• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 14, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

سماج کا المیہ: جھاڑی، کوڑے میں دم توڑتے بچے

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 9, 2023
0 0
A A
سماج کا المیہ: جھاڑی، کوڑے میں دم توڑتے بچے
Share on FacebookShare on Twitter

بھارت میں 10سے 15 فیصد یعنی ہر چھ میں سے ایک شادی شدہ جوڑا بے اولاد ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطابق ایسے کپل کی تعداد 30 ملین سے زیادہ ہے۔ ان میں سے قریب 27.5 ملین بانجھ پن کے شکار ہیں۔ صرف تین ملین نے ڈاکٹر سے علاج کے لئے رجوع کیا۔ ان میں سے ایک فیصد حمل ٹھہرنے کے لئے سنجیدگی سے علاج کراتے ہیں۔ 55 فیصد خواتین اور 75 فیصد مرد اس مسئلہ سے نبٹنے کی معلومات نہیں رکھتے۔ سی کے برلا ہاسپٹل کی ماہر امراض نسواں ڈاکٹر ارونا کالرا کا کہنا ہے کہ بانجھ پن کے لئے زیادہ تر عورت کو ذمہ دار مانا جاتا ہے جبکہ 30 سے 40 فیصد مرد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ اندرا آئی وی ایف سینٹر جالندھر کی نسوانی امراض کی ماہر ڈاکٹر من جوت کور کا کہنا ہے کہ 45 فیصد خواتین حاملہ ہونے کے لئے دباؤمیں رہتی ہیں۔ وہیں 64 فیصد مرد باپ بننے کے خوش مند ہوتے ہیں۔ انہوں نے حمل نہ ٹھہرنے کے لئے بڑی عمر میں شادی، شہری بھاگ دوڑ، رات کو دیر تک جاگنا، جوانی کی غلطیاں، کھان پان اور دیگر وجوہات کو ذمہ دار بتایا۔
بچہ کی خواہش میں لوگ کہاں کہاں نہیں جاتے۔ کیا کچھ نہیں کرتے، کسی دوسرے کے بچے کی بلی تک چڑھا دیتے ہیں۔ حالانکہ اورپھین چلڈرن ان انڈیا کے مطابق بھارت میں بغیر باپ یا ماں باپ کے ذریعہ غریبی یا دوسری وجوہات کے بے سہارا چھوڑے گئے بچوں کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہے۔ گود لینے کے رجحان میں آئی کمی کی وجہ سے انہیں کوئی گود لینے والا نہیں ہے۔ غیر مہذب سماج میں لڑکیوں کو مارنے یا دفن کر دینے کے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن رحم مادر میں یا پیدائش کے بعد لڑکیوں کو مار دینے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ کہیں نومولود کے منھ میں تمباکو رکھ کر مار دیا جاتا ہے تو کہیں پانی میں ڈوبا کر۔ السلام نے نہ صرف معاشرے کو اس بیماری سے نجات دلائی بلکہ لڑکیوں کو احترام اور برابری کا حق دیا۔ پیغمبرِ اسلام نے بچیوں کی اچھی تربیت، پرورش کر شادی کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے۔
بچوں کو پیدائش کے بعد کوڑے دان یا جھاڑی میں پھینک دینا اور زیادہ تکلیف دہ ہے۔ پھینکے گئے معصوموں میں 70 فیصد لڑکیاں ہوتی ہیں۔ اس سے جہاں سماج کی بے راہ روی ظاہر ہوتی ہے وہیں معاشرے کا غیر انسانی رویہ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو جنین قتل (Foeticides) ایک سال سے کم عمر کے بچے کا قتل (Infanticide) دستبرداری یا جنم کے بعد بچے کو چھوڑ دینے (Abandonment) پر اپنی رپورٹ دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش، مہاراشٹر میں سب سے زیادہ بچے کوڑے دان میں ملے۔
ریاست 2020 2021
مدھیہ پردیش 277 224
مہاراشٹر 217 240
گجرات 146 149
اترپردیش 163 127
کرناٹک 171 113
