سعودی عرب:خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب میں تعینات فلسطینی سفیر کی طرف سےمملکت کی قیادت اور قوم کو اس کے 94 ویں قومی دن کی مبارک باد دو طرفہ تاریخی اور ٹھوس تعلقات کی عکاسی ہے۔
سعودی عرب اور فلسطین کے درمیان تاریخی تعلقات کی تاریخ اتنی ہی طویل ہے جتنی کہ مملکت سعودی عرب کی تاریخ طویل ہے۔فلسطینی قوم کو درپیش مشکلات، مصائب اور چیلنجز کے باوجود دونوں قوموں کے درمیان تعلقات ہمیشہ مستقل رہے ہیں۔سعودی عرب میں فلسطینی سفیرباسم الاغا نے سعودی عرب کی مسلسل حمایت کے لیے فلسطینی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مملکت کے وژن 2030 کی اہمیت پر زور دیا جو کہ سعودی کی ترقی اور خوشحالی کا پروگرام ہے۔ یہ پروگرام امید اور یکجہتی کا احساس دلاتا ہے۔
ان کاکہنا ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے خلاف ڈھال ثابت ہوا ہے۔ امید اور یکجہتی کا احساس پیدا کرتا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ مغربی کنارے غزہ اور لبنان میں قابض ریاست کے جرائم کے باوجود ہم صرف سعودی عرب میں اپنے عوام کو وژن 2030 کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے 94ویں قومی دن کی مبارکباد دینے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ .
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب فلسطین، یروشلم اور فلسطینی عوام کے بارے میں اپنے اصولی اور دیرینہ ،ٹھوس مؤقف پر قائم ہے۔ مملکت کا یہ موقف اس کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے دور سے جاری ہے۔ اس موقف کے تسلسل میں اس وقت کے فرمانراو شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
سفیر باسم الاغا نے کہا کہ بحیثیت صدر محمود عباس ہمیشہ شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد کے عظیم اور اعلیٰ اعتماد پر زور دیتے ہیں۔ شاہ سلمان کی دعوت ظہران میں عرب قیادت کا اجلاس میں یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت قرار دینے پر زور، قابض اسرائیلی ریاست کے غیرقانوجی قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی مذمت کے لیے مملکت کی طرف سے کی جانے والی مساعی کا حصہ ہے۔حال ہی میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے ایک بیان میں اسی اصولی اور ٹھوس موقف کی عکاسی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ جب تک مشرقی بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کا قیام عمل نہیں لایا جاتا اس وقت تک سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔












