حج کا موسم چل رہا ہے۔ دنیا کے ہر سمت سے حجاج بیت اللہ پہنچ رہے ہیں۔مملکت سعودی عرب اللہ کے مہمانوں کا شایان شان استقبال بھی کررہا ہے۔ حج اسلام کی ایک بڑی نشانی ہے۔ اللہ تعالی نے حج کو بہت ساری حکمتوں کے پیش نظر اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے۔حج کی مناسبت سے حاجی بہت سارے امور کو انجام دیتا ہے۔بیت اللہ کا طواف، صفا ومروہ کی سعی، منی کا قیام، مزدلفہ کی شب گزاری، اور عرفہ کے اوراد وظائف کے علاوہ حجاج کرام سفرکے اخراجات، وقت کی قربانی، جسمانی تھکاوٹ کو برداشت کرنے کے علاوہ بال بچوں اور خویش واقارب سے مہینوں دور رہتا ہے۔ حج کے ان امور پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ در اصل اللہ تعالی ہر جگہ اپنی وحدانیت کا اعلان کرنا چاہتا ہے۔ اپنے بندوں کے اذہان وقلوب میں توحید کی حقیقت کو راسخ کرنا چاہتا ہے۔ توحیدخالص سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو اس کی سچائی سے روشناس کرانا چاہتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ایسے مسلمان ہیں جن کو توحید کا سبق یاد نہیں،مشرکانہ امور میں ملوث ہوتے ہیں۔ ڈھٹائی سے غیر اللہ کی عبادت کرتے اوراسی کو اسلام سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایک سچا مسلمان کسی بھی طور اللہ کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک نہیں کرسکتا۔
حج کے ایک ایک رکن سے اللہ کی وحدانیت کا پتہ چلتا ہے۔ بالخصوص قرآن کریم کی وہ آیتیں جو حج کے وجوب کو ثابت کرتی ہیں، ان میں اس بات کا واضح اشارہ موجود ہے کہ حج کی فرضیت توحید خالص کے اعلان کے لئے ہوئی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:’’اور حج اور عمرے کو اللہ کے لئے پورا کرو، ہاں اگرتم روک لئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو، اسے کرڈالو اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے البتہ تم میں سے جو بیمار ہو‘‘۔( البقرۃ: ۱۹۶) اس آیت کے پہلے ٹکرے سے معلوم ہوتا ہے حج اور عمرہ صرف اور صرف اللہ کے لئے کیا جائے گا، غیر اللہ کا ان عبادات میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
دوسری جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:’’ جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم(علیہ السلام) ہے، اس میں جو آجائے امن والا ہوجاتا ہے اللہ تعالی نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پاسکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کردیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالی( اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے‘‘۔( آل عمران: ۹۷) اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حج کی فرضیت کا مقصد اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کا حصول ہے۔اگر کوئی ریاء ونمود کے لئے حج کرتا ہے تو اس کا حج قبول نہیں ہوتا۔
تیسری جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:’’اور جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کردی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف،قیام،رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا‘‘۔( الحج: ۲۶) اس آیت میں اللہ تعالی نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر اس کے ایما پر ہوئی تاکہ وہاں اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت میں کسی غیر کو شریک نہ کیا جائے۔گویا جب حجاج اس گھر کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو اللہ کے اس عہد کو دہراتے ہیں کہ وہ توحید پر قائم رہیں گے اور اپنی زندگی میں ہرگز شرک کی نجاست کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔چوتھی جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:’’ یہ ہے، اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لیے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ او رتمہارے لیے چوپائے جانور حلال کردیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کئے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔ سنو، اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور کی جگہ پھینک دے گی‘‘۔ ( الحج: ۳۰؍۳۱) ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حج توحید کے اقرار اور شرک سے بیزاری کے اعلان کا نام ہے۔ اور مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔حجاج کرام جب میقات سے گزرتے اور اپنا عام لباس تبدیل کرکے احرام پہنتے ہیں تو اس میں بھی اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ اب ہم ظاہری اور باطنی دونوں اعتبارسے اللہ تعالی کی تابعداری قبول کرتے ہیں۔ جس طرح ہم نے اپنا لباس تبدیل کرلیا ہے اسی طرح ہم اللہ تعالی کی وحدانیت کے آگے اپنا سرخم کرتے ہیں۔ احرام باندھنے کے بعد جب حجاج تلبیہ پکارتے ہیں تو صراحت کے ساتھ توحید کا اعلان ہوتا ہے۔ تلبیہ کا ایک ایک کلمہ توحید کے اقرار اور اس کے اظہار پر مشتمل ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ان الفاظ میں تھا:’’ حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں میں، تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں، تمام حمد وتعریف تیرے لئے ہی ہے اور تمام نعمتیں تیری طرف سے ہی ہیں۔ بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱۵۴۹)اس تلبیہ میں کھلے طور پر شرک کی تردید کی گئی ہے۔اور بندہ اس تلبیہ کے ذریعہ اس حقیقت کا اعتراف کامل کرتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ اس اعتراف کے باوجود اگر کوئی دکھ درد یا خوشی اور مسرت کے موقع پر کسی مخلوق کو اپنا پشت پناہ یا مددگار سمجھتا ہے تو بھلا اس سے بڑا مجرم کون ہوسکتا ہے؟ مشرکین مکہ دوران حج ہر قسم کے شرک کا انکار کرتے تھے لیکن کچھ شرکاء کا استثناء کرتے تھے۔ ان کے اس استثناء کو مردور قرار دیا گیا ہے اور صراحت کے ساتھ ہر قسم کے شرک سے منع کیا گیا ہے۔
تمام اعمال حج سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حج در اصل توحید کے اعتراف اور اظہار کا دوسرا نام ہے۔ اور جب تک حج سے یہ فائدہ حاصل نہ ہو اور بندہ دوران حج وحدانیت کی لذت کو محسوس نہ کرے اس وقت تک وہ اس عظیم عبادت کی روح سے محروم رہتا ہے۔ حاجی جب کعبہ کا طواف کرتا ہے تو اپنے اس عزم کو زندہ کرتا ہے کہ ہمیشہ ہم اسی گھر والے کی عبادت کرتے رہیں گے۔ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے جب حجر اسود کو بوسہ نہیں دے پاتا ہے تو اس کی طرف اشارہ کرتا اور تکبیر کہتا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اللہ سے بڑا کوئی نہیں۔ اور جو سب سے بڑا ہو وہی عبادت کے لائق بھی ہوتا ہے۔طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پاس سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کی تلاوت کے ساتھ(ان دونوں سورتوں میں کفر وشرک سے براء ت اور توحید کا اقرار ہے) دورکعت نفل پڑھنا بھی عبودیت وبندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ عبادت کے لائق صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ اسی وجہ سے طواف کرتے ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ تو پتھر ہے ، نفع اور نقصان تیرے ہاتھ میں نہیں، اس کے باوجود میں صرف اپنے نبی کی اتباع میں تجھے بوسہ دیتا ہوں۔
صفا مروہ کی سعی اور اس کے آغاز سے قبل پڑھی جانے والی مسنون دعا توحید کی یاد دہانی کراتی ہے۔ حج میں طواف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے قبل کوہ صفا پرچڑھتے اور یہ دعا پڑھتے:’’ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے،( وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے( اس کا کوئی شریک نہیں) اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی سب لشکروں کو شکست دی‘‘۔کوہ صفا پر پڑھی جانے والی یہ مکمل دعا توحید پر مشتمل ہے۔ موت وحیات اور عبادت کا مالک اللہ تعالی کو قرار دیا گیا ہے۔ کسی غیر اللہ کو عبادت کے لائق نہیں سمجھا گیا ہے۔ درگاہوں او رمزاروں کی چاکری کرنے والوں کواس دعا سے عبرت حاصل کرنی چاہئے، اور اللہ کے لئے شرک سے تائب ہوجانا چاہئے۔
عرفہ کا قیام اور قیام عرفہ میں پڑھی جانے والی دعا’’اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘(جامع ترمذی، حدیث نمبر: ۳۵۸۵) ۔ یہ پوری دعا اللہ کی وحدانیت کو بیان کرتی ہے۔ عرفہ میں ظہر اور عصر کی نماز کو پڑھنا عبودیت کا اعتراف ہے۔ حج کے دنوں میں مختلف مشاعر مقدسہ کا چکڑ لگانا۔ کبھی عرفہ،کبھی مزدلفہ ،کبھی منی تو کبھی بیت اللہ ان ساری چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ اللہ کے احکام کی تابعداری کرتا ہے، اور اس کے حکم کے سامنے اپنی عاجزی اور انکساری کو ظاہر کرتا ہے۔ حج کے تمام دنوں میں حجاج کرام کی زبان دعاؤں سے تر رہتی ہے۔ چلتے پھرتے وہ ذکر واذکار کرتا رہتا ہے۔ اور تمام تر دعائیں توحید کے اقرار واظہار پر محیط ہوتی ہیں۔چنانچہ ہر حاجی کو توحید دوران حج توحید کا ادراک کرنا چاہئے۔ اور پوری زندگی اسی توحید پر قائم رہنا چاہئے۔ حج کی ادائیگی کے باوجود اگر ہماری زندگی میں شرک باقی رہے تو یہ کافی افسوسناک معاملہ ہے، جبکہ حج سے شرک کی بیخ کنی ہوتی ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو حج مقبول کی سعادت نصیب فرمائے۔
آصف تنویر تیمی












