پوری عمر سیاست کی نئی نئی بازیاں کھیلنے والے شرد پوار نے ایک اور بازی چل دی ہے اور سارے ملک کے چغادری سیاستداں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ شرد پوار کا اگلا قدم کیا ہوگا۔یہ نئی صورت حال اس وقت سامنے آئی جب دوروز پہلے اپنی خود نوشت کے اجرا کے موقعہ پر یکایک شرد پوار نے یہ اعلان کیا کہ وہ این سی پی کی صدارت سے مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔شرد پوار کا یہ کہنا حیرت انگیز اس لئے بھی تھا کہ فی الحال مہاراشٹرا کی سیاست میں جس طرح کا بحران ہے اس میں شرد پوار سے مہاراشٹر کے ایک بڑے طبقہ کی امیدیں وابستہ ہیں اور سیاست کے ماضی پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ شرد پوار کسی بھی صورت حال کو کنٹرول کرنے کا دم خم رکھتے ہیں۔اور صرف مہاراشٹرا ہی نہیں پورے ملک کے سنجیدہ لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کی ایک بہت اہم کڑی این سی پی اور اس کے صدر شرد پوار ہیں جن کے تجربے اور سیاسی بصیرت پر کسی کو بھی شک نہیں ہے۔لہذا 2024کے عام انتخابات اور اس کے بعد کی صورت حال کو پٹری پر لانے کی صلاحیت شرد پوار میں موجود ہے۔فی الوقت ملک کے اپوزیشن لیڈروں میں شرد پوار کے قد کا دوسرا کوئی لیڈر نہیں جس کے تعلقات ملک کی تمام پارٹیوں کے لیڈر سے خوشگوار ہیں۔ماضی پر نظر ڈالیں تو انہوں نے اندرا گاندھی اور ان کی بنائی کانگریس آئی کو چھوڑ کر 1977میں کانگریس کے باغی گروپ کانگریس یو کا دامن تھام کر مہاراشٹرا میں اندرا کانگریس کے مقابلے میں انتخاب لڑا تھا اور اس میں ناکام ہونے پر جنتا پارٹی کے ساتھ کانگریس یو کو توڑ کر نہ صرف سرکار بنائی بلکہ وزیر اعلی بھی بن بیٹھے۔این سی پی بننے کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔وہ ایک ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے پر جم کر اعتراض کیا تھا اور پھر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنا لی تھی جسے ہم نیشنلسٹ کانگریس کے نام سے جانتے ہیں۔اور پھر جیسے ہی موقعہ ملا انہوں نے کانگریس اور شیو سینا جیسی پارٹی کو ایک گھاٹ پر پان پینے کو مجبور کر دیا۔یہ سب شرد پوار کے کارنامے ہیں جن کی داد دینی چاہئیے ابھی پچھلے مہینے بھی شرد پوار نے جس شاطرانہ انداز میں ہنڈن برگ رپورٹ کو اپوزیشن پارٹیوں کے اسٹینڈ سے الگ جا کر رد کیا اور پھر اڈانی کے ساتھ جا کر کھڑے ہی نہیں راہل گاندھی کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اپنا آڈانی اور آر ایس مخالفت کے اسٹینڈ پر غور کریں یہ معمولی حوصلے کی بات نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں وہ آئسولیٹ کر دئے جائنگے تو انہوں نے بلا تاخیر کانگریس صدر کھڑگے اور راہل گاندھی سے مل کر اپنے مشورے سے رجوع کر لیا۔اسے بھلے ہی ان کی ابن الوقتی پر محمول کیا جائے لیکن ان کی سیاسی بصیرت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اب ان کے تازہ بیان پر ایک ہنگامہ برپا ہے اور مختلف سیاسی مدبر اس بیان پر اپنی الگ الگ رائے قائم کر رہے ہیں لیکن کوئی حتمی رائے قائم کر نے کی حالت میں نہیں ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ شرد پوار کا ہر قدم سیاسی مفاد سے وابستہ ہوتا ہے اور چند مہینوں کے اندر مہاراشٹرا کی سیاست میں جو زلزلہ ایا ہے اس کے ایک ایک جھٹکے سے جتنا شرد پوار واقف ہیں دوسرا کوئی نہیں اور اب جب 2024 کے انتخاب اور اس کے پہلے شندے کی سرکار پر جو فیصلہ سپریم کورٹ سے آنے والا ہے ،اجیت پوار کے بارے میں جو خبر آرہی ہے کہ وہ بی جے پی کو ایک بار پھر شیشے میں اتار چکے ہیں اور اب وہ ڈپٹی سی ایم نہیں بلکہ سیدھے سی ایم بن سکتے ہیں ،سپریا سولے کا یہ بیان کہ مہاراشٹرا کی سیاست میں جلد ہی کوئی دھماکہ ہونے والا ہے۔ان سب کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ گمان گذرتا ہے کہ کہں شرد پوار این سی پی صدر سے مستعفی ہونے کا بیان دے کر این سی پی پارٹی کے عام ممبران کو ٹیسٹ تو نہیں کر رہے ہیں تاکہ انہیں یہ تسلی ہو جائے کہ ان کی پارٹی آج بھی ان کے دم پر ہی قائم ہے اور اس عام مقبولیت کو اجیت پوار درکنار نہ کرسکیں۔خود بی جے پی کو بھی یہ اندازہ ہو جائے کہ این سی پی کے کسی لیڈر کو چاہے وہ ان کے بھتیجے ہی کیوں نہ ہوں لالی پاپ دے کر شرد پوار کو کنارے نہیں لگایا جاسکتا۔شرد پوار کے مستعفی ہونے کے بعد جس طرح کا رد عمل پارٹی کے جملہ لیڈروں سوائے اجیت پوار کے سامنے آیا ہے اس کو دیکھ کر بھی یہی لگتا ہے کہ شرد پوار کا تجربہ کامیاب رہا ہے اور ایک دو دن میں ہی وہ اپنے بیان سے رجوع کر سکتے ہیں۔جس کا اشارہ انہوں نے دے بھی دیا ہے۔












