عالمی ریٹنگ ایجنسی "اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز” (S & P) نے منگل کے روز اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگA+ سے کم کر کے Aکر دی ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد حزب اللہ کے ساتھ تنازع میں تازہ ترین پیش رفت کی روشنی میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات کو قرار دیا گیا ہے۔ایجنسی نے اسرائیلی معیشت کے لیے فیوچر آؤٹ لک کو تبدیل کر کے منفی کر دیا ہے۔ ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ چھڑنے کا خطرہ ظاہر ہو رہا ہے۔ایران نے گذشتہ روز منگل کو اسرائیل پر 200 بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔ یہ کارروائی حزب اللہ اور حماس کے سربراہان کے قتل کے انتقام کے طور پر کی گئی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران نے اس کی اراضی کی سمت 180 کے قریب میزائل داغے جن میں زیادہ تر کو فضا میں ہی روک دیا گیا۔ایس اینڈ پی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ میں کمی اسرائیل کی معیشت اور اس کی مالیات عامہ پر اثرات کی عکاس ہے، یہ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ تنازع کی ابتری کا نتیجہ ہے۔ایجنسی کے مطابق "ہمیں اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ غزہ میں فوجی سرگرمی اور اسرائیل کی شمالی سرحد کے پار لڑائی کی شدت میں اضافہ 2025 میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ہم توقع کر رہے ہیں کہ دفاعی اخراجات میں اضافے کے ساتھ مختصر اور درمیانی مدت میں اسرائیل کا مالی خسارہ زیادہ بڑے پیمانے پر بڑھے گا”۔












