
7 اکتوبر 2023ء سے مسلسل فلسطينکی نہتی عوام پر اسرائيل اپنی مکمل جنگی صلاحيت كے ساتھ بمباری کررہا ہے، جس میں نہ جانے كکتنے بچے،کتنے بوڑھے، کتنے جوان ، اورکتنی عورتيں قتل کئے جاچکے ہيں، اور جو زندہ ہيں وہ حيات وموت کی کشمکش میں ہیں، نہ انہیں پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ كکھانے كکے لئے روٹی، نہ مريضوں كے لئے دوائيں، نہ زخميوں كکے لئے مرہم. … اسرائيل کے بموں اور ميزائلوں سے چند لمحوں میں كکتنی فلک بوس عمارتیں ملبوں میں تبدیل ہو چکی ہيں،کتنے دوا خانے اور اسپتال زمين دوزہوچکے ہيں، پورا شہر غزہ تہ وبالا ہوچکاہے … اسرائيل اپنی ظلم وبربريت میں ساری حديں پار کرچکاہے، يقين جانئے کہ لفظو ں ميں اسرائيلی جارحيت کو بيان نہیں کيا جاسکتا۔ فلسطينکی کراہتی انسانیت کی امداد کے لئےسعودی عرب نے عطيات کو جمع کرنے کی ايک عوامی تحريک چلائی ہے، در حقيقت سعودی عرب ميں بيرونی امداد كو منظم كرنے كے لئے ایک خاص ريليف سينٹر (King Salman Humanitarian Aid and Relief Center) قائم ہے، اس سينٹر كے ماتحت آن لائن مالی عطيات كکو جمع كکرنے كکے لئے(ساہِم) کے نام سے ايک پليٹ فارم ہے، شاہ سلمان بن عبد العزيز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے اسی پليٹ فارم سے اہلِ فلسطين کے لئے عوامی عطيات کو جمع كکرنے کی پر زور تحریک چلائی ہے، اور سب سے پہلے شاہ سلمان نے تين کروڑ سعودی ريال (تقریباً 65 كکروڑ انڈين روپيہ) کا عطيہ پيش کيا،پھر شہزادہ محمد بن سلمان نے دو کروڑ سعودی ريال (تقریباً 43 كکروڑ انڈين روپيہ) کا عطيہ ديا…… پھر عطيا ت کا سلسلہ سيلاب کی طرح رواں دواں ہوگيا، …… تا دم تحرير تقریباً تيس كکروڑ سعودی ريال (يعنی حا لیہ ساڑھے چھ ارب بھارتی روپيہ) جمع ہوچکا ہے، اور ہر منٹ عطيات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔فلسطینی کاز کے تئیں سعودی عرب کا موقف تاريخ كکار وشن باب ہے۔ فلسطینی کاز سعودی عرب کے سياسی پالیسی کی بنيادی مسلّمات اور اوّلين ترجيحات میں روز ِ اوّل سے شامل ہے، جس کا اظہار اور تائید سعودی عرب کی حکومت ہر دور میں، ہرا سٹيج سے اور ہر سطح پر كکرتی آرہی ہے۔ سعودی عرب نے فلسطینی کاز کی اس کے مختلف مراحل اور سیاسی، معاشی، سماجی، جنگی اورانسانی الغرض تمام مدوں میں حمایت اور مدد کی ہے۔ يہ تمام تر کوششیں اور خدمات سعودی قيادت اور عوام کے اس مخلصانہ عقیدے کی بنیاد پر ہے کہ وہ فلسطینی کاز کے لیے جو کوششیں کر رہی ہے وہ اس كکے اسلامی عقيدہ اور انسانی ضمير کے مطابق فرض ہے۔ فلسطینی کاز كکے لئے عالمی سطح پر سياسی جد وجہد كکا با ضابطہ آغاز شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ہی كکے دور میں1935ء میں لندن میں منعقد تاريخی گول میز کانفرنس سے ہوا۔ پھر ہر دور ميں سعودی عرب نے فلسطين کی آزادی اور خود مختار رياست كکا مطالبہ كکيا، اور اس سلسلے ميں فلسطينيوںکی جد وجہد کی پر زور حمايت کی۔ فلسطینی کاز كکے تئيں سعودی عرب کا موقف محض زبانی جمع خرچ نہیں ہے، بلکہ مکمل عملی اور منصوبہ بند طريقےسے انجام ديا گيا اور ديا جاتا ہے۔ چند جھلکياں درج ذيل ہيں۔ سعودی عرب نے 1967ء میں خرطوم میں ہونے والی عرب سربراہی کانفرنس میں فراخدلی سے عطیہ کیا۔جون 1967 کی جنگ کے بعد سعودی عوامی کمیٹی كکو دو ارب سعودی ریال موصول ہوئے۔ سعودی عرب نے 1978ء میں بغداد سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو دس سال کی مدت کے لیے (1979ء – 1989ء) سالانہ مالی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک ارب 90 کروڑ 37 لاکھ ڈالر کا وعدہ کیا ۔ 1987ء میں الجزائر کی ہنگامی سربراہی کانفرنس میں سعودی عرب نے فلسطینی انتفاضہ( انقلاب ) کے لیے ماہانہ 6 ملین ڈالر کی امداد مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح 1987ء ميں فلسطینی انتفاضہ فنڈ میں چودہ لاکھ تینتیس ہزار ڈالر نقد ًاعطیہ دیا، اور دو ملین ڈالر کی رقم انٹرنیشنل ریڈ کراس کو دوائیوں، طبی آلات اور خوراک کی خریداری کے لیے ديا۔ اسی طرح سعودی فنڈ برائے ترقی (1994-1995-1997-1999 ء) کے ذریعے ترقیاتی پروگرام کی مالی اعانت کے لیے تین سو ملین ڈالر عطيہ کيا۔ اس كکے علاوہ فلسطینی ساز وسامان اور مصنوعات کو سعودی عرب نے کسٹم ٹیکس کی چھوٹ دی۔ 2000ء میں قاہرہ میں ہونے والی عرب سربراہی کانفرنس میں، سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کے سرمائے سے ’’ الاقصیٰ فنڈ‘‘ اور’’القدس انتفاضہ فنڈ‘‘ کے نام سے دو فنڈز قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ الاقصیٰ فنڈ، جس کا کل ابتدائی سرمایہ 800 ملین ڈالر طے ہوا، اس کی چوتھائی رقم يعنی 200 ملين ڈالر سعودی عرب ہی نے عطيہ ديا۔اسی طرح ’’القدس انتفاضہ فنڈ‘‘ ، جس کا کل ابتدائی سرمایہ 200 ملین ڈالر طے ہوا، اس کی چوتھائی رقم يعنی 50 ملين ڈالر سعودی عرب نے عطيہ ديا۔ سعودی عرب نے فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کی مدد کے لیے 2002 ءمیں بیروت سربراہی اجلاس ميں طے شدہ اپنی تمام شراکتیں پوری کر دی ہیں، جس کی مزيد تاکید 2003ء میں شرم الشیخ سربراہی اجلاس ميں کی گئی تھی ۔ چنانچہ 2002-2004ء کے درميان سعودی عرب نے خود پر واجب كکردی 184.8 ملین ڈالر کی مکمل رقم فلسطين کے حوالہ كکيا۔ اسی طرح 2004ء ميں فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ میں مالی امداد کی مسلسل فراہمی کے حوالے سے تیونس سربراہی اجلاس کے مطابق طے شدہ اپنی تمام ذمہ داریوں کو بھی پورا کیا چنانچہ فلسطینی اتھارٹی کے چھ ماہ كکے بجٹ (اپريل- ستمبر 2004ء) کی مدد کے لئے 46,2 ملین ڈالر فلسطینی اتھارٹی كے تحويل میں ديا۔ 2009ء ميں منعقدہ’’کويت معاشی كکانفرنس‘‘ ميں سعودی عرب نے غزہ پٹی کی تعمیرِ نو کے لیے ایک ارب ڈالر کا اعلان كکيا۔ پھر 2014ء ميں اسرائیلی جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی تعمیر كکے لئے مزيد 500 ملین ڈالر سے مالی اعانت کی۔2017ء اردن میں بحیرہ مردار میں منعقدہ عرب سربراہی اجلاس کے قراردادکی روشنی ميں سعودی عرب نے فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کے لئے اپنی ماہانہ شراکت کی رقم ماہانہ7.7 ملین ڈالر سے بڑھا کر 20 ملین ڈالر کر دیا ۔ اسی طرح ’’ الاقصیٰ فنڈ‘‘ اور’’القدس فنڈ‘‘ دونوں فنڈوں كکے سرمایوں ميں اضافہ كکے لئے500 ملين ڈالر عطيہ کيا۔2018ء میں سعودی عرب كکے ظہران شہر میں منعقد 29ویں عرب سربراہی کانفرنس ميں شاہ سلمان نے القدس (يروشلم) ميں موجود اسلامی اوقاف کی حفاظت كکے ليے50 1ملين ڈالر عطيہ كکرنے كکا اعلان کيا۔ سعودی عرب نے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے پر بھی توجہ دی، چنانچہ اس نے فلسطینی پناہ گزینوں کو انسانی امداد فراہم کی۔ خواہ يہ امداد براہ راست ہو یا پناہ گزینوں کے امور سے متعلق بین الاقوامی ایجنسیوں اور تنظیموں کے ذریعے ، جیسے UNRWA، UNESCO، عرب فنڈ برائے اقتصادی اور سماجی ترقی، عالمی بینک، اور اسلامی بینک۔ سعودی عرب، فلسطينی کازکے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) (United Nations Relief and Works Agency for Palestine Refugees in the Near East) ” کے بجٹ میں اپنا مقررہ حصہ سالانہ 22 لاکھ ڈالر باقاعدہ ادا کررہی ہے۔ اس كکے علاوہ ، سعودی عرب نے ان ادراوں كکو مزيد مؤثر اور فعال بنانے كکے لئے استثنائی عطیات فراہم کیے ہیں۔ جس کی مجموعی ماليت تقريبًا6 كکروڑ (60 ملين )چار لاکھ ڈالر ہے۔ جن ميں سے 50 ملين ڈالر عطيہ یکمشت 2019ء ميں ديا گیا ہے۔ اکتوبر 2019 میں فلسطینی صدر محمود عباس نے دورۂ سعودی عرب کے دوران، شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات چیت کی، اور فلسطینی صدر کی خواہش کے جواب میں، مشترکہ اقتصادی کمیٹی تشکیل، اورسعودی- فلسطینی بزنس کونسل كکو منظوری ى ملی۔ 12 اگست 2023 کو سعودی عرب نے فلسطینی علاقوں کے لیے غیرمقیم سفیر مقرر کردیا۔ جو مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے لیے قونصل جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔ سعودی عرب کے الاخباریہ چینل پر نشر کردہ ایک ویڈیو میں نایف بن بندر السدیری نے کہا کہ یہ تقرر شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ریاست فلسطین کے بھائیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تمام شعبوں میں اسے باضابطہ فروغ دینے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ واضح رہے کہ فلسطینی علاقوں سے متعلق امور روایتی طور پر عمان میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے ذریعے نمٹائے جاتے رہے ہیں۔گزشتہ سال اکتوبر 2022ء میں، جارڈن (اردن) میں تعينات سعودی سفیر نایف بن بندر السدیری – جنہیں امسال اگست میں فلسطین میں پہلے غير مقيم سعودی سفیر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا،نےسعودی خبر رساں ایجنسی (SPA) کو رپورٹ کیے گئے بیانات میں کہا کہ 1999ء سے فلسطین کے لیے سرکاری سعودی عطیات 5.2 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان عطيات ميں فلسطيني اتھارٹی کے بجٹ کی امداد سميت انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، آبی ، غذا ئی اور زرعی تحفظ ، ماحولیاتی صفائی اور دیگر شعبوں کے لیے براہ راست مدد شامل ہے۔مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ تاریخی اقدامات اور پيش قدمياں کے روشن صفحات کی ایک جھلک درج ذیل ہے۔1- 1945ء میں شاہ عبدالعزیز اور امریکی صدر روزویلٹ کے درمیان ہونے والی مشہور تاریخی ملاقات میں اوّل الذکر نے سعودی عرب کا نقطۂ نظر پیش کیا كہ فلسطین کاز ہميشہ ہميش سعودی عرب کی پالیسیوں میں پہلا اور اہم ترين مستقل مسئلہ رہے گا۔ 2- شاہ سعود بن عبدالعزیز -رحمہ الله -نے جون 1967ء کی جنگ کے بعد فلسطینیوں اور شہداء فلسطین کے اہل خانہ کی مدد کے لیے عوامی کمیٹیاں تشکیل دیں اور ان کی سربراہی حاليہ بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز -حفظہ الله- کو سونپ دی جو اس وقت ریاض کے گورنر تھے۔3- شاہ فیصل – رحمہ الله – نے 1964ء میں اسکندریہ میں منعقدہ دوسری عرب سربراہی کانفرنس میں فلسطینیوں کی موجودگی کا مظاہرہ کرنے کے ناگزیر ہونے اور فلسطينيوں كکے جدوجہد اور ان کی بقاء کے تمام ذرائع فراہم کرنے پر زور دیا۔انہوں نے پانچ ملین برطانوی پاؤنڈز عطیہ كيا۔ اسی طرح آپ نے اکتوبر 1973ء کی جنگ میں یورپ اور امريکہ کو تيل کی سپلائی بھی بند كکردی۔ 4- 1982ء میں جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو شاہ خالد -رحمہ الله -نے قومی پاسداران (نیشنل گارڈ) اور فوج کے گوداموں سے فلسطینی جنگجوؤں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کا حکم دیا، اور جب مزيد مدد کے لئے فلسطينی صدر یاسر عرفات آئے تو انہوں نے اپنے ذاتی دولت سے فلسطينی صدر یاسر عرفات کو 50 لاکھ ڈالر ادا کیے۔ 5- 1982 میں، شاہ فہد -رحمہ الله -نے امن منصوبے کی تجویز پیش کی جسے مسئلے کا ایک معقول اور متوازن حل کا پہلا منصوبہ مانا گیا۔6- شاہ عبداللہ -رحمہ الله -نے ’عرب پیس انیشیٹو‘ پيش کيا جس پر عرب ممالک نے ء2002 میں بیروت سربراہی اجلاس میں دستخط کرکے عرب- اسرائیلی تنازع کو حل کرنے کے لیے اور ایک متحدہ عرب منصوبے کے طور پر اپنایا۔ پھر 2005ء میں مکہ سربراہی اجلاس میں تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کی سطح پر ، اور اس طرح یہ مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے حوالے سے ایک مرجع کی حيثيت اختيارکر گيا۔ یہی وجہ ہے کہ اسی ’عرب پیس انیشیٹو‘کی بحالی کا مطالبہ سعودی حکومت تا حال بدستور كکر رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سنہ 1967ء کے بعد اسرائیل نے جتنے بھی عرب علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ وہاں سے پیچھے ہٹ جائے۔ فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر بھی تسلیم کریں، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس (یروشلم) ہو گا۔ 7- فلسطین اور اس کے قابل فخر لوگوں کے لیے یکجہتی اور حمایت کی علامت کے طور پر شاہ سلمان -حفظہ الله- نے 2018ء میں سعودی عرب كے ظہران شہر میں منعقد 29ویں عرب سربراہی کانفرنس کو ’’القدس سمٹ‘‘ نام دیا۔08- سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے -حفظہ الله- 9 اکتوبر 2023ء کو اس بات کی تصدیق کی کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے ساتھ ان کے جائز حقوق کے حصول، ان کی امیدوں اور عزائم کو پورا کرنے کے لیے کھڑا ہے۔ یہ بات اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور فلسطینی صدر محمود عباس اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران سامنے آئی، جس میں غزہ اور اس کے گردونواح میں جاری فوجی کشیدگی اور عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی اور خطے کی سلامتی اور استحکام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ يہ چند جھلکیاں تھیں جنہیں ایک مضمون تو كکجا ايک کتاب ميں بھی جمع كکرنا مشکل ہے۔ فلسطيني کاز کے تئيں سعودی خدمات پر باضابطہ کئی مستقل كکتابيں موجود ہيں جن کا شائقين مطالعہ كکرسکتے ہيں۔اللہ تعالی سے دعاہے کہ مسجد اقصی کی حفاظت فرمائے اور فلسطین کو آزادی عطا فرمائے۔ س یقین کے ساتھ کہ شب مایوسی کے بعد صبح امید نمودار ہوتی ہے ۔
ڈاکٹر محمد یوسف حافظ ابوطلحہ












