سعودی عرب کی کامیابی کا ستارہ افق میں ہے۔ہر طرف سے کوئی نہ کوئی ایسی خوش کن خبر آتی ہیکہ ہر مسلمان کا سینہ فخر سے چوڑا ہوجاتا ہے۔دل سے اس مملکت توحید کے حکمرانوں کے لئے دعا نکلتی ہے۔اور آرزو ہوتی ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت وقیادت سے وابستہ اس ملک کو اللہ تعالی مزید ترقیوں سے نوازے تاکہ دنیا کے مسلمانوں کو بھی اس ترقی سے فائدہ پہنچ سکے۔سعودی عرب میں مختلف وزارتیں کام کرتی ہیں۔وزارت تعلیم،وزارت صحت،وزارت دفاع،وزارت اعلام وصحافت،وزارت حج و عمرہ اور وزارت برائے دینی معاملات و دعوت وتبلیغ ان بڑی اہم وزارتوں کے علاوہ اور بھی وزارتیں ہیں جو سب کی سب اپنے میدان میں قابل رشک ترقی کر رہی ہیں۔اور ان کی ترقیوں کی راز صالح قیادت ہے۔جہاں ہر قسم کے چھوٹے بڑے جرائم پر سخت پابندی ہے۔ولی عہد محمد بن سلمان حفظہ اللہ نے خرد برد کرنے والے پر نکیل کس رکھی ہے۔کوئی بھی اگر مالی یا کسی دوسرے جرائم میں پکڑا جائے تو اس کی خیر نہیں اسے قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دوسرے ملکوں کی وزارتیں اسی وجہ سے ڈوب جاتی ہیں کہ ان کے یہاں مالی کرپشن بہت زیادہ ہوتا ہے۔حکومت کا بیشتر پیسہ کرپٹ نیتاؤں اور وزیروں کے جیب میں چلا جاتا ہے۔چھوٹے چھوٹے سرکاری افسر بھی عوام کے پیسے کو مال غنیمت سمجھ کر اپنا حصہ طلب کرتے ہیں۔اللہ کا شکر عظیم ہے کہ اس طرح کے گھناؤنے سیاسی ماحول سے مملکت سعودی عرب اور اس کے تمام حکمراں پورے طور پر پاک ہیں جس کا ثمرہ انہیں شب وروز عروج و اقبال کے طورپر حاصل ہوتا ہے۔حکومت کا ایک ایک پیسہ حکومت کے کاموں میں لگتا اور عوام سہولیات سے بہرور ہوتی ہے۔سعودی عرب میں جتنا زور مختلف شعبہائے زندگی پر دیا جاتا ہے،انسانی اور فلاحی امور قابل توجہ ہوتے ہیں۔ان سے زیادہ دینی معاملات قابل توجہ ہوتے ہیں۔جس کے واضح نمونے آپ کو مملکت میں ہر سو مل جائیں گے۔جس کی ابتدا حج وعمرہ، توسیع واصلاح خانہ کعبہ ومسجد نبوی،مشاعر مقدمہ،اور دیگر تاریخی مساجد ومنابر سے ہوتی ہے۔سعودی عرب میں داخل ہونے کے بعد ہر مسلمان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں اسلام وایمان ہر شخص کے رگ و ریشے میں پیوست ہے۔قرآن وحدیث کی حکومت ہر طرف استقبال کرتی ہے۔اسلامی ماحول اور نبوی تعلیمات کا گہرا اثر عام لوگوں پر دیکھنے کو ملتا ہے۔حرمین کے علاوہ دیگر مساجد میں بھی دل ودماغ میں رس گھولنے والے ائمہ اور موذنوں کی تلاوتیں،تمام مساجد میں بچوں اور بچیوں کے حفظ قرآن کریم کا التزام،صاف صفائی کا عمدہ نظم،ائمہ سمیت مساجد کے دیگر کارکنان کی اعلی تنخواہیں،رہائش کا قابل فخر بندوبست یہ وہ امور ہیں جو دینی کاز کو اولیت دینے اور دینی امور سے منسلک افراد کی حیثیت کو تسلیم کرنے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔وزارت برائے دینی امور کے موجودہ سر براہ قائد بے مثال دینی جذبے سے سر شار جناب ڈاکٹر عبد اللطیف بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ ہیں جنہوں نے وزارت کو پہلے سے کہیں زیادہ فعال اور متحرک بنا ڈالا ہے۔ان کی حرکت ونشاط کا ہر کوئی قائل ہے۔سعودی فرماں روا بھی ان کی خدمات کا کھلے دل اعتراف کرتے ہیں۔سب کو یاد ہوگا کہ ابھی حج کے موسم میں تمام سرکاری حاجیوں(ضیوف الرحمن) کے استقبال وانتظام کی ذمہ داری اسی وزارت کے حوالے تھی۔ان تمام حاجیوں کی جو عزت افزائی سعودی عرب میں ہوئی،ان کے لئے بے نظیر سہولیات کا انتظام کیا گیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔وزارت کی یہ ایسی بڑی کد وکاوش ہے کہ جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔وزارت کے سرگرمیوں اور عملِ مسلسل میں سے ملک اور بیرون ملک میں ہونے والے علمی اور قرآنی مسابقے ہیں۔سال گذشتہ مکہ مکرمہ میں قرآن کریم کا بین الاقوامی مسابعہ منعقد ہوا۔دنیا کے ممتاز حفاظ شریکِ مسابقہ ہوئے۔متعدد زمروں میں کامیابی حاصل کرنے والے کو لاکھوںنقد انعام واکرام سے نوازا گیا۔انعام یافتہ حافظوں میں سے ایک ہندوستانی حافظ بھی تھا۔واضح رہے کہ حفظ قرآن اور حفظ سنت سے متعلق مسابقے ہر سال اس وزارت کے زیر اہتمام منعقد ہوتے رہتے ہیں،جس میں کلیدی رول عزت مآب ڈاکٹر عبد اللطیف آل الشیخ اور ان کے رفقاء کار کا ہوتا ہے۔وزارت کی سب سے اہم سرگرمی جو شب وروز سے تعلق رکھتی ہے۔دعوتی نشاطات اور سرگرمیاں ہیں۔بڑے منظم اور مستحکم طریقے سے تمام مساجد،سرکاری دفاتر،مدارس وجامعات میں لکچرز،سیمینارز،کانفرنسوں اور عام پند ونصیحت کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔بہت سارے لوگ ان دروس کی قدر قیمت نہیں جان پاتے،معمولی جان کر اس کو اہمیت نہیں دیتے۔مساجد تو ہمارے یہاں بھی ہیں مگر دروس کا اہتمام نہیں ہوتا۔سنانے اور سننے والوں کی طرف سے تساہلی برتی جاتی ہے۔نماز کے بعد بیٹھنا بہت سارے مصلیوں پر شاق گزرتا ہے۔مگر سعودی عرب کی تمام مسجدوں میں نمازوں کے بعد دروس ہوتے ہیں۔دروس میں مصلیوں کی زبان کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ترجمے کا بھی انتظام ہوتا ہے۔وزارت کے مبلغین مختلف دفاتر میں جاکر عام لوگوں کو توحید وحدانیت کی دعوت دیتے اور انہیں محاسن اسلام کے بارے میں بتلاتے ہیں جس کی پاداش میں ہر سال لاکھوں لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔پچھلے دنوں وزارت کے ویب سائٹ کے ذریعہ یہ خبر عام ہوئی کہ گزشتہ پانچ سالوں میں تقریبا ساڑھے تین لاکھ لوگوں نے اللہ کی توفیق کے بعد وزارت سے وابستہ مبلغین کی کوششوں سے اسلام کو قبول کیا ہے۔ یقینا یہ ایسی کامیابی ہے کہ جتنی بھی خوشی منائی جائے کم ہے۔دنیا کی بڑی بڑی دولت سے اس حصولیابی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔آج جب کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے حربے اپنائے جارہے ہیں ایسے وقت میں سعودی عرب میں لاکھوں افراد کا قبول اسلام، بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اور اس کے لئے وزارت برائے دینی امور مبارک باد کی مستحق ہے۔وزارت کے ویب سائٹ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ سال ۲۰۱۹ء میں 1120817، سال ۲۰۲۰ء میں 693866، سال ۲۰۲۱ء میں 2122450، سال ۲۰۲۲ء میں 2471763اور سال ۲۰۲۳ء میں 2853510 یعنی مجموعی اعتبار سے گزشتہ پانچ سالوں میں 9262406 پورے سعودی عرب کے طول وعرض میںدعوتی پروگرام منعقد ہوئے ہیں۔ یہی دعوتی نشاطات ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں میں دینی بیداری پائی جاتی ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات سے وابستہ رہتے ہیں۔ حلت وحرمت کے معاملے میں ان کی جانکاری دیگر ملکوں کے باشندوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ وزارت کا یہ ڈاٹا ہمارے ایمان کو جھنجھوڑ نے کے لئے کافی ہے۔ ہم اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے بڑی بڑی باتیں کرتے تو ضرور ہیں، ہر شخص مسلمانوں کی وکالت کرتا پھرتا ہے، مگر اسلامی کاز کے تئیں جوذمہ داری ادا کرنی چاہئے اس ذمہ داری سے وہ غفلت میں رہتا ہے۔ بلکہ موقع ملنے پر وہ اسلام کو کیش بھی کرتا ہے۔ اسلام کی وہ نہیں بلکہ اسلام اس کی خدمت کرتا ہے۔ یہ سب قابل توجہ امور ہیں، جن پر غور کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ سعودی عرب کی اس وزارت کے تعلق سے ان معلومات کے پیش کرنے کا مقصد بھی دعوتی نقطہ نظر سے بیداری کا احساس دلانا ہے۔ تاکہ حتی الوسع ہم بھی اسلامی امور کو انجام دیں۔ امید ہے کہ اس تحریر سے عام لوگوں کو فائدہ ہوگا اور ان کے اندر بھی دعوتی ذوق وشوق پیدا ہوگا۔اللہ تعالی مملکت سعودی عرب کو تاصبح قیامت باقی رہے تاکہ حرمین شریفین کی حفاظت وصیانت شایان شان ہوتی رہے۔











