بلال مولوی
سرینگر ،12؍جون،سماج نیوز سروس:یکم جولائی سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کیلئے حفاظت کے سخت انتظامات کئے جارہے ہیں جبکہ یاترا روٹوں پر تعینات کرنے کیلئے اضافی نفری تعینات کی جارہی ہے اور جلد ہی کئی کمپنیاں فورسز وارد کشمیر ہوں گے ۔تفصیلات کے مطابق امرناتھ یاتریوں کے لیے مرکزی بیس کیمپ کے اندر اور اس کے آس پاس تقریباً 29 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ سرکار ذرائع نے بتایا کہ جموں میں یاتری نواس بھگوتی نگر ملک بھر سے آنے والے یاتریوں کے لیے مرکزی بیس کیمپ کے طور پر کام کرتا ہے اس سے پہلے کہ وہ کشمیر کے لیے 3,880 میٹر بلند امرناتھ گھپا درشن کے لیے روانہ ہوں۔یاترا یکم جولائی کو سے شروع ہونے والی ہے۔جس کیلئے حفاظت کے خصوصی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ حکام کے مطابق یاتری نواس میں دو بڑے 360 ڈگری کیمروں کے ساتھ علاقے اور اس کے آس پاس تقریباً 29 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوں گے۔یہ کیمرے الیکٹرانک آنکھ کے ذریعے پورے علاقے کی چوبیس گھنٹے نگرانی کریں گے، انہوں نے کہا کہ اس جگہ پر چار باڈی سکینر بھی تعینات کیے جائیں گے۔جموں کے بھگوتی نگر علاقے میں واقع یاتری نواس میں پہلی بار ایئر کنڈیشنڈ کمیونٹی کچن ہال کے علاوہ بیس کیمپ کی تمام عمارتوں اور سیٹ اپ میں کلوز سرکٹڈ فائر ہائیڈرنٹ سسٹم بھی ہوگا۔مرمت، تزئین و آرائش اور فیس لفٹنگ کا کام بھی یہاں تیز رفتاری سے جاری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بیس کیمپ 20 جون سے پہلے تیار ہو جائے۔ یاتری نواس کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام آسانی سے جاری ہے۔ فیس لفٹنگ تیز رفتاری سے جاری ہے۔اس ضمن میں ایک آفیسر نے بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ یاتری نواس 20 جون تک تیار ہو جائے گاانہوں نے کہا کہ اس بار کلوز سرکیٹ فائر ہائیڈرنٹس اور ایئر کنڈیشن ایٹنگ ہالز کے متعارف ہونے سے سہولیات کو مزید بہتر کیا گیا ہے۔ہم نے دو کھانے کے ہالوں کو مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ بنانے کے لیے چھ اے سی نصب کیے ہیں تاکہ حجاج کو بہتر سہولیات مل سکیں۔ ہم نے کلوز سرکٹڈ فائر ہائیڈرنٹ سسٹم بھی نصب کیا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔یکم جولائی کو یاترا کے آغاز سے ایک دن قبل یاتریوں کی پہلی کھیپ کے جموں بیس کیمپ سے روانہ ہونے کی امید ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ یاترا کے احسن انعقاد کیلئے بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں جہاں ڈرون کیمروں سے یاتریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا وہیں امرناتھ کے دونوں روٹوں پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور اس کیلئے کئی کمپنیاں فورسز کی جلد ہی وارد کشمیر ہوںگی ۔












