• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

انسانی تقاضوں کو پورا کرتی سعودی عرب کی بے مثال خدمات

محمد شاہنواز بے باک

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 10, 2023
0 0
A A
انسانی تقاضوں کو پورا کرتی سعودی عرب کی بے مثال خدمات
Share on FacebookShare on Twitter

اس وقت پوری دنیا کے سامنے ترکی اور شام میں واقع ہولناک زلزلے کی خوفناک تصاویر گردش کر رہی ہیں، جنہیں دیکھ کرلوگوں کی زبانوں سے بے ساختہ دعائیہ کلمات جاری ہورے ہیں۔ زلزلے کی تباہکاریوں کے شکار افراد کی راحت رسانی کے لئے کئی ممالک سے فوری امداد کے لئے وفد روانہ ہو چکا ہے۔ راحت رسا ںاہلکاروں کے تخمینے کے مطابق اب تک ترکی اور شام میں تقریبا 22 ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہو چکی ہے اور تقریبا پانچ ہزار سے زائد عالیشان پختہ عمارتیں زمین دوز ہو چکی ہیں۔ حالات اس طرح سے نازک ہیں کہ ان دل دہلادینے والے مناظر کو الفاظ کا جامہ پہنانا ممکن نہیں ہے۔ دوران زلزلہ کچھ لوگوں نے اپنے کیمرے میں اس کی حقیقی صورتحال کو ضبط کرکے سوشل میڈیا میں نشر کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں وائر ہونے لگ گئیں۔ ویڈیوز میں دکھائے گئے ان مناظر کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بس دنیا اپنی انتہا کو پہنچنے والی ہے۔ تاش کی پتیوں کی طرح بکھرتے ہوئے مضبوط و مستحکم محلات کے ذرات کو دیکھ کر دل بے حد پریشان اور ذہن بے انتہا حیران ہے کہ بس اب اللہ ہی کار ساز معاون و مددگار ہے۔
بلا شبہ متاثرین افراد کی راحت رسانی کے لئے آگے قدم اٹھانا خدمت خلق اور انسانیت کی اعلی ترین مثال ہے جس کی طرف تعلیمات اسلامیہ تاکیدی طور پر زور دیتی ہیں کہ پریشان حال لوگوں کی پریشانی کو دور کرنا کار خیر و ثواب ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ جس مذہب نے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے کا سبق سکھایا ہے وہ بھلا ناگہانی اور قدرتی آفات سے متاثر افراد کی پریشانیوں اور دکھ درد میں ہاتھ بٹانے اور مدد کرنے کی تلقین کیسے نہیں کرے گا؟ حادثات کی ہولناکیوں کو دیکھ کر جب لوگ انسانیت کی بنیاد پر متاثرین کی مدد میں آگے بڑھ رہے ہیں، ان کی سہولت کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور ان کی فوری ضرورتوں کی تکمیل کے لئے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اور سیاسی رکاوٹوں کو پس پردہ ڈال کرمحض ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں مصروف ہو چکے ہیں تو راحت رسانی کے کام کو عبادت و ثواب سمجھ کر ایک مسلمان کبھی بھی پیچھے نہیں رہ سکتا ہے۔ بلکہ حتی الامکان اپنی طرف سے متاثرین کی مدد کو یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کرے گا۔
یوں تو ترکی اور شام کے زلزلے سے مچی تباہیوں کے بیچ راحت رسانی کے طور پر کئی ممالک سے راحت رسا ٹیم جائے وقوع پر پہنچ کر راحتی مہم میں مصروف ہیں۔ جن میں بھارت، جورڈن، روس، قطر اور مصر کے نام شامل ہیں جنہوں نے مختلف شکلوں میں اپنا تعاون پیش کیا ہے۔ وہیں مملکت سعودیہ عربیہ کی جانب سے متاثرین افراد کی مدد و کمک کے لئے جو قدم اٹھایا گیا ہے بلا شبہ وہ لائق ستائش اور قابل داد و تحسین ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق ” شاہ سلمان اور ولی عہد نے ترکی میں زلزلے سے متاثرین کی امداد کے لیے فضائی پل بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس کے تحت جمعرات کو سعودی عرب سے دوسرا طیارہ 98 ٹن امدادی سامان لے کرعدنہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پراترا ہے۔اس امدادی سامان میں خوراک، خیمے،ادویہ اور طبی اشیا ء شامل تھیں۔سعودی عرب کے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) نے شام اور ترکیہ میں مہلک زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بدھ کواپنے امدادی پروگرام پرعمل درآمد کا باضابطہ آغازکیاتھا۔سعودی عرب زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے اپنے ”ساہم” پروگرام کے ذریعے عطیات بھی وصول کر رہا ہے اور بدھ تک ایک کروڑ65 لاکھ ڈالر(62 ملین سعودی ریال) وصول کیے جاچکے تھے۔”
عرب نیوز انگلش کے مطابق حالات کی سنگینی اور نزاکت کو دیکھتے ہوئے سعودی فرما روا شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان نے KSreleif کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس کے تحت جمعرات تک تقریبا 80 ملین سعودی ریال جو کہ تقریبا 21 ملین ڈالر کے موافق فنڈ متاثرین کی راحت رسانی کے لئے مختلف اہل خیر حضرات سے ایک گراں قدر تعاون مختص کیا گیا۔ راحت رسانی کے کام کو آسان اور تیز رفتار بنانے کے لئے ایک فضائی پل کی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت بآسانی راحتی اشیاء کو جائے وقوع تک پہنچانا ممکن بنایا گیا ہے۔ راحتی اشیاء کے طور پر اشیاء خردنی، غذائی اجناس، خیمے،دوائی اور طبی سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔ وہیں سعودی ریڈ کریسنٹ کے مطابق طبی سہولت کو انجام دینے کے لئے 20 ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ترکی روانہ ہو چکی ہے جو مختلف نازک ترین مواقع میں متاثرین افراد کے علاج و معالجہ میں تعینات رہیں گی۔
بلاشبہ یہ سعودی اہل خیر حضرات کی طرف سے فراخدلی اور وسعت قلبی کی واضح ترین مثال ہے جو خدمت خلق اور انسانیت کی بقا و تحفظ کے لئے جاری کی گئی ہے۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جبکہ ہر ایک ملک دوسرے ملک کے ساتھ کچھ نہ کچھ سیاسی تنازع رہتا ہے جو رفاہی امور میں رخنہ ڈال سکتا تھا لیکن ان ساری چیزوں سے صرف نظر کرتے ہوئے محض ایمانی اور انسانی رشتہ کو نبھانے کی خاطر اتنا بڑا قدم اٹھایا جارہا ہے۔ یہ ایک سبق ہے ان تمام لوگوں کے لئے جو نازک ترین حالات میں بھی اپنے اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں اور متاثرین کی مدد کرنے کی بجائے اپنی سیاست کی روٹی سینکتے ہیں۔
چونکہ مملکت سعودی عرب خدمت خلق کو روز اول سے ترجیح دیتی آرہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں ان کی طرف سے انجام دی گئیں خدمات ہمیشہ توجہ کی مرکز رہی ہیں۔ یوں تو حج کے موسم میں دنیا کے چپے چپے سے آئے ہوئے عازمین حج کے ساتھ حسن سلوک، مہمان نوازی، ہمدردی، علاج ومعالجہ کی جو دیرینہ روایت جاری ہے وہ تو بے نظیر ہیں ہی ان کے علاوہ بھی انسانی ہمدرری کے تحت اقتصادی حالات کے شکار ممالک میں مملکت کی جانب سے اعلی پیمانہ پر خدمات تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہیں۔ ابھی حالیہ کورونا کے موقع پر ہی مملکت سعودیہ عرب کے حکمراں،خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ہندوستان میں کورونا سے متاثر افراد کے علاج و معالجہ کے لئے بڑے پیمانہ پر 80 میٹرک ٹن آکسیجن سلینڈر اورکنٹینر، کووڈ ٹیسٹ کٹ، ہینڈ سینی ٹائزر سمیت بڑی مقدار میں طبی آلات سے امداد کی تھیں۔ جس کی خبریں اخبار و ٹیلیویزن میں سرخیوں پر تھیں۔ ایسے پر آشوب حالات میں جبکہ ہر ایک ملک میں خدشات کا بادل سایہ فگن تھا کہ پتہ نہیں کب یہاں کی حالات نازک ہوجائے اور معاملہ کنٹرول سے باہر ہو جائے۔ لیکن پھر بھی مملکت کی جانب سے ہندوستانیوں کے لئے فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا اور طبی آلات سے امداد کرنا بڑے دل گردے اور جگر کی بات ہے۔ مملکت جہاں خدمت خلق پر اپنا ایک بڑا بجٹ خرچ کرتی ہے وہیں ان ممالک میں غریب اور محتاج لوگوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے چھوٹے چھوٹے مکاتب اور مساجد کا بھی نظم کرتی ہے تاکہ انہیں اپنے ملک کے نصاب تعلیم کے ساتھ علم حاصل کرنے میں قدرے آسانی فراہم ہو سکے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی اور شام کے زلزلے سے متاثرین افراد کی مدد کے لئے اٹھائے گئے قدم وہاں کی تباہیوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔ تاہم جس طرح سے امداد کا سلسلہ جاری ہے اس سے متاثرین کو فوری راحت پہنچانے میں بے حد مددگار ثابت ہورہا ہے۔ چونکہ اس وقت جو لوگ ملبے میں دبے اور پھنسے ہوئے ہیں انہیں جلد از جلد باہر نکالنا ایک اہم اور خاص کام ہے۔ اسی طرح جو لوگ ملبے کی زد میں آکر زخمی ہوچکے ہیں انہیں فوری علاج کی سخت ترین ضرورت ہے۔ تاکہ ان کی پرشیانیوں کو دور کرتے ہوئے انہیں راحت پہنچائی جائے۔ زلزلے کی وجہ سے جہاں لوگوں کے مکانات تہن نہس ہوئے ہیں وہیں بڑی مقدار میں اسپتال اور دوا خانے بھی مسمار ہو چکے ہیں۔ ایسی بدترین صورتحال میں جہاں لوگوں کو غزائی اجناس اور سر چھپانے کے لئے خیموں کی ضرورت ہے وہیں انہیں بڑی تعداد میں ڈاکٹروں کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے مزید ممالک کو اس مہم میں حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ان پریشان حال لوگوں کی پریشانیوں کو فوری طور پر دور کیا جاسکے۔
اخیر میں اس بات کا ذکر کئے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ زلزلہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس سے ہمیں عبرت لینے کی سخت ضرورت ہے۔یہ تو محض قیامت کی ایک تمثیلی کیفیت ہے جو گاہے بگاہے ہماری نگاہوں کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ لیکن جس دن اصلی صورت میں قیامت آئے گی اس دن کی ہولناکیاں اس سے لاکھوں گنا زیادہ ہوں گی جن کی تفصیلات قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بتلادی گئی ہیں۔ بلکہ ایک سورۃ تو زلزلہ کے متعلق ہی نازل کر دی گئی ہے جسے سورۃ زلزال کے نام سے ہم اور آپ جانتے ہیں۔ مذکورہ سورت میں وہ تمام کیفیات کا ذکر آچکا ہے جو کچھ قیامت کے دن ایک زلزلہ کی شکل میں نمودار ہوں گی۔
لیکن ہم اور آپ جس طرح سے دنیا کی حسین ترین وادیوں میں بھٹک رہے ہیں اس سے تو محض اسی بات کا اندازہ لگتا ہے کہ ہمیں اس فانی دنیا میں ہمیشہ ہمیش زندہ و تابندہ رہنا ہے۔ نہ تو ہمیں موت ہی آئے گی نا ہی ہمیں اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اسی خواب غفلت کے نتیجے میں دنیا میں بے حیائیاں عام ہوتی جارہی ہیں۔ خاص طور وہ تمام برائیاں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی زیادتی کی وجہ سے زمین میں زلزلے واقع ہوتے ہیں وہ سب ان دنوں لوگوں کا فیشن بن چکا ہے۔ یعنی زنا کاری آج اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ جہاں تک ہوسکے ہمیں ایک بامقصد زندگی گزارنے کی سخت ضرورت ہے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہم بھی اللہ کی ناراضگی کی زد میں آکر دنیا ہی میں ذلیل و رسوا ہو جائیں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    مارچ 28, 2026
    ایک ہولناک عالمی مذاق

    ایک ہولناک عالمی مذاق

    مارچ 28, 2026
    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    مارچ 28, 2026
    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں  بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مارچ 28, 2026
    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    مارچ 28, 2026
    ایک ہولناک عالمی مذاق

    ایک ہولناک عالمی مذاق

    مارچ 28, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist