صنعانی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔(2)مذکورہ جانوروں کا متعینہ سال کا ہونا ضروری ہے۔قربانی کا جانور سوائے بھیڑ کے اگر شریعت کی طرف سے متعین کئے گئے عمر کا نہیں ہے تو پھر ایسے جانوروں کی قربانی دست نہیں ہوگی۔اس لحاظ سے مسنہ(دنتے) ہوئے جانور ہی کی قربانی مسنون ہے۔اونٹ عام طور پانچ سال،گائے دو سال اور بکری ایک سال میں دانت جاتا ہے۔بھیڑ چھ ماہ کا بھی ہو اس کی قربانی ہوسکتی ہے بقیہ جانوروں کا دانتا ہوا ہونا ضروری ہے۔جانور سے متعلق اس تفصیل کو فقہاء احناف،حنابلہ،شیخ ابن عثیمین اور دائمی فتوی کمیٹی نے بیان کیا ہے جسے دیکھا جاسکتا ہے۔
(3)قربانی کے جانوروں کا ان عیوب اور نقائص سے پاک ہونا ضروری ہے جس کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔قربانی کا جانور اتنا کانا نہ ہو کہ اس کا کانا پن ظاہر ہو۔اتنا بیمار نہ ہو کہ اس کی بیماری پتہ چلے۔اتنا لنگڑا نہ ہو کہ اس کا لنگڑا پن معلوم ہو۔اتنا بوڑھا اور دبلا نہ ہو کہ جسم میں بالکل گودا ہی نہ ہو۔اگر یہ عیوب معمولی اور اور برائے نام ہوں تو ایسے جانور کے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن جیسا کہ حدیث میں ہے کہ یہ عیوب بالکل ظاہر اور واضح ہوں تو پھر ایسے جانوروں کی قربانی جائز نہ ہوگی۔ویسے قربانی کے معاملے میں کوشش یہ ہونی چاہئے ہر طرح کے نقائص سے قربانی کا جانور پاک صاف ہو تاکہ پورا پورا اجر وثواب ملے۔(4)قربانی شریعت کی طرف سے مقرر کردہ اوقات میں کی جائے۔(5)قربانی کے صحیح ہونے کے لئے یہ شرط ہیکہ قربانی کی نیت بھی کی جائے۔اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے۔
قربانی کا اول وقت: (1) بقر عید کے دن طلوع فجر سے قبل قربانی جائز نہیں ہے۔امام ابن المنذر،امام ابن عبد البر اور امام قرطبی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔(2) بقر عید کے دن نماز عید سے قبل قربانی کرنا بھی جائز نہیں ہے۔امام ابن عبد البر،امام نووی اور امام ابن رشد نے اجماع نقل کیا ہے۔(3) قربانی کا وقت بقرعید کی نماز کے بعد سے شروع ہو جاتا ہے۔یہ موقف حنفیہ،حنابلہ،امام طحاوی،امام شوکانی اور امام ابن عثیمین کا ہے۔(4)وہ لوگ جو بقر عید کی نماز نہیں پڑھ سکتے ایسے لوگ نماز کے بقدر وقت کے بعد قربانی کرسکتے ہیں۔حنابلہ اور ابن عثیمین کا یہی مسلک ہے۔
قربانی کا آخر وقت: قربانی کے آخر وقت کے سلسلے میں فقہاء کرام کی دو رائے ہے:(1)قربانی کا وقت تین دن ہے۔یوم النحر اور پھر اس کے بعد دو دن۔جمہور فقہاء حنفیہ،مالکیہ اور حنابلہ کا یہی موقف ہے۔(2)قربانی کا وقت یوم النحر کے علاوہ تین دن ہے۔کل ملا کر چار دن۔شافعیہ،حنابلہ کا ایک قول،امام ابن تیمیہ،امام ابن القیم،امام شوکانی،علامہ ابن باز اور علامہ ابن عثیمین یہی رائے رکھتے ہیں۔