کم یا زیادہ کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں یہ مسئلہ نہ ہو۔ صرف بھارت ہی نہیں پوری دنیا اس سے جوجھ رہی ہے۔ دی اکانومسٹ میگزین کے مطابق 18 ویں صدی میں پھینکے گئے بچوں کو یورپ میں بچانے کی شروعات کی گئی تھی۔ اسے بے بی ہیچیز کا نام دیا گیا۔ یہ ایک پالنا ہوتا ہے جو ماں باپ بچے کو پال نہیں سکتے وہ یہاں چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ کسی اسپتال سے جڑا ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی بچے کو اس پالنے میں چھوڑتا ہے الارم بج جاتا ہے۔ ڈاکٹر چھوڑے گئے بچے کی جانچ کرتا ہے۔ ضرورت کے مطابق اسے طبی امداد دی جاتی ہے۔
بھارت میں اس کی شروعات 1991 میں جے للیتا نے تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ بننے پر کریڈل بے بی اسکیم کے تحت کی تھی۔ اس کا مقصد رحم مادر میں بچے کا قتل اور ابورشن کو کم کرنا تھا۔ گزشتہ پچیس سال میں پانچ ہزار سے زیادہ بچوں کو تمل ناڈو میں بچایا گیا ہے۔ مرکزی وزارت برائے وویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کی جانب سے ملک کے ہر ضلع میں کریڈل بے بی رسیپشن سینٹر کھولا گیا ہے۔ اس کی پوری ذمہ داری مخصوص اڈاپشن ایجنسی پر ہوتی ہے۔ یہ ایجنسی سرکاری یا این جی او کی ہو سکتی ہے۔ یہاں سے قانونی چارہ جوئی کے بعد بچے کو گود لیا جا سکتا ہے۔ راجستھان سمیت پورے ملک میں پھینکے گئے نومولود بچوں کی زندگی بچانے کے لئے پالنا مہم چلانے والے یوگ گرو دیویندر اگروال کا کہنا ہے کہ کچرے میں پائے جانے والے 99 فیصد بچے زندہ نہیں رہتے انہیں بچانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ کئی طرح کی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے پریاگ راج کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 2 سالوں میں وہاں کچرے کے ڈھیر میں 29 معصوم نومولود بچے پائے گئے۔ ان میں سے 21 بیٹیاں تھیں۔ سال 2020 اور 2021 میں بھی تقریباً اتنی ہی تعداد میں بے گناہ معصوم کچرے کے ڈھیر میں پائے گئے۔ ان میں سے صرف ایک یا دو کو ہی بچایا جا سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ نمبر ہے جو سرکاری ریکارڈ میں درج ہے، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اتر پردیش کے دیگر اضلاع میں، راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور پنجاب ہی نہیں، تقریباً پورے ملک میں کم و بیش یہی صورتحال ہے۔
سورت کی مثال دیتے ہوئے دیویندر اگروال نے بتایا کہ جو بچے جھولے میں پائے جاتے ہیں انہیں زندگی مل جاتی ہے۔ یہاں 5 سالوں میں 120 نوزائیدہ بچے کچرے کے ڈھیر سے ملے۔ ان میں سے 99 فیصد کو بچایا نہیں جا سکا۔ جبکہ پالنے یا بے بی ہیچیز میں چھوڑے گئے بچے بچا لئے جاتے ہیں۔ ملک کی کئی ریاستوں میں کریڈل بے بی اسکیم چلائی جارہی ہے۔ راجستھان کے راجسمند ضلع میں گزشتہ 5 سالوں میں 16 معصوم نومولود بچوں کو پرورش کی جگہ پر چھوڑا گیا۔ یہ تمام بچے محفوظ ہیں۔ جبکہ راجسمند میں ہی 6 بچوں کو جنگلوں، جھاڑیوں یا دیگر غیر محفوظ مقامات پر پھینک دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک کو بھی نہیں بچایا جا سکا۔
بچوں کو چھوڑنے کا رجحان نہ صرف معاشی طور پر پسماندہ ریاستوں میں بلکہ ترقی یافتہ ریاستوں میں بھی یکساں ہے۔ 2022 میں ہائی ٹیک شہر حیدرآباد میں ایسے 92 بچے پائے گئے جن میں سے 52 لڑکیاں تھیں۔ تمام 92 بچوں میں سے 66 کی عمریں 0 سے 2 سال کے درمیان تھیں۔ تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر میں نوزائیدہ بچوں کو پھینکنے کے ایسے ہی واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ ان ریاستوں میں کریڈل بے بی اسکیم بھی اپنائی گئی ہے۔
پالنے میں پائے جانے والے بچوں کو فوسٹر ہومز بھیج دیا جاتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ 12 سال کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بچوں کو گود لینے میں کمی آئی ہے۔ سینٹرل ایڈاپشن ریسورس اتھارٹی (CARA) کے مطابق 21 – 2022 میں 2,991 بچوں کو گود لیا گیا۔ ان میں سے 1293 لڑکے اور 1698 لڑکیاں ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ 414 بچوں کو غیر ملکی جوڑوں نے گود لیا۔ بچے تین سے چھ ماہ تک فوسٹر ہوم میں رہتے ہیں جہاں انہیں گود لیا جاتا ہے۔ یہ عمل سینٹرل ایڈاپشن ریسورس اتھارٹی (CARA) مکمل کرتا ہے۔
اگر اس وقت کے اندر کسی بچے کو گود نہیں لیا جاتا تو اسے فوسٹر ہوم بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ چھ سال کی عمر تک رہتا ہے۔ ان کریچوں میں بچوں کی دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ چھ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو لڑکوں یا لڑکیوں کے گھر میں رکھا جاتا ہے جب تک کہ وہ 18 سال کی عمر مکمل نہ کر لیں۔ انٹیگریٹڈ چائلڈ پروٹیکٹڈ اسکیم (ICPS) جسے اب وتسالیہ یوجنا کہا جاتا ہے، اس کے تحت بچوں کو ہنر مند بنانے کے لیے تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے۔ بچے بالغ ہونے پر ان گھروں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
ان تمام تر انتظامات کے باوجود گریٹر نوئیڈا کے نالج پارک سے ایک دل سوز واقعہ سامنے آیا۔ یہاں 20 دسمبر 22 کو جھاڑیوں میں پھینکی گئی بچی ملی۔ جو چار چھ گھنٹے پہلے ہی پیدا ہوئی تھی۔ کنپکپاتی ٹھنڈ میں وہ ایک پتلے کمبل میں لپٹی ہوئی تھی۔ بچی کو کتے نوچ رہے تھے اور وہ بھوک سے بلبلا رہی تھی۔ پھینکنے سے اس کا بایاں پیر ٹوٹ گیا تھا۔ ہندی روزنامہ بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق نالج پارک تھانہ کے ایس ایچ او ونود کمار صبح 8.30 بجے بچی کو اپنے گھر لے کر گئے۔ وہاں ان کی اہلیہ نے اسے اپنا دودھ پلایا، گرم کپڑوں میں لپیٹا پھر اسپتال پہنچایا۔ معصوم کو ہائپو تھرمیا ہو گیا تھا۔ اسے مشین سے گرمی دی گئی تب اس کی جان بچی۔ ایسے ہمدرد افسران قابل ستائش ہیں لیکن یہ واقعہ مہذب سماج کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے راہ روی کا شکار سماج کب ہمت دکھائے گا کہ چھوڑے گئے معصوم کوڑے دان میں دم توڑنے کو مجبور نہ ہوں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    مارچ 13, 2026
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    مارچ 13, 2026
    نیتن یاہو اپنے منطقی انجام کے بہت نزدیک پہنچ گئے

    نیتن یاہو اپنے منطقی انجام کے بہت نزدیک پہنچ گئے

    مارچ 13, 2026
    ایران کی ایٹمی صلاحیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے

    ایران کی ایٹمی صلاحیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے

    مارچ 13, 2026
    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    مارچ 13, 2026
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    مارچ 13, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist