ریاض :برلن میں ایک کانفرنس میں ایران کے اسرائیل کے خلاف میزائل حملے کے بعد شرقِ اوسط کی صورتِ حال کے بارے میں سوال پر بدھ کے روز وزیرِ اقتصادیات فیصل الابراہیم نے کہا، سعودی عرب کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی امید کر رہا ہے۔الابراہیم نے اس کشیدگی کو افسوسناک قرار دیا لیکن یہ بھی کہا، اس پر مذاکرات سے گریز بہت مشکل ہے۔
انہوں نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ حکمت غالب آئے گی، کشیدگی میں کمی واقع ہو گی، مکالمہ شروع ہو گا اور ہمارے ان چیلنجوں سے نمٹنے کی غرض سے عالمی بلکہ علاقائی طور پر بھی مزید تعاون دیکھنے کو ملے گا۔”گذشتہ دو ہفتوں میں لبنان پر اسرائیل کے شدید حملوں کے باعث ایران اور امریکہ کے اس علاقائی جنگ میں شامل ہو جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے جس میں پیر کو وہاں زمینی کارروائی کا آغاز اور غزہ کی پٹی میں اس کا سالہا سال پرانا تنازعہ بھی شامل ہیں۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا، اسرائیل پر حملہ مزاحمت کار رہنماؤں کی اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکتوں اور لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس پر حملوں کا انتقام ہے۔












