پالی کیلے، (یو این آئی) سری لنکا کے خلاف سپر 8 کے آخری میچ میں حریف ٹیم کو 148 رنز سے کم اسکور پر محدود کرنے میں ناکامی کے بعد پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے باہر ہو گیا ہے۔ اس شکست نے پاکستان کی عالمی کرکٹ میں تنزلی کی ایک ایسی داستان رقم کر دی ہے جس کے تحت ٹیم مسلسل چوتھے بڑے آئی سی سی ٹورنامنٹ (2023 ون ڈے ورلڈ کپ، 2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، 2025 چیمپئنز ٹرافی اور اب 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ) کے سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔پاکستان کے سابق تیزگیندباز شعیب اختر نے اس مسلسل ناکامی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی ٹیم اور ان کے مشیروں کونشانہ بنایا ۔ ایک نجی ٹی وی شو ‘ٹیپ میڈ پر گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا:”میرا محسن نقوی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے، وہ ایک اچھے انسان ہیں اور پی سی بی کی تاریخ کے طاقتور ترین چیئرمینوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے پاس اثر و رسوخ، وسائل اور اختیار سب کچھ ہے، لیکن اگر وہ ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ نہیں بنا سکتے اور ٹیم مسلسل چار ٹورنامنٹس سے باہر ہو رہی ہے، تو بورڈ کے اندر کچھ بہت زیادہ غلط ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ کرکٹ کے ماہر نہیں ہو سکتے اور وہ خلوصِ دل سے ٹیم کی بہتری چاہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ درست لوگوں سے مشورہ لے رہے ہیں؟ مجھے ایسا نہیں لگتا۔”شعیب اختر نے مزید کہا کہ محسن نقوی کے ارد گرد موجود لوگ انہیں اور پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس مرحلے پر نقوی پاکستان کرکٹ کے لیے آخری امید ہیں، لیکن انہیں حالات بدلنے کے لیے ایک درست سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہے۔ٹورنامنٹ میں ٹیم کی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان نے پہلے تین میچوں میں اوپنر فخر زمان کو موقع نہیں دیا، پھر انہیں نمیبیا اور انگلینڈ کے خلاف نمبر پانچ پر کھلایا گیا۔ تاہم، ہفتے کے روز سری لنکا کے خلاف جب انہیں اوپننگ کے لیے بھیجا گیا تو انہوں نے صرف 42 گیندوں پر 84 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی اور صاحبزادہ فرحان کے ساتھ 176 رنز کی ریکارڈ شراکت داری قائم کی۔ اس میچ کے لیے ٹیم میں تین تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں، لیکن ناقص گیند بازی نے ایک بار پھر پاکستان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔












