لکھنؤ، سماج نیوز سروس: ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے یوپی بلدیاتی انتخابات کو لے کر بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے یوپی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اس بار بلدیاتی انتخابات ریزرویشن کے بغیر کرائے جائیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ریزرویشن کو اس وقت تک لاگو نہیں کیا جانا چاہئے جب تک سپریم کورٹ کی طرف سے تجویز کردہ ٹرپل ٹیسٹ نہیں ہوجاتا۔ ہائی کورٹ نے 2017 کے او بی سی ریپڈ سروے کو مسترد کر دیا ہے۔ شہری بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے معزز ہائی کورٹ الٰہ آباد کے حکم کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد حکومتی سطح پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا، تاہم قانونی ماہرین سے مشورہ کرنے کے بعد پسماندہ طبقات کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا! ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کیلئے 5 دسمبر کو جاری کردہ مسودہ نوٹیفکیشن کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے یوپی حکومت کو گھیرنا شروع کردیا ہے۔ ایس پی اور کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ ریزرویشن بغیر شہری انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ بلدیاتی الیکشن پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے ٹوئٹ کیا۔ آج شہری الیکشن میں او بی سی ریزرویشن کے معاملے پر ریزرویشن مخالف بی جے پی ہمدردی دکھا رہی ہے۔ آج بی جے پی نے پسماندہ لوگوں کے ریزرویشن کا حق چھین لیا ہے، کل بی جے پی بابا صاحب کا دلتوں کو دیا ہوا ریزرویشن بھی چھین لے گی۔ پسماندہ اور دلتوں سے اپیل ہے کہ وہ ریزرویشن بچانے کی لڑائی میں ایس پی کا ساتھ دیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ شہری بلدیاتی انتخابات سے متعلق الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کا تفصیلی مطالعہ اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد حکومتی سطح پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔بلدیاتی انتخابات میں او بی سی ریزرویشن کے حوالے سے جاری متعدد پٹیشن پر اپنے 87صفحات پر مبنی فیصلے میں جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس سوربھ لوانیا کی بنچ نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ کی جانب سے ہدایت شدہ ٹریپل ٹیسٹ کی کاروائی ریاستی حکومت کی جانب سے مکمل نہیں کر لی جاتی ہے ۔ اس وقت تک او بی سی کو ریزرویشن فراہم نہیں کیا جاسکتا۔اترپردیش میں بلدیاتی انتخابات پر چھائے مطلع کا ایک دم واضح کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے منگل کو جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے اور او بی سی کو ریزرویشن نا دینے کا آرڈر دیا ہے ۔ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے چونکہ بلدیات کا میعاد کار یا تو ختم ہوچکا ہے یا پھر 31/01/2023تک ختم ہونے کو ہے ۔ اور ٹریپل ٹیسٹ کی ایکسرسائز کو پائے تکمیل تک پہنچنے میں خاطر خواہ وقت لگنے کے قوی امکانات ہیں لہٰذا ریاستی حکومت؍الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے شیڈول کاسٹ یا شیڈول ٹرائب کیلئے مختص سیٹوں کے علاوہ دیگر تمام کو جنرل؍اوپن زمرے میں رکھا جائے گا۔ عدالت نے مزید کہا ہے کہ ’بلدیہ کا میعاد کار ختم ہونے کی صورت میں منتخبہ باڈی کے قیام تک میونسپل باڈی کے تمام امور سہ رکنی کمیٹی کے ذریعہ انجام پذیر دئیے جائیں گے جس کے سربراہ متعلقہ میونسپل باڈی کے ضلع کے ڈی ایم ہوں گے ۔
جبکہ ایگزکٹیو افسر یا چیف ایگزکٹیو افسر یا میونسپل کمشنر ممبر ہوں گے اور تیسر ممبر ضلع سطح کے افسر ہونگے جو ڈی ایم کے ذریعہ نامزد کیا جائے گا‘۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ بلدیاتی انتخابات میں او بی سی ریزرویشن کے حوالے سے داخل متعدد مفاد عامہ کی عرضداشتوں پر سماعت کے بعد دیا۔فائل کی گئی پی آئی ایل میں عرضی گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ ریاست کے بلدیاتی انتخابات میں او بی سی ریزرویشن کے حوالے سے ریاستی حکومت کی کاروائی سریشن مہاجن بنام ریاست مدھیہ پردیش کے کیس میں سپریم کورٹ کے ذریعہ دئیے گئے فیصلے کی صریح خلاف ورزی و عدالتی فیصلے کی توہین ہے ۔عرضی گزاروں نے دعوی کیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں واضح طور پر ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام صوبوں اور ان کے متعلقہ الیکشن کمیشن واضح طور پر حکم دیا ہے کہ جبکہ ٹریپل ٹیسٹ کی کاروائی ہر صورت ریاستی حکومت کے ذریعہ مکمل نہیں کرلی جاتی ہے او بی سی کو ریزرویشن نہیں فراہم کیا جاسکتا ہے ۔عدالت نے افسران کو ہدایت دی کہ آئین ہند کے آرٹیکل- 243یو کی دفعات کے تحت ہونے والے انتخابات کو فورا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ۔جو کہ اس بات کا حکم دیتا ہے کہ بلدیہ کے انتخابات اس کی میعاد کار ختم ہونے سے پہلے ہی ہوجانے چاہیں۔












