نئی دہلی، کرناٹک میں 13مئی کو اسمبلی انتخابات کے نتائج میں کانگریس واضح اکثریت کے ساتھ ابھری تھی اوراسے 135سیٹیں حاصل ہوئی تھیں جبکہ بی جے پی صرف 66 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی لیکن آج 4دن گزر جانے کے بعد بھی ریاست میں وزیر اعلیٰ کون ہوگا اس پر اتفاق نہیں ہوپایا ہے جبکہ لیڈروں کی ملاقاتوں کے ساتھ پارٹی میں غورو خوض جاری ہے ۔اس تناظر میں کرناٹک کانگریس کے اہم لیڈر ڈی کے شیو کمار اور سابق وزیر اعلیٰ سدا رمیا نے آج دہلی میں پارٹی صدر کھڑگے سے ملاقات کی ۔دہلی میں میٹنگ کے دوران راہل گاندھی اور کے سی وینو گوپال بھی موجود رہے جبکہسابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کل سے دہلی میں ہیں۔بتادیں کہ ڈی کے شیو کمار (کرناٹک کانگریس کے صدر) وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے سب سے مضبوط دعوے دار سمجھے جارہے ہیں ، ان کے پاس زیادہ ایل ایل ایز کی حمایت ہے ۔ایسے میں دیکھنا ضروری ہوگا کہ اب کس لیڈر کے نام پر مہر لگتی ہے اور مرکزی کانگریس قیادت ایسا کون سا فارمولہ پیش کرتی کہ جس سے ریاست میں بہتر طریقہ سے انتظام چلایا جاسکے ۔دہلی میں ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیو کمار نے کہا کہ وہ کوئی عہدہ حاصل کرنے کیلئے نہ تو پارٹی کو دھوکہ دیں گے اور نہ ہی پارٹی کو بلیک میل کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’اب ہمارا اگلا ہدف (لوک سبھا انتخابات میں) 20 سیٹیں جیتنا ہے۔ ہماری پارٹی متحد ہے، اور میں کسی کو تقسیم نہیں کرنا چاہتا۔ میں ایک ذمہ دار آدمی ہوں۔ میں نہ تو پارٹی کو دھوکہ دوں گا اور نہ ہی بلیک میل کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج وہ جہاں بھی ہیں، کانگریس کی وجہ سے ہیں۔ ڈی کے نے کہا،’’یہ پارٹی (کانگریس) ہم نے بنائی ہے، یہ گھر ہم نے بنایا ہے۔ میں اس کا حصہ ہوں، ایک ماں اپنے بچے کو سب کچھ دے گی۔حالانکہ کھڑگے سے ملاقات کے بعد شیو کمار نے صحافیوں سے بات نہیں کی۔ اس سے قبل، اتوار کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں، ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں پارٹی صدر کھرگے کو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کا نام منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا۔ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق آج دیر رات تک میٹنگ چلنے کا امکان ہے اور اس سلسلے میں محترمہ سونیا گاندھی سے بھی فون پر بات کی جاسکتی ہے تبھی کوئی فیصلہ لیا جاسکتا ہے ۔ لیکن شیو کمار اور سدرمیا کی الگ الگ ملاقاتوں سے نئے قیاسوں کو تقویت مل رہی ہے اور تازہ شیو کمار کے بیانوںسے پارٹی لیڈروںمیں اختلافات واضح ہونے لگے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ڈی کے شیو کمار کا کہنا ہے کہ اگر ان کو وزیر اعلیٰ نہیں بنایا جاتا تو وہ عام ایم ایل اے کے طور پر کام کرنے تیار ہیں لیکن سدا رمیا کو وزیر اعلیٰ بنانے پر وہ اتفاق نہیں رکھتے۔قابل ذکر ہے کہ مسٹر شیوکمار اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے سب سے آگے ہیں۔ دونوں کی نظریں 2023 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے وزارت کے عہدہ پرٹکی ہوئی ہیں۔زیادہ ممبران اسمبلی کی حمایت ہونے کے دعوے کے ساتھ ڈی کے شیو کمار عہدہ کے لئے آگے آرہے ہیں۔ بتادیں کہ جب آج صحافیوں نے سدا رمیا سے بات کرنی چاہی تو وہ کچھ نہیں بولے، خاموش رہے۔جبکہ شیو کمار آج خصوصی طیارہ سے دہلی پہنچے ہیں ۔ اس سے قبل انہوںنے اپنی صحت کی وجوہات کا حوالہ دے کر دہلی آنے کا ارادہ منسوخ کردیا تھا جس سے قیاس آرائیوں کو ہوا ملی کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔اطلاعات کے مطابق کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس کی نگرانی کے لیے کرناٹک بھیجے گئے پارٹی کے مرکزی آبزر ورنے اپنی رپورٹ پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کو سونپ دی ہے ۔کھڑگے ، کرناٹک کی ذات پات کی سیاست کی باریکیوں کو جانتے ہوئے اگلے وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کرنے کے لیے گیند محترمہ گاندھی اور پارٹی لیڈر راہل گاندھی کے پالے میں ڈال سکتے ہیں۔غورطلب ہے کہ کانگریس 224 رکنی کرناٹک اسمبلی میں زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے ۔ پارٹی نے 135 سیٹیں جیت کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو باہر کا راستہ دکھایا۔ بی جے پی، جو گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 104 سیٹوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔












