لکھنو 21 مارچ 2024 راشٹریہ سماجک کار یہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد افاق نے کہا کہحکومت کو وقف کی جائیداد انجمنوں کے ذمہ داروں سے اپنے ہاتھ میں لے لینی چاہیے ۔ عصمت دری کی جوباتیں انجمنوں کے ذمہ داران کے خلاف سامنے آرہی ہے وہ بہت ہی شرمندگی کی بات ہے انہوں نے کہا کہ وقف کی جائیداد میں بدعنوان اور زہریلی جیسے غنڈے بدمعاش کو بٹھائے جاتے ہیں اور اپنے اپنے طریقہ سے جائیدادوں پر قابض ہونے کے بعد موٹی رقم لے کر رسیدیں ٹرانسفر کرنا ان کا جرائم پیشہ ہے ۔ آگے محمد آفاق نے کہا کہ جب ان بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے تو جھولا چھاپ اور سماجک کے نام پر چلنے والا جھوٹے تنظیموں اور پارٹیوں کے لوگ سامنے ا ٓکر ان ذمہ داروں کو پاک صاف بتانے کا کام کرتے ہیں کیونکہ لوٹ کے مال میں کچھ حصہ ان جھوٹے تنظیموں اور پارٹیوں کو دے دیا جاتا ہے اسی لیے یہ لوگ ان کے پرچارو پرسار کرنے لگتے ہیں ۔محمد افاق نے ایسے تنظیموں اور پارٹیوں کے خلاف غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہاں تھے یہ لوگ جب اکبر نگر میں لوگوں کے مکان توڑ کر ان کو بے گھر کیا گیا حالانکہ وقف کی جائیداد اتنی ہے کہ شیعہ سنی اگر مشتر کہ طور پر اپنی جائیداد کر لیں تو کئی نگر بن سکتے ہیں اور غریبوں کے پاس بھی مکانات ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہ ایسا کر سکتے ہیں اور نہ کرنا چاہیں گے اس لیے کہ وقف کی جائیداد انہیں کو دینا چاہتے ہیں جو انہیں موٹی رقم دے سکے آخر میں محمد آفاق نے کہا کہ میں اسی لیے چاہتا ہوں کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت ان وقف خوروں سے جو کسی مصرف کے نہیں ہیں ایسے لوگوں کو ان کی ذمہ داری سے ان کو باہر کر دے اور حکومت اپنے قبضے میں لے کر غریبوں کو دے دے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو ان وقف خوروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی دولت کی جانچ ای ڈی سی بی ائی کے ذریعہ کروانی چاہیے تاکہ معلوم ہو ان کے پاس کتنی جائیداد پہلے تھی اور اب کتنی ہے ۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ مجھے راہزنوں سے غلا نہیں تیری رہبری سے سوال ہے۔












