ویسے تو اللہ تعالی کی رحمت و برکت عام ہیں جیسے اللہ تعالی کی رحمت و برکت چاند کی چادنی ہے سورج کی روشنی ہے ہوائیں ہیں سورج کی روشنی ہمارے لیے مانند رحمت ہے چاند کی چاندنی ہمارے لیے مانند برکت ہے خود سوچیے کہ اگر اللہ تبارک و تعالی سورج کی روشنی کو ہمارے درمیان نہ بکھیرے تو ہماری زندگی میں کیا پوری دنیا میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے گا اور اگر چاند کی چادنی نہ ہو تو اس سے نقصان یہ ہوگا کہ نہ ہمارے کھیتوں میں پھسلیں ہو پائیں گی نہ پیڑ پودے سے شگوفے نکل پائیں گے اور نہ ہی پھولوں میں رونق ہوگی یوں ہی اگر اللہ تبارک و تعالی ہواؤں کو چلانا بند کر دے تو ہوا کے بغیر (oxygen) ہماری زندگی دو بھر ہو جائے گی یوں ہی اللہ تبارک و تعالی کی نعمتوں اور برکتوں پر غور کیا جائے تو ہم اللہ تبارک و تعالی کی رحمت و برکت سے گھرے ہوئے ہیں بے شمار (uncountable)نعمت ہے اللہ تعالیٰ کی جیسا کہ قران میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا.
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر پاؤ گے ۔
جیسے ہم اپنے جسم کے اندر دیکھیں تو اللہ تبارک و تعالی نے ہمارے جسم کے ایک ایک اعضاء کو نعمت کے طور پر عطا فرمایا ہے ہم اپنی آنکھ کو دیکھیں تو آنکھ ہمارے لیے باعث برکت ہے اگر آنکھ کی روشنی بند ہو جائے تو ہم نابینا ہو جائیں گے اور ہماری زندگی میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے گا یوں ہی ہماری زبان کو لے لیا جائے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ہماری زبان میں کتنی نعمتوں کو پیدا کیا ہے جیسے اسی زبان سے ہم بولتے بھی ہیں تکلم کرتے ہیں اردو بولتے ہیں انگریزی (English)بولتے ہیں فارسی بولتے ہیں دنیا کی زبانیں بولتے ہیں اور اسی زبان سے ہم کھانوں کا ذائقہ لیتے ہیں پانی کا ذائقہ لیتے ہیں شرب و طعام کا مزہ لیتے ہیں اگر اللہ تبارک و تعالی ہماری زبان سے ان تمام نعمتوں کو چھین لے تو ہم اللہ کی ان عظیم نعمتوں سےبرکتوں سے محروم ہو جائیں گے یوں ہی اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں ہاتھ اور پیر سے نوازا ہے اگر ہمارے پاس ہاتھ اور پیر نہ ہوں تو ہم چلنے پھرنے سے کوئی کام کرنے سے قاصر ہو جائیں گے قارئین کرام آپ ذرا خود غور کریے کہ اللہ تبارک و تعالی کی کتنی نعمتیں چھپی ہوئی ہیں ہماری جسم کے اندر کہ ہمارے سر کو دیکھ لیجئے اسی سر میں بے شمار نعمتیں ہیں اسی سر میں آنکھ ہے کان ہے زبان ہے اور غور و فکر کرنے کے لیے سوچو بیچار کرنے کے لیے ہمیں اللہ تبارک و تعالی نے ایک عظیم نعمت سے نوازا جسے ہم اور آپ دماغ کہتے ہیں عقل کہتے ہیں اگر یہ دماغ نہ ہو تو ہم مجنون و پاگل کی فہرست میں شمار کیے جائیں گے قارین کرام اللہ تبارک و تعالی کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان تمام اعضا کو صحیح و سلامتی کے ساتھ نوازا ہے ۔
تو اللہ تبارک و تعالی کی نعمتیں رحمت و برکت کی شکل میں ہر وقت ہمیشہ ہم تمامی لوگوں پر سایہ فگن رہتی ہیں کبھی عبادت و ریاضت کروا کر اپنے عابدین و متقین بندوں کی صفوں میں شامل کر دیتا ہے کبھی تمام گناہوں سے توبہ کی توفیق دے کر اپنے تائبین کی لسٹ میں کھڑا کر دیتا ہے کبھی شہرت کی شکل میں کبھی دولت کی شکل میں کبھی اولاد کی شکل میں کبھی علم وہنر کی شکل میں وغیرہ وغیرہ اللہ تعالیٰ نوازتا رہتا ہے ۔
ان تمام چیزوں کو عطا کرنے کے بعد مزید یے بھی ارشاد فرماتاہے ۔
لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً (پارہ 24 صفحہ نمبر 3 سورہ زمر)
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ تعالیٰ سب گناہ کو بخش دیتا ہے (ترجمہ کنزالایمان)
اس کے بعد
لیکن کچھ مخصوص اوقات ہیں کچھ خصوصی راتیں ہیں کچھ خصوصی دن ہیں ایام ہیں جس میں اللہ تبارک و تعالی کی رحمتیں برکتیں جھوم کے برستی ہیں جس میں سے ایک رات حدیث و قران کی روشنی میں شعبان کی 15 ویں شب ، یعنی شب برات اس رات کی شان یے ہے کہ اللہ تبارک و تعالی اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور روزی میں کشادگی عطا فرما دیتا ہے اور بے شمار رحمت و برکت کا نزول فرماتا ہے ۔
الترغیب و ترہیب جلد نمبر دو صفحہ نمبر 119 ابن ماجہ شریف صفحہ نمبر 99 کی حدیث ہے جس کے راوی امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم ہیں وہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب شعبان کی 15 رات یعنی شب برات آ جائے تو تم لوگ رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی اس رات میں دن ڈوبنے کے وقت سے ہی آسمان دنیا پر تجلی رحمت کا نزول فرما کر اعلان فرماتا ہے ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ میں اس کی مغفرت فرما دوں ہے کوئی رزق کا طلبگار کہ میں اسے رزق عطا کر دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اس کی مصیبتوں کو دور کر دوں ہے کوئی ایسا ایسا یعنی فلاں فلاں حاجت والا کہ میں اس کی حاجتوں کو پورا کروں یہ اعلان رات بھر ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح کا اجالا نمودار ہو جاتا ہے یعنی فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔
انتباہ انتباہ
یے تمام خوش خبری ان لوگوں کے لیے ہے جو شرابی نہیں ہیں جو بد کاری نہیں کرتے جو والدین کے نافرمان نہیں ہیں جھوٹ غیبت چغلی شر و فساد کرنے والے نہیں ہیں ۔
ایک اور حدیث پاک ہے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی 15 ویں رات آ جاتی ہے تو پروردگار عالم بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے قارئین کرام کتنی خوشی کی بات ہے کتنی عظیم بات ہے کتنی اچھی بات ہے کہ ایسی مبارک رات میں پروردگار عالم بے شمار و بے حساب اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے اپنے بندوں کو رزق عطا فرماتا ہے ایک حدیث پاک میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ شعبان کی 15 رات میں جو بچہ اس سال پیدا ہوگا پروردگار عالم اسے متعین کر دیتا ہے جتنے لوگ مریں گے انہیں متعین کر دیا جاتا ہے اسی رات لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اسی رات میں اور لوگوں کی روزیاں اتار دی جاتی ہیں یعنی لکھ دی جاتی ہیں اور ان گنت لوگوں کو بلاؤں مصیبتوں و بیماریوں سے رہا فرما دیتا ہے تو اس مبارک رات میں ہمیں چاہیے کہ پروردگار عالم کے حشوع و خضوع کے ساتھ اپنے سروں کو دل کے جھکاؤ کے ساتھ سجدہ ریزی کریں اور خشیت الہی میں ڈوب کر اپنے گناہوں پر نادم و شرمندہ ہوں اور اللہ سے سچی پکی امید لگا کر کے اپنے گناہوں کی معافی تلافی کروائیں اور مغفرت طلب کریں اور اس مبارک رات میں یہ بھی وعدہ کریں یہ بھی تہیہ کریں اور یہ ارادہ کریں کہ آئندہ ہماری زندگی ان شاءاللہ تعالی شریعت مطہرہ کے مطابق یعنی نمازوں کی پابندی کے ساتھ عبادت و ریاضت کے ساتھ قران و حدیث کی روشنی میں ان شاء اللہ تعالی ہماری زندگی گزرے گی ۔
جب ایسی مبارک راتیں ہیں ایسی بابرکت وبا سعادت شب ہے تو اس شب کو ہم عام دنوں کی طرح نہ گزاریں اس رات کو ہم تفریح والی رات نہ جانیں اس رات کو ہم لہو و لعب میں نہ رہیں بلکہ یہ رات ہمیں عبرت کا درس دیتی ہے نصیحت کا درس دیتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے اور پروردگار عالم کی شان کریمی رحیمی کا جلوہ دکھاتی ہے تو جب اتنی پر بہار و پر وقار رات ہے تو اس رات میں خوب خوب خشیت الہی میں ڈوب کر اپنے دل کے سیاہ دھبوں کو مٹائیں اور اللہ تبارک و تعالی سے خلوص کے ساتھ لو لگائیں ان شاءاللہ تعالی اللہ تبارک و تعالی کی رحمتیں برکتیں جیسا کہ حدیث و قران میں ہے کہ اس کی رحمتیں اس رات میں بے شمار ہیں تو ان شاءاللہ تعالی اپ کو بھی اس کی رحمتیں برکتیں مل کر ہی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی بے شمار رحمت و برکت سے نوازے اس عظیم رات شب برات کا صدقہ عنایت فرما۔
پروردگار عالم راقم الحروف کو بھی اپنی بے شمار رحمتوں برکتوں کا چھینٹا اپنے حبیب پاک صاحب لولاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے طفیل عطا فرمائے ۔
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم












