لکھنؤ : 21 مارچ 2024 کو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے لوک سبھا انتخابات 2024 کے امیدواروں کا اعلان کیا اور دوسری فہرست لکھنؤ میں ریاستی دفتر میں جاری کی۔ دوسری فہرست میں محمد احمد کو لکھنؤ لوک سبھا 35 سے امیدوار بنایا گیا ہے جبکہ محمد عابد کو میرٹھ ہاپوڑ لوک سبھا سے امیدوار بنایا گیا ہے۔اس موقع پر مہمان خصوصی جناب شفیع، قومی نائب صدر/انچارج اترپردیش نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کا تجزیہ سے صاف ظاہر کرتا ہے کہ حکمران جماعتیں بشمول حزب اختلاف کی اہم جماعتیں الیکٹورل بانڈز کے ذریعے پیسہ لگا رہی ہیں، سڑکوں، کان کنی اور انفراسٹرکچر سے متعلق بڑی کمپنیاں عطیات میں شامل ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اگرچہ عطیات کی رقم مل رہی ہے، لیکن اصل قیمت کتنی ہے۔ جس کی ادائیگی دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کے ذریعہ کی جائے گی۔جس کے وسائل تمام حکمران پارٹیوں نے عطیات کے عوض ان کمپنیوں کے حوالے کیے ہیں۔سرمایہ دار اور خاندان پر مبنی جماعتیں دلتوں، قبائلیوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی جنگ نہیں لڑ سکتیں جو اپنے پانی، جنگلات، زمین وغیرہ کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سماجی انصاف کی اس جنگ کو جیتنے کے لیے ایس۔ڈی۔پی ۔ آئی کے علاوہ ہندوستانی سیاست میں کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ . یہ بات اتر پردیش کے ریاستی نائب صدر معید ہاشمی نے صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔2014 میں جب سے بی جے پی کی قیادت والی نریندر مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے، مسلم کمیونٹی میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ عدم تحفظ پہلے نہیں تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں موب لنچنگ، گھر واپسی، لو جہاد، مندر مسجد تنازعہ، گائے کے محافظوں کے ہاتھوں قتل، مشتعل ہجومی تشدد، فرقہ وارانہ کشیدگی، ہندو راشٹر کا اعلان وغیرہ یہ تمام چیزیں مسلم کمیونٹی کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ تمام سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ لینا چاہتی ہیں لیکن ان کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتیں۔ صرف ایس۔ڈی۔پی۔آئی کا سماجی جمہوریت کا نظریہ ہی دلتوں، قبائلیوں، پسماندہ طبقات کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو مناسب نمائندگی یقینی بنا سکتا ہے۔
اس موقع پر ارشاد احمد لکھنؤ ضلع صدر، عبدالقادر ضلع جنرل سکریٹری، ریاض الدین ضلع سکریٹری وغیرہ عہدیدار اور کارکنان موجود تھے۔












