نئی دہلی، اترپردیش کے محمد عارف اور ان سے جدا ہوئے سارس پرندے کے قصے ایک بار پھر لوگوں کی زبان پر ہیں۔لیکن اس بار بحث یہ چھڑی ہوئی ہے کہ کیا سارس جو کہ کانپور کے چڑیاگھر میں ایک پنجرے میں قید ہے،کو محمد عارف سے ملا دینا چاہئے ۔اس لئے کہ جب عارف اپنے بچھڑے دوست سے ملنے چڑیا گھر پہنچے تو سارس ان کو دیکھ کر بیتاب ہوگیا اور پنجرے میں ہی اچھلنے لگا گویاوہ انکو دیکھ کو وہ خودپر قابو نا رکھ پاراہا ہو اور بے انتہا خوش ہو اور باہر نکلنے کے لئے اشارہ کررہا ہو۔ویڈیوز سے واضح ہورہاہے کہ اس دوران عارف کے ساتھ چڑھا گھر کا نگرا ں عملہ بھی موجود تھا جو کچھ دیرٹھہرنے کے بعد عارف کے ساتھ وہاں سے چلے گئے ۔عارف کی سارس سے اس وقت کی جدائی کے لمحات قابل دید تھے جو لوگوں کو جذباتی کرررہے تھے جہاں وہ اپنے تاثرات کو روک نہیں پارہے تھے۔ کیمرے میں قید منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے عارف سارس کو جاتے ہوئے اس سے ہاتھ ہلا رہا تھا اور سارس عارف کو جاتے ہوئے بے بسی کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔دنیا کے لوگوں کو اس منظر نے ہلا کر رکھ دیا ہو لیکن ان سخت گیر عناصر اور نفرت کے پجاریوں کے دل ہر گز نہیں پسیج سکے ۔جنہوں نے سارس کو عارف کے ہاتھوں سے چھین کر پلک جھپکتے میںاس کی آنکھوںسے اوجھل کر دیا تھا ۔الغرض تازہ بحث یہ چھڑی ہوئی ہے کہ کیا سارس کو عارف سے ملا دینا چاہئے؟۔
یہ فیصلہ تو اتر پردیش حکومت ہی کرے گی کہ وہ کیا قدم اٹھا تی ہے ،لیکن اس میںدو رائے نہیں کہ ایک پرندے کو محمد عارف سے اپنی دوستی کی بڑی قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔پرندے کی بیتابی کو دیکھ کرلوگ اب اس کی رہائی کی پر زور مانگ کرنے لگے اور ان سے اب رہا نہیں جارہا ۔پوچھا یہ بھی جارہا ہے کہ کیا عارف کی غلطی یہی تھی کہ اس نے ایک زخمی سارس کا علاج کیا تھا اوراس کی کھانے پینے کی دیکھ بھال کرتا تھا۔کہ وہ اب ایک بار پھر عارف کے ساتھ رہنے کے لئے تڑپ رہا ہے ۔بہر حال ناقدین اس جدائی کو شروع سے ہی سیاسی چشمے سے دیکھ رہے ہیںاور اسے کچھ سخت گیر سیاسی حکمرانوں کی ایما پر کیا گیا فیصلہ بتا رہے رہے ہیں۔ جس کے آگے دوستی تڑپ رہی ہے ،اوربے بسی کے ساتھ دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ یقیناً انسا ن کے ٹوٹتے رشتوں کے قصے تو ضرور سنے ہونگے، لیکن پرندے کے درمیان محبت کے رشتے ختم کرنے کی مثال شاید اس سے قبل کہیں دیکھنے نہ ملی ہو۔ جس پر ناقدین اپنا دل پکڑ کر رہ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب انسان کسی کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا تو ایک کمزور دل پرندہ اپنے دل پر کیسے قابو رکھ سکتا ہے ؟۔شاید یہ اس کے ساتھ سرسر ظلم ہے۔اس لئے گرفتار محبت پرندے کے بیمار پڑ جانے کا خدشہ اب ستانے لگا ہے ۔بہر حال ہماری استدعا ہے کہ اس معاملے میں تو کم از کم روا داری،محبت اورنرم دلی کا مظاہر کرلیا جائے۔












