نہ تو ظالم کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ظلم کا کوئی رنگ۔لیکن اب یہ باتیں کتابی حد تک رہ گئی ہیں۔اب ظالم کا مذہب بھی ہوتا ہے ،رنگ بھی اور اسے کپڑوں سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
کسی معاشرے کو مہذب بنانے کے تصور کے ساتھ ہی عدالت کی ضرورت بھی محسوس ہوئی ہوگی ،کیونکہ انسان اپنے آپ میں درندگی کے تمام صفات کا خازن ہے اور اگر اسے بغیر کسی پابندی و قدغن کے آزاد چھوڑ دیا جائے تو نہ جانے انسانی معاشرے کو کتنی قیامتوں سے گذرنا پڑے ۔اس کے کئی نمونے دنیا کی تاریخ میں موجود بھی ہیں ۔جس میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔کسی شخص کا کسی خاص حالات میں مجرمانہ عمل پر آمادہ ہو جانا ایک بات ہے لیکن جب وہی مجرمانہ عمل حکومت کی ایما پر ہونے لگے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے یا ملک کا مستقبل محفوظ نہیں اور تباہی اس کا مقدر ہے۔ایک خاص رنگ کی سیاست نے جب ایک مخصوص کمیونٹی کو ملک کے تمام سیاہ و سفید سے نکال باہر کرنے کی سازش کی تو وہ یہ بھول گئے کہ جن شر پسندوں کو وہ بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں ان کے منہ کو ظلم کا خون لگنے کی دیر ہے پھر اس کے بعد وہ اس کے ایسے عادی ہو جائینگے کہ وہ اپنے ظلم کے دائرے کو بڑھاتے چلے جائینگے اور اس کی گرفت میں جو بھی آئے گا وہ جان سے جائے گا ۔اتر پردیش میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا دائرہ پھیلنا شروع ہو چکا ہے ،اب وہاں عدالت کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔کیونکہ زیادہ تر فیصلے آن اسپاٹ ہو رہے ہیں ۔بلڈوزر بابا کے نام سے مشہور ہونے والا منتخب وزیر اعلیٰ جب اپنے اس لقب پر فخر کرے تب پھر کہنے کو کچھ رہ نہیں جاتا ہے ۔
دہلی کی تہاڑ جیل میں گینگسٹر تلو تاجپوریا کے قتل کے بعد اتر پردیش کے لکھنؤ کورٹ کے احاطے میں گینگسٹر کے قتل کی وجہ سے سیاسی گلیاروں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اس کی بازگشت لکھنؤ سے دہلی تک سنائی دے رہی ہے۔ لکھنؤ میں جیوا قتل کیس کے بعد پیدا ہونے والی خوف کی کیفیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ راجیہ سبھا کے رکن اور ملک کے سب سے قدآور وکیل کپل سبل نے ایک ٹوئٹ میں مرکزی حکومت کی نیت پر براہ راست سوال اٹھائے ہیں۔معروف وکیل سبل نے جمعرات کی صبح ایک ٹوئٹ میں مرکز سے پوچھا ہے کہ کیا اس طرح کی ہلاکتیں حکومت کو پریشان نہیں کرتی ہیں؟ کپل سبل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ سال 2017 سے 2022 کے دوران یوپی میں پولیس حراست میں 41 لوگ مارے گئے۔واضح رہے ایک دن پہلے، گینگسٹرجیوا کو لکھنؤ کورٹ کے احاطے میں نامعلوم حملہ آوروں نے پولیس حراست میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ عتیق اور اشرف کو بھی یوپی پولیس کی حراست میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حال ہی میں تلو تاجپوریا کو دہلی کی تہاڑ جیل میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس حراست میں لوگوں کی سلسلہ وار ہلاکتیں تشویشناک ہیں۔ کیا مرکز بھی اس سے پریشان ہے؟
بی جے پی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے بارے میں کہتی ہے کہ اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی ہے۔ اس کے باوجود 7 مئی کو لکھنؤ کورٹ احاطے میں بدنام زمانہ گینگسٹر سنجیو مہیشوری عرف جیوا کے قتل نے سیاسی حلقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ جیوا کو وکیلوں کے لباس میں ملبوس حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واضح رہے ایک ملزم کو زخمی حالت میں پولیس نے پکڑ لیا۔ لکھنؤ میں عدالت کے احاطے میں اس فائرنگ کے بعد وکلاء نے زبردست احتجاج کیا۔ وکلاء نے عدالت کی سیکورٹی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ لکھنؤ کورٹ کے احاطے میں مارے گئے گینگسٹر جیوا پر یوپی کے دو ایم ایل اے کے قتل کا الزام ہے۔ دونوں بی جے پی کے ایم ایل اے تھے۔
ایسے میں ان کا قتل ہو جانا تو واجب ہی تھا۔زیادہ سے زیادہ طریقہ قتل پر بات کی جا سکتی ہے جو کپل سبل جی بھی اعتراض کر رہےہیں ۔عدالت کے اندر جج کے سامنے ،وکیلوں والے ڈریس میں جب مجرم گولیاں چلاتا ہےتو اندازہ ہوتا ہے کہ سسٹم کتنا کمزور ہے ،لیکن اس سسٹم کی کمزوری کا احساس کپل سبل کو اس وقت بھی ہونا چاہئے جب بقلم خود وہ لکھ رہے ہیں کہ اس کے پہلے ایسے چالیس قتل اور ہو چکے ہیں ،اور ان سب کا قتل پولیس کی حراست میں ہوا ہے ۔اور صرف کپل سبل کو کیوں عدالت میں موجود ان لاکھوں وکیلوں اور ہزاروں ججوں کو بھی ہونا چاہئے کہ سرکاری دہشت گردی کا یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا ۔
(شعیب رضا فاطمی )