ایام تشریق کی راتوں میں قربانی: ایام تشریق کی راتوں میں قربانی کے جواز اور عدم جواز سے متعلق اہل علم کی تین آراء ہیں:(1)رات میں قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔ مالکیہ کی رائے یہی ہے نیز حنابلہ کا بھی ایک قول ہے۔(2)ایام تشریق کی راتوں میں قربانی مکروہ ہے۔یہ رائے احناف،شافعیہ کی ہے۔حنابلہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔(3) ایام تشریق کی راتوں میں قربانی بلا کراہت جائز ہے۔یہ قول حنابلہ کا ہے۔اور اسی کو امام ابن حزم،امام صنعانی،امام شوکانی اور علامہ ابن عثیمین نے اختیار کیا ہے۔قربانی کا وقت جیسے ہوجائے ویسے ہی قربانی کر لینی چاہئے۔اور قربانی میں جلدی مطلوب ہے۔ائمہ اربعہ اسی کو افضل قراد دیتے ہیں۔
قربانی کرنے والوں کے لئے بال اور ناخن کاٹنے کا حکم:اگر کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو ایسے شخص کے لئے قربانی سے قبل بال اور ناخن کاٹنے کے حکم سے متعلق اہل علم کے تین اقوال ہیں:(1)بال اور ناخن کاٹنا جائز ہے۔اس قول کے قائل احناف ہیں۔مالکیہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔لیث بن سعد اور امام ابن عبد البر نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔(2)قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لئے قربانی سے قبل بال اور ناخن کاٹنا حرام ہے۔یہ قول حنابلہ کے علاوہ امام ابن حزم،امام ابن القیم،علامہ ابن باز اور علامہ ابن عثیمین وغیرہ کا ہے۔(3)قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لئے قربانی سے قبل بال اور ناخن تراشنا مکروہ ہے۔یہ مالکیہ،شافعیہ کے علاوہ حنابلہ کا بھی ایک قول ہے۔
اگر قربانی کرنے والا شخص قربانی سے پہلے اپنا بال یا ناخن کاٹ لے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔مام ابن قدامہ اور امام مرادی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ویسے بہتر یہ ہیکہ ذی الحجہ کا چاند نکلنے کے بعد ایسا شخص اپنا بال اور ناخن نہ تراشے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ا
جانور کو ذبح کرتے وقت ذبح کرنے والے قبل رو ہو: چوپائے کو ذبح کرتے وقت ذبح کرنے والا شخص کا قبلہ رخ ہونا سنت ہے۔اس کی سنیت کے قائل ائمہ اربعہ ہیں بلکہ اس امر پر اجماع کا دعوی کیا گیا ہے۔
جانور کو ذبح کرتے وقت چھری کو تیز کر لیا جائے: جانور کو زمین پر لٹانے سے قبل چھری کو تیز کرلینا مسنون ہے۔تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔اس حکم پر فقہاء اربعہ کا اتفاق ہے۔
اونٹ کو نحر،بکری کو ذبح اور گائے کو نحر یا ذبح کیا جاسکتا ہے: اونٹ کو نحر،بکری کو ذبح اور گائے کو بحر یا ذبح کرنا مسنون ہے۔اہل علم نے اونٹ کو نحر کرنے اور بکری کو ذبح کرنے پر اجماع نقل کیا ہے۔ایسے ہی گائے کو نحر یا ذبح کرنے پر بھی اہل علم کا اجماع موجود ہے۔اجماع نقل کرنے والوں میں امام ابن حزم،امام ابن رشد،امام قرطبی،امام ابن قدامہ،امام نووی وغیرہ ہیں۔
ذبح کرتے وقت بسم اللہ کے بعد اللہ اکبر کہنا مسنون ہے:جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہنا واجب ہے۔بلا بسم اللہ کہے جانور کو ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانا حرام ہے بلکہ ایسا جانور مردار کے حکم میں ہے۔لیکن بسم اللہ کے بعد اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔اور اس حکم پر امام ابن قدامہ،ملا علی قاری نے اجماع کا دعوی کیا ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں کہ اس پر ہر زمانے میں لوگوں کا عمل ہوتا رہا ہے۔
