انسانی اور اسلامی ہمدردی کے معاملے میں سعودی عرب کا کوئی نظیر نہیں۔دنیا میں جہاں بھی زمینی یا آسمانی آفات ومصائب کا سامنا ہو سب سے پہلے سعودی عرب کا کارگو وہاں پہنچتا اور اپنی استطاعت کے مطابق راحت رسانی اور بچاؤ کاکام کرتا ہے۔سعودی عرب کی تاریخ جاننے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایشائی ،یورپی یا افریقی ملکوں میں جب بھی قدرتی آفات آئے سعودی عرب نے راحت رسانی اور انسانی ہمدردی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔کورونا کے سالوں میں تو سعودی عرب نے ہندوستان کی بھی مدد کی،کئی ملین آکسیجن ہم ہندوستانیوں کے لئے بھیجا۔
حالیہ دنوں میں ترکی اور شام میں آئے لرزہ خیز اور قیامت خیز زلزلہ سے پوری دنیا ورطہ حیرت میں ہے،اور لوگ دونوں ملکوں کے حکمرانوں اور عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دنیا کے ہر گوشہ سے ترکی اور شام کے لئے مختلف شکلوں میں امداد پہنچ رہی ہیں۔اور ایسا ہونا بھی چاہئے کہ دنیا میں جہاں بھی آفات ومشکلات کا سامنا ہو آپسی سیاسی چپقلش اور رشہ کشی کو بالائے طاق رکھ کر دنیا کے لوگ ایک دوسرے کا بھر پور تعاون کریں۔ملکوں کی سرحدیں انسانیت نوازی میں حائل اور رکاوٹ نہ بنیں۔
شاہ سلمان بن عبد العزیز اور شہزادہ محمد بن سلمان کے خصوصی آڈر کے بعدسعودی عرب کی ”کنگ سلمان بن عبد العزیز ریلیف اسکیم” نے جنگی پیمانے پر ترکی اور شام میں راحتی اشیاء پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب کی جانب سے ریلیف کا عمل اول دن سے جاری ہے۔کئی کارگو اور اشیاء خوردنی سے لدے ٹرک اب تک دونوں ملکوں میں بھیجے جاچکے ہیں۔راحت رسانی کا یہ کام جس تیزی سے جاری ہے، عین ممکن ہے کہ سعودی عرب دونوں ملکوں کے تعاون میں بقیہ ملکوں سے سبقت لے جائے ۔سعودی عرب کی انسانی اور اسلامی ہمدردی کی اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ حکومتی سطح پر زلزلہ ماثرین کے تعاون کا اعلان وہاں کی مسجدوں سے کیا جارہا ہے، جمعہ کے خطبے اسی موضوع پر ہورہے ہیں تاکہ سعودی عوام اپنے بھائیوں کی مادی اور معنوی مدد میں کوئی کسر نہ چھوڑے ۔زلزلہ متاثرین کے لئے ریلیف جمع کرنے اور دونوں ملکوں کی عوام تک پہنچانے کے معاملے میں’’ سعودی وزارت برائے اسلامی امور‘‘ اور اس کے وزیر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ پیش پیش ہیں۔انہوں کے ایماء پر تمام خطباء نے ۱۰؍فروری کے جمعہ کا خطبہ زلزلہ کے موضوع پر دیا، اور اپنے بھائیوں کو اپنے ترک اور شامی بھائیوں کی مدد پر ابھارا۔سعودی عوام بھی اپنے بھائیوں کے زخم پر مرہم رکھنے اور ان کے دکھ درد کو بانٹنے میں مصروف کار ہے۔ایک ایک شخص لاکھوں ریال کا چندہ دے رہا ہے۔حکومت سعودی عرب ریلیف کے تئیں بالکل سنجیدہ اور پرعزم ہے۔
ترکی اور شام میں آیا یہ زلزلہ اپنے آپ میں قیامت صغری سے کم نہیں۔بلکہ یہ قیامت صغری کی ہی نشانی ہے۔جیسا کہ حدیث سے معلوم چلتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اس امت میں خسف، مسخ اور قذف واقع ہوگا، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ایسا کب ہوگا؟ آپ نے فرمایا: جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہوجائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی‘‘۔(جامع ترمذی:۲۲۱۲) ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہوجائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور’’ ہرج‘‘ کی کثرت ہوجائے گی اور ہرج سے مراد قتل ہے ‘‘۔(صحیح بخاری :۱۰۳۶)
ترکی اور شام کا یہ زلزلہ اب تک دونوں ملکوں میں آئے زلزلوں کی تاریخ کا بڑا زلزلہ ہے۔جس کی وجہ سے ہزاروں زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں۔ہزاروں بچے یتیم،اور ہزاروں عورتیں بیوہ ہوگئیں۔مالی لحاظ سے دونوں ملکوں کو جو خسارہ ہوا ہے وہ حساب سے باہر ہے۔تصویروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہوگا۔اور دونوں ہی ممالک معاشی اعتبار سے کئی دہائی پیچھے چلے گئے ہیں۔فلک بوس عمارتیں زمین بوس اور چمچماتی سڑکیں زمین دوز ہوگئیں ہیں۔لاکھوں کارخانوں اور فیکٹریوں کا نام ونشان تک مٹ گیا۔اسکول اور کالج کی تباہی کا اب تک کوئی شمار نہیں۔ عوام کو اپنے آپ کو سنبھالنے میں کافی وقت لگے گا۔
یہ زلزلہ جہاں ایک طرف انسانی ہلاکت و تباہی کا باعث بنا، وہیں بہت کچھ سیکھنے اور اللہ کی طاقت پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:’’ آپ کہیے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات دیتا ہے۔ تم اس کو پکارتے ہو گڑگڑاکر اور چپکے چپکے، کہ اگر تم ہم کو ان سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے اور ہر غم سے، تم پھر بھی شرک کرنے لگتے ہو۔ آپ کہہ دیجئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروہ گروہ کرکے سب کو بھڑادے او رتمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھادے۔ آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وہ سمجھ جائیں‘‘۔( سورہ الانعام:۶۴ -۶۶)زلزلہ اللہ کی طاقت کی نشانی اور بنی نوع انسان کے گناہوں کی پاداش میں آتا ہے۔جب انسان اپنی انسانیت کو بھول جاتا ہے۔معصیت کا ارتکاب کھلے عام کرنے لگتا ہے۔ظالم ظلم کی ساری حدوں کو پار کرجاتا ہے تو اللہ اپنی قدرت اور طاقت کا اظہار کرتا ہے تاکہ لوگ سنبھل جائیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:’’خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالی چکھادے(بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں‘‘۔( الروم:۴۱)دور حاضر میں مسلمانوں کے اعمال کی جو حقیقت ہے وہ جگ ظاہر ہے۔توحید،نماز،روزہ ،زکاۃ،حج،قربانی،صلہ رحمی اور دوسرے اسلامی شعائر کی تعمیل میں مسلمان اوروں کے شانہ بشانہ ہیں انہی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالی ہمارے اوپر نوع بنوع کا عذاب نازل کیا کرتا ہے۔تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں۔مسلمانوں کو چایئے کہ اس قسم کے آفات وبلیات سے عبرت اور سبق حاصل کریں توبہ واستغفار کریں اپنے اندر مسلمانیت پیدا کریں۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور زلزے میں مرنے والوں کے گناہوں کو معاف فرمائے نیز ان کے پسماندگان اور زخمیوں کو صبر کی توفیق بخشے۔












