ممبئی، (یو این آئی) ہندوستان کے سابق کوچ روی شاستری نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے خیال میں آئی سی سی مینز ٹی-20 ورلڈ کپ میں سنجو سیمسن کی حالیہ شاندار کامیابی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ کیا ہے۔سیمسن گزشتہ چند برسوں سے ہندوستان کی بہترین ٹی-20 ٹیم کا حصہ بننے کی جدوجہد کر رہے تھے اور ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں بھی انہیں اس وقت جگہ نہیں ملی جب ایشان کشن کو بطور اوپنر اور رنکو سنگھ کو ترجیح دی جا رہی تھی۔ تاہم، سیمسن نے لگاتار دو میچوں میں ‘پلیئر آف دی میچ ایوارڈز جیت کر ہندوستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی حالیہ یادگار اننگز ممبئی میں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں سامنے آئی، جہاں انہوں نے 7 چھکوں کی مدد سے 89 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔اگرچہ سیمسن کی اس فارم نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے، لیکن روی شاستری اس سے زیادہ حیران نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے سیمسن کے اندازِ فکر میں ایک واضح تبدیلی محسوس کی ہے۔ ‘دی آئی سی سی ریویو میں بات کرتے ہوئے شاستری نے کہا کہ سیمسن اب ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔روی شاستری نے کہا: "میرا خیال ہے کہ آخر کار انہیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ انہیں کھیل میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔ اب وہ شاٹس کے انتخاب میں زیادہ سمجھداری دکھا رہے ہیں اور اپنی طاقت پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ سنجو کے پاس کرکٹ کی ہر شاٹ موجود ہے، لیکن پہلے ان کی توجہ بھٹک جایا کرتی تھی۔ اب وہ ذہنی طور پر پختہ ہو چکے ہیں اور ان کی مہارت یا ٹیلنٹ پر کبھی کسی کو شک نہیں رہا۔”انہوں نے مزید کہا: "سنجو ابھی صرف 31 سال کے ہیں اور ایک حقیقی میچ ونر ہیں۔ ان کی حالیہ بلے بازی میں جو کلاس، ٹچ اور طاقت نظر آئی ہے، وہ ناقابل یقین ہے۔”دوسری جانب، شاستری نے اوپنر ابھیشیک شرما کی فارم پر تشویش کا اظہار کیا جنہوں نے اب تک سات اننگز میں صرف 89 رنز بنائے ہیں۔ تاہم، سابق کوچ کا ماننا ہے کہ فائنل سے پہلے ٹیم میں تبدیلی کرنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے مشورہ دیا: "ابھیشیک کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا چاہیے اور دفاعی انداز اپنانے کے بجائے اپنی فطری بلے بازی کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ فائنل ان کے لیے ٹورنامنٹ کا بہترین میچ ثابت ہو۔”












