ملک کی سیاست میں سیریل زلزلہ کا دور ہے۔سب کچھ اتنی تیزی سے بدل رہا ہے کہ بڑے بڑے سیاسی مبصرین بھی جو ہوا کا رخ بھانپنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ان حالات میں کچھ بولنے کو تیار نہیں ہیں۔راہل گاندھی کے خلاف بی جے پی نے جو مہم بی جے پی نے گذشتہ دس برسوں سے چلائی ہوئی ہے اسے راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ پوری طرح ملیا میٹ کر دیا اور پھر نہایت شاطرانہ اندازمیں سیاسی بصیرت کوبروئے کار لا کر مودی اینڈ کمپنی کی دکھتی رگ پر حملہ کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ نریندر مودی کی سرکار کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔کون نہیں جانتا کہ آزادی کے پہلے سے ہی کانگریس ملک کے تجارتی گھرانوں سے پیسے لے کر آزادی کی جنگ لڑتی رہی ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ تجارتی گھرانوں سے گاندھی جی اور جواہر لعل نہرو کے اچھے رشتے رہے ہیں اور ٹاٹا بڑلا جیسی کمپنیوں نے بھی جواہر لعل نہرو کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان کے خوابوں کے خاکے میں رنگ بھرنے کا کام کیا۔موجودہ الکٹورل سسٹم میں بغیر موٹی رقم حاصل کئے کسی سیاسی پارٹی کا وجود بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان تجارتی گھرانوں کو کانگریس نے سر پر بٹھا لیا ہو اور ان کے اشارے پر ہی اکنامک پالیسی بنائی ہو۔وہ تمام سرکاری ٹھیکے صرف ان چند ٹھیکیداروں کو دئے جاتے رہے ہوں جو پارٹی فنڈ صرف بر سر اقتدار جماعت کو دے۔
پورا ملک یہ بھی جانتا ہے کہ شرد پوار کا تعلق جس ریاست سے ہے وہ تجارتی کیپٹل ہے اور اس ریاست میں شرد پوار نے پوری عمر سیاست کی ہے۔پہلے کانگریس کے ساتھ اور اب آزاد و خود مختار ہو کر اپنی پارٹی NCP کے ساتھ۔کارپوریٹ گھرانوں سے شرد پوار کے رشتے غیر فطری اور ناجائز بھی نہیں ہیں کیونکہ وہ اسی قبیلے کے ایک فرد ہیں اور مہاراشٹرا میں سوگر ملوں کی ایک چین کے مالک شرد پوار ہیں۔اڈانی سے ان کی دوستی بھی بہت پرانی ہے اور ایسے برے وقت میں جب راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بری طرح گھیرلیا ہے کہ جے پی سی نہ کرانے کے باوجود بی جے پی کو 2024 کے عام انتخاب تک اس سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ وزیر اعظم کا اڈانی سے کیا رشتہ ہے۔اڈانی کے جہاز میں وزیر اعظم کے گھومنے کا مطلب کیا ہے۔غیر ملکی دوروں پر اکثر اڈانی ہی وزیر اعظم کے ساتھ کیوں دیکھے جاتے ہیں۔کیوں وزیر اعظم غیر ملکی بینکوں سے بھی اڈانی کو براہ راست مداخلت کر کے قرض دلواتے ہیں۔بنگلہ دیش اور سری لنکا سے جو خبریں آرہی ہیں ان میں کتنی سچائی ہے کہ مودی جی کے کہنے پر ان دونوں ممالک میں اڈانی کو بڑے بڑے ٹھیکے ملے ہیں۔؟سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اڈانی جی کو تمام شرائط کو طاق پر رکھ کر ڈیفنس سیکٹر کے حساس نوعیت کے ہتھیار بنانے کا ٹھیکہ تو دے دیا گیا لیکن جب ان کی کمپنی کا شجرہ کھنگالا گیا تو پتہ چلا کہ اس کمپنی میں ہزاروں کروڑ روپیہ شیل کمپنیوں کا لگا ہوا ہے جس کے مالکان کا نام کوئی نہیں جانتا۔اور سارا گڑبرجھالا غیرملک میں بیٹھا ونود کر رہا ہے جو اڈانی کا بھائی ہے۔
