اسرائیل کی جانب سے گذشتہ دنوں ایک ہسپتال پر حملے اور دوسرے پر چھاپہ مارنے کے بعد عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے پیر کے روز غزہ کے ہسپتالوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "غزہ میں ہسپتال ایک بار پھر میدانِ جنگ بن گئے ہیں اور صحت کا نظام شدید خطرے میں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، "ہم دہراتے ہیں: ہسپتالوں پر حملے بند کریں۔ غزہ کے لوگوں کو صحت کی نگہداشت تک رسائی کی ضرورت ہے۔ انسانی ہمدردی کے کارکنان کو صحت کی امداد فراہم کرنے کے لیے رسائی کی ضرورت ہے۔ جنگ بندی ہونی چاہیے!”اسرائیلی فوج نے کہا کہ اتوار کے روز غزہ شہر کے الوفا ہسپتال پر حملے کا نشانہ حماس کے عسکریت پسند تھے جس میں فلسطینی شہری دفاع کے مطابق سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔اسرائیلی افواج نے جمعہ کے روز کمال عدوان ہسپتال سے درجنوں طبی عملے سمیت 240 سے زائد فلسطینیوں کو بھی حراست میں لیا جن میں انکلیو میں صحت کے حکام اور اسرائیلی فوج کے مطابق ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ بھی شامل ہیں۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہسپتال حماس کی فوجی کارروائیوں کے لیے کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور گرفتار کیے جانے والے افراد مشتبہ عسکریت پسند تھے۔ فوج نے کہا کہ ابو صفیہ کو تفتیش کے لیے لے جایا گیا کیونکہ ان پر حماس کا کارکن ہونے کا شبہ تھا۔ٹیڈروس گذشتہ ہفتے یمن کے مرکزی ایئرپورٹ پر اسرائیلی حملے میں پھنس گئے تھے جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شاید ان کی جان جا سکتی تھی۔انہوں نے ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ الاہلی ہسپتال کو بھی حملوں کا سامنا تھا۔ٹیڈروس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اور شراکت داروں نے غزہ کے انڈونیشیئن ہسپتال میں بنیادی طبی سامان، خوراک اور پانی پہنچایا ہے اور 10 نازک مریضوں کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتقلی کے دوران چار مریضوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ٹیڈروس نے کہا، "ہم اسرائیل پر زور دیتے ہیں کہ ان کی صحت کی ضروریات اور حقوق برقرار رکھے جائیں۔”غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی فوجی بربریت میں کم از کم 45,514 فلسطینی جاں بحق اور 108,189 زخمی ہو چکے ہیں۔