قربانی کا جانور خود سے ذبح کرنا مسنون ہے: اگر آدمی خود سے قربانی کے جانور کو ذبح کرسکتا ہو تو خود سے ذبح کرنا چاہئے،تاکہ سنت پر عمل ہوسکے۔امام نووی نے اس حکم پر اجماع نقل کیا ہے۔
قربانی کے گوشت کو کھانا،کھلانا اور محفوظ رکھا جاسکتا ہے: باتفاق فقہاء کرام قربانی کے گوشت کو کھانا،کھلانا اور ذخیرہ اندوزی بھی کرنا جائز ہے۔
قربانی کے جانور کو دوسرا شخص بھی ذبح کرسکتا ہے: بہتر ہے کہ آدمی خود سے اپنی قربانی کرے لیکن اگر کسی وجہ سے وہ خود سے ذبح نہیں کرسکتا تو کسی شخص کے ذریعہ اپنی قربانی کراسکتا ہے۔اور یہ عمل باتفاق فقہاء کرام جائز ہے۔
قربانی کرنا افضل ہے یا قربانی کے پیسہ کو صدقہ کرنا؟: احناف،مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک قربانی کرنا اس کی قیمت کو صدقہ کرنے سے افضل ہے۔اور اس قول کو علامہ ابن باز اور علامہ ابن عثیمین نے بھی اختیار کیا ہے۔
قصاب کو بطور اجرت قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں ہے: ائمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قصاب کو بطور اجرت قربانی کا گوشت نہیں دیا جاسکتا۔
میت کی طرف سے مستقل قربانی: یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے تاہم شافعیہ اور علامہ ابن عثیمین کے بقول مستقل طور پر میت کی جانب سے قربانی کرنا مشروع نہیں ہے۔اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میت کی طرف سے مستقل جانور کی قربانی نہیں کی ہے۔
جانور کو ذبح کرنے کے شرائط: بسم اللہ کہا: اس تعلق سے اہل علم کے تین اقوال ہیں:(1) ذبح کے صحیح ہونے کے لئے ’’بسم اللہ‘‘ پڑھنا شرط ہے،بلا اس کے ذبح درست نہیں ہوسکتا۔بسم اللہ جان بوجھ کر چھوڑ دے یا بھول جائے تو بھی جانور حلال نہیں ہوگا۔اسی قول کے قائل ظاہریہ،امام احمد کا ایک قول اور امام ابن تیمیہ اور ابن عثیمین بھی اسی کے قائل ہیں۔(2)یاد رہے تو بسم اللہ کہنا واجب ہے لیکن بھول جائے تو اس کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے۔جمہور فقہاء کی یہی رائے ہے،سعودی دائمی فتوی کمیٹی کا اسی کے مطابق فتوی ہے۔(3)بسم اللہ کہنا سنت موکدہ ہے۔اس قول کے قائل شافعیہ،امام احمد کی ایک روایت اور امام ابن عبد البر نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
جون بہانا: ذبح کی صحت کے لئے جانور کے جسم سے خون بہنا شرط ہے۔اور خون بہنے کے لئے عام حالت میں چار چیزوں کو کاٹا جاتا ہے۔مری(کھانے اور پینے کی نالی)،حلقوم(سانس کی نالی)،اور ودجین(وہ دونوں رگیں جو حلق سے متصل ہوتی ہیں، اور جسم میں خون پہنچانے کا کام کرتی ہیں)،اس حکم سے متعلق امام ابن المنذر،امام ابن قدامہ،علامہ ابن باز اور علامہ ابن عثیمین کا اجماع موجود ہے۔
لیکن ان چار میں سے اگر بیشتر رگیں کٹ جائیں جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ جانور اب زندہ نہیں رہ سکتا تو ایسے جانور کا کھانا حلال ہے۔جیسے اگر صرف ودجین بھی کٹ جائے تو اس ذبح کو صحیح کہا جاسکتا ہے۔اللہ ہم سب کو سنت کے مطابق قربانی کرنے کی توفیق دے۔
آصف تنویر تیمی
جامعہ امام ابن تیمیہ،بہار












