• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 29, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

بہار کی سیاست کا بیانیہ

پروفیسر مشتاق احمد

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 13, 2024
0 0
A A
بہار کی سیاست کا بیانیہ
Share on FacebookShare on Twitter

حال ہی میں نتیش کمار نے عظیم اتحاد سے الگ ہو کر قومی جمہوری اتحاد کے ساتھ حکومت سازی کے بعد بہار قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل کریہ ثابت کردیا کہ بہار کی سیاست کے محور ومرکز وہ اب بھی ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی اتحاد میں ان کی وہ پہلے جیسی طوطی نہیں بول رہی ہے ۔یہ جگ ظاہر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں وہ اپنی شرطوں پر نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شرطوں پر گئے ہیں اور اس کا خلاصہ خود نتیش کمار نے گذشتہ دن گیا کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی میٹنگ میں کیا ہے ۔ واضح ہو کہ اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اب وہ ان کا ساتھ چھوڑ کر کبھی نہیں جائیں گے۔اس پر حزب اختلاف کی طرف سے طرح طرح کے بیانات آنے لگے ہیں ۔یہ حسن اتفاق ہے کہ حالیہ ہفتہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کا دوبار بہار دورہ ہوا ہے اور انہوں نے سینکڑوں مرکزی اسکیموں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھے ہیں۔دراصل پارلیامانی انتخاب کا اعلان کسی بھی دن ہو سکتا ہے اس لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کا آغاز کردیاہے اور عظیم اتحاد بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے کہ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو کی جن وشواس یاترا کے بعد 3؍ مارچ2024کو گاندھی میدان پٹنہ میں پارٹی کارکنوں کی جو مہا ریلی بلائی گئی تھی اور اس میں بہار کے عظیم اتحاد کے ساتھ ساتھ قومی سطح کی نئی سیاسی صف بندی ’’انڈیا‘‘ کے لیڈران کی شرکت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ آئندہ پارلیامانی انتخاب میں آر پار کی لڑائی لڑنے کو تیار ہیں۔پٹنہ کی جن وشواش ریلی میں لالو پرساد یادو نے جس طرح نتیش کمار اور نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے اور راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے قومی صدر کھڑگے جی ، بایاں محاذ کے سیتا رام یچوری ، ڈی راجا اور سماجوادی پارٹی کے سپریمو اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یاد و نے جس طرح مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ نتیش کمار کی حکومت پر حملہ کیا ہے اس سے بہار کی سیاست کا بیانیہ بالکل تبدیل ہوگیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک عرصے کے بعد گاندھی میدان میں غیر بھاجپائی جماعتوں کا اتنا بڑا عوامی جلسہ ہوا ہے اور جس میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی ہے اور نتیش کمار کی سیاست کو بہار کے لئے مضر قرار دیا گیاہے اس سے پوری ریاست میں سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہوگئی ہیں ۔اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل متحدہ نے اس ریلی کی کامیابی کا دعویٰ کرنے والوں پر سوال اٹھایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ بھیڑ ووٹوں میں تبدیل ہونے والی نہیں ہے ۔کل کیا ہوگا یہ کہنا مشکل ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تیجسوی یادو کی جن وشواش ریلی سے عظیم اتحاد کے تئیں ایک ماحول سازگار ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔اس سے پہلے جن سوراج سیاسی جماعت کے بانی پرشانت کشور گذشتہ ایک سال سے ریاست گیر پیدل مارچ کر رہے ہیں اور ایک طرح سے ان کا پیدل مارچ سیاسی ذہن سازی کا ہی حصہ ہے کہ پرشانت کشور عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بہار کی سیاست میں کس طرح عوام کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے دیگر جذباتی اور اشتعال انگیز سیاست کرکے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔واضح ہو کہ پرشانت کشور الگ الگ سیاسی جماعتوں کے سیاسی مشیر رہے ہیں ۔ بہار میں وہ نتیش کمار کے لئے بھی کام کرتے رہے ہیں اور گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بھی کام کیا ہے ۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے انتخابی مشیر کے طورپر انہوں نے اپنی شناخت بنائی ہے لیکن اس وقت وہ خود ایک نئی سیاسی جماعت بنا کر اپنی نئی شناخت قائم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ان کی یہ مہم کس قدر کامیاب ہوگی یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن انہوں نے بھی بہار کی سیاست کو ایک نیا بیانیہ ضرور فراہم کردیا ہے۔
