نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:سائنس، ٹکنالوجی اور اختراع پر نواں سالانہ ملٹی اسٹیک ہولڈر فورم (STI)، پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر، نیویارک (یوایس اے) میں 9-10 مئی 2024 کو انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہوئی اور ’’تھیم 2030 کے ایجنڈے کو تقویت دینے نیز متعدد بحرانوں کے وقت غربت کے خاتمے کے لیے سائنس، ٹکنالوجی اور اختراع پائیدار، لچکدار اور اختراعی حل کی موثر فراہمی‘‘ کے موضوع پر کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔ ہر سال STI فورم اعلیٰ سطح کے پالیسی سازوں اور اعلیٰ سرکاری حکام کو سائنس دانوں، انجینئرز، اختراع کاروں، کاروباری افراد اور منظم سائنس اور ٹکنالوجی کمیونٹیز، اقوام متحدہ کے نظام اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ بذریعہ کانفرنس اکٹھا کرتا ہے۔ فورم نیٹ ورکس کے قیام اور SDGs کے لیے متعلقہ ٹکنالوجی کی ترقی، منتقلی اور پھیلانے میں سہولت فراہم کرنے کا ایک مقام ہے۔ دنیا کے ان ماہرین میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے قومی نائب صدر ڈاکٹر ایس ایم حسین کا نام بھی شامل ہوگیا ہے جنہیں اقوام متحدہ نے مذکورہ کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔ اس دوران ڈاکٹر ایس ایم حسین نے اپنی سفارشات میں یہ بات کہی کہ ابن سینا کی سائنس صرف طب یونانی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ابن سینا کی سائنس سے جڑے بہت سے محققین نے سائنس کی مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر کارنامہ انجام دیے ہیں۔ ان کی ایجادات ہی سے آج کی ماڈرن ٹکنالوجی اس مقام تک پہنچی ہے۔ اگر ہم ابن سینا کی قائم کردہ سائنس کے اصولوں پر پھر سے غور و فکر کریں تو ہمارے مقاصد اور اچھے ثابت ہوسکتے ہیں۔ مختلف ممالک (کوریا، سویڈن، چائنا، اٹلی، کینڈا، بنگلہ دیش وغیرہ) سے آئے ہوئے سائنس دانوں اور محققین سے ڈاکٹر ایس ایم حسین کی تفصیلی گفتگو اور تبادلہ خیال ہوا۔ کانفرنس انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی اس امید کے ساتھ کہ سائنس، ٹکنالوجی اور ایجادات سے پوری دنیا فیضیاب ہوگی اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوگا۔آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے جاری بیان میں مذکورہ کانفرنس کی کامیابی اور ڈاکٹر ایس ایم حسین کی اقوام متحدہ میں نمائندگی پر مبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر یقینا قابل رشک ہے کہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس دنیا بھر میں بھارت کا نام روشن کر رہی ہے کیونکہ بھارت ایسا دیش ہے جہاں طب یونانی باضابطہ مکمل طور سے رائج ہے اور وزارت آیوش، حکومت ہند کا اہم جز بھی ہے۔