نریندر مودی اور ان کی پارٹی کے لئے ان سارے سوالات کا جواب دینا اس لئے ناممکن ہے کہ یہ سارا معاملہ انجانے میں نہیں ہوا ہے بلکہ اڈانی کو اس طرح سے نوازا جانا اس قرض کی ادائیگی ہے جو گجرات سے لے کر دہلی تک کے سفر میں نریندر مودی نے اڈانی اور دیگر کارپوریٹ گھرانوں سے لئے ہیں۔شرد پوار کا بھی کم وبیش یہی معاملہ ہے کہ وہ ان کارپوریٹ گھرانوں سے پیسے لے کر ہی مہاراشٹرا میں سیاست کرتے رہے ہیں لہٰذا اس برے دور میں اڈانی کے ساتھ انکا کھڑا ہونا فطری ہے۔لیکن شرد پوار کی مجبوری یہ ہے کہ اب ان کی حیثیت مہاراسٹرا کے چھترپ کی نہیں رہی۔اور مہاراشٹرا میں اگر آج مہا وکاس اگھاڑی بکھر گیا تو نہ اودھو ٹھاکرے کو کہیں ٹھکانہ ملے گا اور نہ شرد پوار کو۔کیونکہ پورے ملک سمیت مہاراشٹرا کے لوگ بھی دیکھ رہے ہیں کہ راہل گاندھی کا ہر سوال واجب ہے اور ایک جمہوری سرکار کو اپوزیشن لیڈر کے ہر سوال کا تشفی بخش جواب دینا لازمی ہے۔لیکن جواب تو دور سرکار نے ایک سازش کے تحت راہل گاندھی سے ان کا پارلیمنٹ میں جانے کا حق بھی چھین لیا۔شرد پوار کو قومی سیاست میں صرف سینئر ہونے سے عزت نہیں ملی ہے بلکہ ان کے اس شاطرانہ سیاسی بازی کے لوگ معتقد ہو گئے جس میں انہوں نے کانگریس اور شیو سینا کو ایک گھاٹ پر پانی پینے کو راضی کر لیا اور ایک جھٹکے میں مہاراشٹرا میں بی جے پی کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔لیکن اڈانی کے سلسلے میں اڈانی کے خریدے ہوئے چینل این ڈی ٹی وی پر شرد پوار کا یہ کہنا کہ راہل گاندھی کو جے پی سی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جانا چاہئے۔ 2024کے عام انتخاب کے ایجنڈوں میں بے روزگاری اور مہنگائی ہی کافی ہے اڈانی کے مدعے کو شامل کرنا اس لئے مناسب نہیں ہوگا کہ عام لوگوں کو یہ مدعا متوجہ نہیں کرے گا۔ساتھ ہی شرد پوار نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہنڈن برگ کی رپورٹ قابل اعتماد نہیں ہے اور وہ اڈانی کو نشانہ بنانے کا ایک غیر ملکی ٹول ہے۔
یقینا شرد پوار نے یہ بیان دیا نہیں ہے بلکہ یہ بیان ان سے دلوایا گیا ہے لیکن عوام کے سامنے مشکوک ہونے کا مطلب ہے کہ شرد پوار پر کانگریس کا اعتماد کرنا آستین میں سانپ پالنے کے مترادف ہوگا۔رہا سوال راہل گاندھی کے اڈانی مدعے سے پیچھے ہٹنے کا وقت بھی گذر گیا۔فی الوقت پورے ملک میں راہل گاندھی کے اس حوصلے کی تعریف ہورہی ہے کہ انہوں نے بیک وقت آر ایس ایس اور اڈانی جیسے جعلی دیش بھکتوں کے چہرے سے نقاب نوچ لیا ہے۔اور ڈرے سہمے سیاسی ماحول میں راہل گاندھی کا یہ حوصلہ معمولی نہیں۔