مختصر یہ کہ عظیم اتحاد کی پٹنہ ریلی نے قومی سیاسی صف بندی ’’انڈیا‘‘ کو بھی تقویت پہنچائی ہے اور روزگار کے نام پر ایک نئی سیاسی فضا بننے لگی ہے۔راشٹریہ جنتا دل اور تیجسوی یادو کا موقف ہے کہ گذشتہ سترہ مہینوں میں عظیم اتحاد کی حکومت نے چھ لاکھ سے زائد روزگار دینے کا کام کیا ہے ۔خود لالو پرساد یادو نے بھی اپنے پرانے انداز میں نتیش کمار کو نشانہ بنایا کہ وہ وزیر اعلیٰ تو پندرہ سالوں سے ہیں لیکن تیجسوی کے ساتھ مل کر ہی بہار کے لوگوں کی فلاح کے لئے کئی بڑے کام نتیش کمار نے کیا اور اب جب وہ عظیم اتحاد سے الگ ہوگئے ہیں تو پھر جس برق رفتاری سے روزگار دینے کا کام چل رہا تھا اس پر ایک طرح سے بریک لگ گئی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیش کمار جن کے ہاتھ میں کل بھی قیادت تھی اور آ ج بھی ہے ، وہ تیجسوی یادو اور دیگر حزب اختلاف کے لیڈروں کے اس چیلنج کو کس طرح قبول کرتے ہیں اور اپنے کاموں کے ذریعہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ کل جتنے کام ہوئے وہ ان کی وجہ سے ہی ہوئے اور آج جو کچھ ہو رہاہے اس کے قائد بھی وہ خود ہیں۔اگرچہ ان کی پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈروں نے تیجسوی یادو کے اس دعوے کو کھوکھلا کہہ کر نتیش کمار کی حمایت کی ہے ۔پٹنہ کی ریلی میں جس طرح کانگریس کے قومی صدر مسٹر کھڑگے اور راہل گاندھی نے کانگریس کے سیاسی خطوط کی وضاحت کی اور ملک کے بیروزگاروں کے مسائل کو ترجیحات دینے کی وکالت کی اور ساتھ ہی ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کی جدو جہد پر زور دیا اس سے بھی بہار کے کانگریس کارکنوں کے اندر ہی نہیں بلکہ ’’انڈیا‘‘ اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے کارکن ایک نئے جوش وخروش کے ساتھ زمینی سطح پر کام کرنے کو تیار ہوئے ہیں اس سے بھی ریاست میں عظیم اتحاد اورقومی سطح پر انڈیا اتحاد کو خاطر خواہ فائدہ ہونے کی امید جگی ہے مگر اس تلخ حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جب تک انڈیا اتحاد کے درمیان پارلیامانی سیٹوں کی تقسیم کے فیصلے پر آخری مہر نہیں لگتی اس وقت تک تذبذب کا ماحول بھی بنا رہے گا جو اس کے لئے مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس لیڈر ووزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا پٹنہ کی ریلی میں انڈیا اتحاد کے دیگر لیڈروں کے ساتھ شامل نہیں ہونا بھی نئی سیاسی صف بندی کی راہ میں ایک بڑا رخنہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بہر کیف ! تیجسوی یادو کی جن وشواس ریلی نے یہ تو ثابت ہی کردیا ہے کہ راشٹریہ جنتا دل کے کارکن ریاست میں حکومت سے باہر ہونے کا انتقامی جذبہ لے کر دیہی علاقوں کی گلیوں سے لے کر ریاست کی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان تک صرف اپنی تنظیمی طاقت کا مظاہرہ ہی نہیں کرسکتے بلکہ وہ بہار کی سیاست کو ایک نیا رخ دینے کے لئے بھی کمربستہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیامانی انتخاب کے اعلان تک عظیم اتحاد کے لیڈران اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کو مزید متحد کرنے اور علاقائی سطح پر نئی سیاسی فضا تیار کرنے میں کس طرح کامیاب ہو تے ہیںکیو ںکہ فیصلہ تو بہر حال بوتھوں تک پہنچنے والے کارکنوں کے ووٹوں سے ہی ہونا ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    مارچ 29, 2026
    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح  کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    مارچ 29, 2026
    وزیر خارجہ جے شنکر کی فرانسیسی  صدر میکرون سے ملاقات

    وزیر خارجہ جے شنکر کی فرانسیسی صدر میکرون سے ملاقات

    مارچ 29, 2026
    ابھیشیک بنرجی کا انتخابی عمل کےتعلق سے انتظامیہ کی  سطح پرتبدیلیوں کے بعد بنگال میں خوف و ہراس اور خلل کا الزام

    ابھیشیک بنرجی کا انتخابی عمل کےتعلق سے انتظامیہ کی سطح پرتبدیلیوں کے بعد بنگال میں خوف و ہراس اور خلل کا الزام

    مارچ 29, 2026
    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    بات چیت صرف وزیراعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی

    مارچ 29, 2026
    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح  کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    نایب سنگھ سینی نے امبالہ میں مندر شیڈ کا افتتاح کیا، عقیدت مندوں کو سہولیات میسر ہوں گی

    مارچ 29, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist