سید پرویز قیصر
افغانستان کو تروبا میں کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں نو وکٹ سے شکست دیکر جنوبی افریقہ نے پہلی مرتبہ ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ کے فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ افغانستان کے سبھی کھلاڑی پہلے بلے بازی کرتے ہوئے11.5 اوور میں56 رن بناکر آوٹ ہوگئے تھے۔ جنوبی افریقہ نے8.5 اوور میں ایک وکٹ پر 60 رن بنائے اور سیمی فائنل میں67 بالیں رہتے نو وکٹ سے کامیابی حاصل کی۔
افغانستان کی اننگ میں سب سے بڑا اسکور ٖفاضل رنوں کا رہا۔ افغانستان کی اننگ میں13 فاضل رن تھے جو چھ بائی، چھ وائیڈ بال اور ایک لیگ بائی کے زریعے بنے تھے۔عالمی کپ میں یہ دوسرا موقع تھا جب ایک اننگ میں فاضل رنوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف پردڈینس میں30 اپریل2010 کو ہوئے میچ میں آئیر لینڈ کی اننگ میں فاضل رنوں سے زیادہ کوئی اور کھلاڑی رن نہیں بنا سکا تھا۔ اس میچ میں آئیر لینڈ کے سبھی کھلاڑی16.4 اوور میں68 رن بناکر آوٹ ہوئے تھے جس میں سب سے زیادہ رن فاضل تھے۔ اس اننگ میں19 فاضل رن تھے جو 8لیگ بائی اور گیارہ وائیڈ بالوں کی وجہ سے بنے تھے۔ جنوبی افریقہ نے67 بالیں رہتے نووکٹ سے جیت اپنے نام کی جوٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی کرکٹ میں اسکی بالوں کے حساب سے سب سے بڑی جیت ہے۔ اس سے پہلے اس قسم کے کرکٹ میں اسکی س بالوں کے اعتبار سے ب سے بڑی51 بالیں پہلے حاصل کی گئی تھی۔جوہانسبرگ میں2 فروری2007 کو پاکستان کے خلاف ہوئے میچ میں جنوبی افریقہ نے ایسا کیا تھا۔ پاکستان نے مقررہ 20 اوور میں آٹھ وکٹ پر 129 رن بنائے تھے جس کے جواب میں جنوبی افریقہ نے کسی نقصان کے بغیر11.3 اوور میں132 رن بنائے تھے۔
جنوبی افریقہ اس سے پہلے دو مرتبہ ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل میں داخل ہوئی تھی مگر دونوں مرتبہ اسے شکست ہوئی تھی۔جنوبی افریقہ نے پہلی مرتبہ ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل میں جگہ ناٹنگھم میں18 جون2009کو ہوئے میچ میں بنائی تھی۔ اس سیمی فائنل میں پاکستان نے اسے سات رن سے شکست دیکر فائنل میں داخلہ حاصل کیا تھا۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پاکستان نے مقررہ20 اوور میں چار وکٹ پر 149 رن بنائے تھے۔ جنوبی افریقہ نے 20 اوور میں پانچ وکٹ پر 142 رن بنائے تھے جسکی وجہ سے اسے شکست ہوئی تھی۔پاکستان نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دیکر ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ پر قبضہ کیا تھا۔
میر پور، ڈھاکہ میں4 اپریل2014کو ہوئے سیمی فائنل میں ہندوستان نے جنوبی افریقہ کو چھ وکٹ سے شکست دیکر اسکے فائنل میں داخل ہونے کے خواب کو چکنا چور کردیا تھا۔ اس سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ20 اوور میں چار وکٹ پر 172 رن بنائے تھے۔ ہندوستان نے19.1 اوور میں چار وکٹ پر 176 رن بناکر فائنل میں داخلہ حاصل کیا تھا جہاں اسے سری لنکا نے شکست دیکر ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی کرکٹ کے عالمی چمپئین ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
جنوبی افریقہ نے اس عالمی کپ میں لگا تار آٹھ میچ جیت کر فائنل میں داخلہ حاصل کیا ہے۔ ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ میں لگا تار آٹھ میچ جیتنے والی وہ دوسری ٹیم ہے۔ اس سے پہلے ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ میں لگارتارآٹھ میچ آسڑیلیا نے جیتے تھے۔ اس نے دو عالمی کپوں میں ایسا کیا ہے۔ اس نے 2022 میں ہوئے ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ میں تین میچ جیتے تھے جبکہ موجودہ عالمی کپ میں وہ پہلے پانچ میچوں میں جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
جنوبی افریقہ پہلی مرتبہ ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی کرکٹ میں لگاتار آٹھ میچ جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس سے پہلے وہ دو مرتبہ لگا تارسات سات میچ جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔2009 میں اس نے ایسا پہلی مرتبہ کیا تھا جبکہ2021 میں اس نے دوسری مرتبہ لگاتار سات ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچوں میں کامیابی اپنے نام کی تھی۔












