نیویارک: امریکا کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ میں جنگ بندی کی حمایت میں قرار داد منظور کرے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکا نے سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے لیے ایک قرارداد کا مسودہ دیا ہے جس میں اسرائیل اور حماس سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ قرارداد پر ووٹنگ کب ہوگی۔
اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان نیٹ ایونز نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکی قرارداد پررائے شماری کرائےاورامریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجاویز کی حمایت کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کے اراکین کو یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے اور معاہدے کی حمایت میں متحد ہو کر بات کرنی چاہیے۔ اس سے قبل دوسرے ممالک کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی قراردادوں کو ویٹو کیے جانے پر امریکا کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے
دریں اثناحماس کے ایک سینیئر اہلکار نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے مشرق وسطیٰ کے دورے سے قبل امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن مصر اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ حماس کے سینیئر عہدیدار سمیع ابو زہری نے کہا ہے کہ ’ہم امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ جنگ روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کسی بھی اقدام کے لیے مثبت طور پر تیار ہے۔‘
اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد یہ امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کا آٹھواں دورہ ہو گا۔ عشروں سے جاری اسرائیل فلسطین تنازع میں یہ سب سے خونریز تنازع ہے۔ وزارت خارجہ کے شیڈول کے مطابق اسرائیل کا دورہ کرنے سے قبل انٹونی بلنکن قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ کا دورہ، صدر جو بائیڈن کی جانب سے 31 مئی کو تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے لیے تجویز کردہ ایک معاہدے کے بعد ہو رہا ہے۔ اس تجویز کردہ معاہدے میں تنازع کے مکمل خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔ اسرائیل پر حماس کے حملے میں 1200 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اسرائیل نے جوابی کارروائی میں غزہ کی پٹی پر حملہ کیا جس میں 37 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔












